ایک غزل، تنقید، تبصرہ اور رہنُمائی کے لیے،'' ترے جمال سے بڑھ کر جمال کیا ہو گا''

ترے جمال سے بڑھ کر جمال کیا ہو گا​
ترا جواب نہیں ہے، سوال کیا ہو گا​
​
​
قرار چھین گیا ہے ترا تصور ہی​
حضور حسن میں جانے یہ حال کی ہو گا​
​
​
ترے خیال کا ہجراں میں لطف اتنا ہے​
میں سوچتا ہوں کہ آخر وصال کیا ہو گا​
​
​
کمال اُس کا بنایا ہے تُجھ کو فرصت سے​
غرور جس پہ اُسے ہو، کمال کیا ہو گا​
​
​
وہ آ گئے ہیں عیادت کو اور کیا مانگوں​
مریض اس سے زیادہ نہال کیا ہو گا​
​
​
شریک میری وہ خوشیوں میں جب نہیں ہوتے​
مجھے ہے رنج، تو اُن کو ملال کیا ہو گا​
​
​
سرور قرب سے بڑھتا ہے اور بڑھ جائے​
ذرا بھی خود کو نہ اظہر سنبھال، کیا ہو گا​
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top