ایک اور جسارت !

جیا راؤ

محفلین
یہ بات ہوئ نا جیا۔ مکمل وزن میں ہے یہ غزل۔ بقول غالباً شارق مستقیم، کہیں اس کے ’اوزان خطا‘ نہیں ہوئے ہیں۔
بس پہلئ مصرعے میں ’کسی اپنے پہ‘ کھٹک رہا ہے۔

شکریہ جناب اس ہمت افزائی کا۔ :)
اب آپ ہی تصحیح فرمائیے۔
 

جیا راؤ

محفلین
جیا رائو ۔۔ صاحبہ
آداب و سلامِ مسنون

بزم میں آپ کی غزل نظر نواز ہوئی پڑھ کر دل باغ باغ ہوگیا۔۔کہ ابھی غزل لکھنے والے موجودہیں
گزشتہ کئی مہینوں سے شہرکراچی کے ادبی فورمز اور نشتوں میں ایک غلغلہ برپا ہے کہ ادب روبہ
زوال ہے، اس موضوع پر بہت تفصیلی گفتگو ہوئی اس کا پہلا سبب قاری کا اد ب سے دور ہونا
قرار پایا۔دوسرا سبب قلمکاروں کا اپنے قلم کی حرمت کا خیال نہ رکھنا اور غیر صحت مند کام اور
نئے کہنے والوں کی کمی گردانا گیا۔
۔۔۔ مجھ ایسوں کی رائے تو خیر ۔۔۔۔ نقار خانے میں طوطی کی آواز کے مصداق ہے۔۔ مگر جب
ہم آپ جیسے لکھنے والوں کو دیکھتے ہیں۔۔ دل سرشاری سے رقصاں رہتا ہے، کہ ابھی نسل ِ نو کو
سنا ہی نہیں گیا ،، پڑھا ہی نہیں گیا تو ۔۔ کیسے ادب کے روبہ زوال ہونے کی بات کی جارہی ہے۔
یہ محض جنبدارانہ رائے کے سوا کچھ بھی نہیں۔۔ آپ کی پیش کردہ غزل پڑھ کر بے اختیار معبدِجاں
سے واہ۔ سبحان اللہ کی بازگشت سننے کو میسر آئی ۔ ماشا اللہ کیا پختہ انداز ہے۔۔ خوب مشق اور
خوب مطالعے کی دلیل ہے۔۔۔مطلع تا آخر سبھی اشعار بہت خوب ہیں۔
خاص طور پر یہ شعر :
کسی گمنام ہستی کا کسی مایوس چوکھٹ پر
امیدوں کے دیئے چپکے سے دھر جانا محبت ہے

مجھ ناچیز کی جانب سے ڈھیروں داد اور نیک خواہشات آپ کی خدمت میں۔۔ گر قبول افتد ۔۔زہے
عزوشرف۔۔ امید ہے آپ یہ سلسلہ یونہی جاری رکھیں گی اور گاہے بگاہے آپ کا دیگر کلام بھی مجھ
ایسے طفلِ مکتب کو پڑھنے کو ملے گا۔ ایک بات کی وضاحت کرتا چلوں کہ دو ایک صاحبان نے آپ
غزل کے پوسٹ مارٹم کا ذکر کیا ہے ان کی خدت میں عرض ہے کہ پوسٹ مارٹم کا معاملہ بعد از مرگ
کے ہے۔ یہ غزل تو خود اپنی ذات میں زندگی کا جیتا جاگتا شاہکار ہے۔ الف عین صاحب کی بات کسی
اپنے پہ/// کی وضاحت کرتا چلوں کہ ۔۔ یہ صحیح ہے۔۔ اس میں کھٹکنے والی کوئی بات مجھے نظر نہیں آئی۔

