ایک طرح میں طبع آزمائی

یہ لڑی میرے جیسے نو آموز شعرا کے لیے ہے. یہاں ہم طرح تجویز کریں گے اور اس پر طبع آزمائی کریں گے. میں نے ایک شعر آج کہا ہے وہ ہی پہلی تجویز کردہ طرح ہوگی.

ہے شعلہ از نفس افشاں جو آتش دانِ جوہر کا
بدل ڈالا ہے رنگ اس نے رخِ بالِ سمندر کا


عباد اللہ
مزمل حسین
Mdfaiqusayyed
La Alma
 

عباد اللہ

محفلین
یہ لڑی میرے جیسے نو آموز شعرا کے لیے ہے. یہاں ہم طرح تجویز کریں گے اور اس پر طبع آزمائی کریں گے. میں نے ایک شعر آج کہا ہے وہ ہی پہلی تجویز کردہ طرح ہوگی.

ہے شعلہ از نفس افشاں جو آتش دانِ جوہر کا
بدل ڈالا ہے رنگ اس نے رخِ بالِ سمندر کا


عباد اللہ
مزمل حسین
Mdfaiqusayyed
La Alma
واااااااااااہ وااااہ بہت خوب
 

La Alma

لائبریرین

دروں سےچھیڑ خانی میں، تخیل سے نقاب اترا
عیاں پھر عالمِ امکاں، ہوا ہے آج اندر کا


 
مزید تین اشعار

ازل سے ہے چلی آتی محبت کفر و ایماں کی
مکیں تبرِ براہیمی ہے بت خانہء آذر کا

ہے سم آبِ بقا کہتا ہے یہ سقراطِ یونانی
کہ ناوک غوطہ زن در زہر تھا ، لشکر سکندر کا

بہ ہر یک جنبشِ خامہ مضامیں از عدم آمد
قلم میرا یہ ہم آواز ہے عنقا کے شہپر کا
 
آخری تدوین:

La Alma

لائبریرین
بہت عمدہ۔
تفہیم کی غرض سے چند معروضات پیش کر رہی ہوں تاکہ لڑی کا اصل مقصد پورا ہو سکے ۔

"ازل سے ہے چلی آتی محبت کفر و ایماں کی
مکیں تبرِ براہیمی ہے بت خانہء آذر کا "

تبر سے آپ کی مراد کیا نسل یا اولاد ہے ؟ اگر ہے توپھر مصرع صحیح ابلاغ نہیں کر رہا ۔

"ہے سم آبِ بقا کہتا ہے یہ سقراطِ یونانی
کہ ناوک غوطہ زن در زہر تھا لشکر سکندر کا "

میرے خیال سے لشکر کے نیچے اضافت ہونی چاہیے یا پھر ناوک یہاں اضافی ہے

"بہ ہر یک جنبشِ خامہ مضامیں از عدم آمد
قلم میرا یہ ہم آواز ہے عنقا کے شہپر کا"
بہت خوب ۔
زبردست ۔
 
بہت عمدہ۔
تفہیم کی غرض سے چند معروضات پیش کر رہی ہوں تاکہ لڑی کا اصل مقصد پورا ہو سکے ۔

"ازل سے ہے چلی آتی محبت کفر و ایماں کی
مکیں تبرِ براہیمی ہے بت خانہء آذر کا "

تبر سے آپ کی مراد کیا نسل یا اولاد ہے ؟ اگر ہے توپھر مصرع صحیح ابلاغ نہیں کر رہا ۔

"ہے سم آبِ بقا کہتا ہے یہ سقراطِ یونانی
کہ ناوک غوطہ زن در زہر تھا لشکر سکندر کا "

میرے خیال سے لشکر کے نیچے اضافت ہونی چاہیے یا پھر ناوک یہاں اضافی ہے

"بہ ہر یک جنبشِ خامہ مضامیں از عدم آمد
قلم میرا یہ ہم آواز ہے عنقا کے شہپر کا"
بہت خوب ۔
زبردست ۔

تبر کلہاڑے کو کہتے ہیں جو ابراہیم علیہ السلام وہیں چھوڑ آئے تھے۔
مسئلہ یہ ہے کہ اس میں ت اور ب دونوں متحرک ہیں۔ مگر میرے خیال میں وزن تب بھی درست ہے۔

دوسرے شعر میں سکندر کے لشکر کو ایسا تیر قرار دیا گیا ہے جو کہ زہر میں ڈوبا ہوا ہے یعنی کہ سقراط نے جو زہر پیا اسی کی بدولت اس کے بعد ایسا لشکر پیدا ہوا جس نے دنیا پر قبضہ کر لیا۔ یونان ، سقراط، زہر، آب بقا ، سکندر ، ناوک اور لشکر کی مناسبتیں واضح ہیں۔
 
آخری تدوین:

La Alma

لائبریرین
تبر کلہاڑے کو کہتے ہیں جو ابراہیم علیہ السلام وہیں چھوڑ آئے تھے۔
مسئلہ یہ ہے کہ اس میں ت اور ب دونوں متحرک ہیں۔ مگر میرے خیال میں وزن تب بھی درست ہے۔

دوسرے شعر میں سکندر کے لشکر کو ایسا تیر قرار دیا گیا ہے جو کہ زہر میں ڈوبا ہوا ہے یعنی کہ سقراط نے جو زہر پیا اسی کی بدولت اس کے بعد ایسا لشکر پیدا ہوا جس نے دنیا پر قبضہ کر لیا۔ یونان ، سقراط، آب بقا ، سکندر ، ناوک اور لشکر کی مناسبتیں واضح ہیں۔

وضاحت کا شکریہ ۔
"ازل سے ہے چلی آتی محبت کفر و ایماں کی
مکیں تبرِ براہیمی ہے بت خانہء آذر کا "

درست ۔اچھا شعر ہے ۔


کہ ناوک غوطہ زن در زہر تھا لشکر سکندر کا "
شاید تعقیدِ لفظی کی وجہ سے مصرع میں وہ ربط نہیں بن پایا ۔ یوں لگتا ہے " کہ ناوک غوطہ زن در زہر تھا " پر بات مکمل ہو گئی اور " لشکر سکندر کا " کچھ ابہام پیدا کر رہا ہے ۔
اگر ممکن ہے تو الفاظ کی نشست و برخاست ایک بار پھر دیکھ لیں۔
 

مزمل حسین

محفلین
بہ ہر یک جنبشِ خامہ مضامیں از عدم آمد
قلم میرا یہ ہم آواز ہے عنقا کے شہپر کا
کیا کہنے!
دوسرے مصرعے میں سے ''یہ'' کو نکال دیں۔
مکیں تبرِ براہیمی ہے بت خانہء آذر کا
یہ وزن میں ہے؟
 
کیا کہنے!
دوسرے مصرعے میں سے ''یہ'' کو نکال دیں۔

یہ وزن میں ہے؟
جی میرے خیال سے تو وزن میں ہے مفاعیلن کی ی متحرک ہونے سے کوئی خاص فرق روانی پر بھی نہیں پڑتا۔
یہ واقعی بھرتی کا تھا اس کے لیے

قلم گویا ہے میرا ہمنوا عنقا کے شہپر کا
 

عباد اللہ

محفلین
وہ ریحان بھائی کسی ہندوسچانی شاعرہ کا مصرع ہے
لائے ہیں اس غزل کی زمیں آسماں سے ہم
تو اس میں ایسے ہی شعر ہوں گے:)
ہم کل پرچہ دے لیں پھر زمین والوں کی سمجھ سے ماورا کچھ شہرہء آفاق شعر کہیں گے اس زمین میں
آپ کے پرچے ختم ہو گئے؟
 
وہ ریحان بھائی کسی ہندوسچانی شاعرہ کا مصرع ہے
لائے ہیں اس ضزل کی زمیں آسماں سے ہم
تو اس میں ایسے ہی شعر ہوں گے:)
ہم کل پرچہ دے لیں پھر زمین والوں کی سمجھ سے ماورا کچھ شہرہء آفاق شعر کہیں گے اس زمین میں
آپ کے پرچے ختم ہو گئے؟
دو رہ گئے ہیں۔ کیمیسٹری کا پرچہ ہے اگلا اس لیے exothermic اشعار آ رہے ہیں۔
 
Top