بہر کیف۔۔۔کسی معاملے پر سیر حاصل گفتگو ہرکس وناقص کو سزاوار نہیں۔۔۔ مجھے اپنے کوتاہ علم ہونےکا
بخوبی ادراک ہے۔اب جب کہ میری مادری زبان اردو نہیں ۔ لہذا ضبط ِ تحریر میں لاتے ہوئے کوئی
بھی لفظ آپ کو ناگوار گرزنے کا موجب بھی بن سکتاہے۔ اس ضمن میں کوئی بھی غلطی سرزد ہونے پر
دست بستہ معافی کا خواستگار ہوں۔


شہرِ خرابات۔۔۔۔۔ کراچی سے
نیاز مند
م،م،مغل

وعلیکم اسلام

ا!! :eek:
اس قدر حوصلہ افزائی و پزیرائی کا بہت بہت شکریہ م۔م مغل صاحب۔
سمجھ نہیں آ رہا اب ہم کیا کہیں۔
سو چپ سادھ لینا ہی بہتر ہے۔:)
آپ کے الفاظ کا ایک بار پھر شکریہ۔
 

جیا راؤ

محفلین
حضور نئے لکھنے والوں کی کیا کہتے ہیں ہم نے ایک پرانی کاوش پیش کی تھی یہیں پر۔۔۔۔ بس پھر کیا تھا وہ اٹھا پٹخ ہوئی کہ ہم نے دیوان در بغل کیا اور زیر زمین ہونے میں عافیت جانی ورنہ احباب تو زیر گور کرنے کے درپے تھے۔ کسی کو وزن بتائیں گے تو پتہ چلے گا اب ہر کوئی منہ میں ترازو لیے تھوڑا ہی پیدا ہوتا ہے؟ (الا یہ کہ آباواجداد آڑھت سے وابستہ ہوں)
اب غزل کو سو سال سے اوپر تو ہوگئے ہوں گے۔ ہر مضمون ہر کیفیت تو وارد ہو چکی اشعار میں محبوب کے پھوپھا حضور سے رقیب کی رو سیاہی تک۔ اب عہد بدل چکا ہے ادب بھی بدلے گا۔ کوئی بدلی ہوئی بات کر دے بدلہ بھی خوب لیا جاتا ہے۔ ان حالات میں مسئلہ قدامت پسندی اور جدت پسندی کا ہے۔

اور اگر اردو مادری زبان سند فضیلت و برتری ہے تو اول اقبال و فیض کو لات مار باہر کیجے کہا اردو ادب کو خوب آلودہ کیا۔

ہم تو خیر طفل مکتب بھی نہیں مکتب کے باہر کھڑے ہیں امید ہے خرافات کا برا نہیں مانیں گے۔

شہر مفادات اسلام آباد سے۔۔۔۔

محسن حجازی

اس خوبصورت مراسلہ کا شکریہ حجازی صاحب۔ :grin:
 

محسن حجازی

محفلین
خاتون ہم نے تو رونا رویا تھا آپ نے خوبصورت مراسلے کا نام دے ڈالا جنوں کا نام خرد پڑ گیا خر د کا نام۔۔۔ الخ

اب تو ہم اس محفل پر رو بھی رہے ہوں تو احباب سمجھتے ہیں کہ خندہ زن ہیں :grin:
 

محسن حجازی

محفلین
محترمی و مکرمی جناب م م -مغل صاحب!
بعد از سلام و دیگر امور و رسومات مروجہ و غیر مروجہ و شرعیہ و غیر شرعیہ، آپ کیوں ہمیں کانٹوں پہ گھسیٹتے ہیں کہ مدرسہ حجازیہ کا افتتاح فرما دیا؟ حضور ہم تو طفل مکتب بھی نہیں اور یہ باتیں کسر نفسی ہرگز نہیں۔ ہم تو وہ ہیں جو مکتب کے باہر طالب علموں کو حسرت سے تکا کرتے ہیں کہ ہم تو مکینک آدی داخل نہ ہو سکے آپ سے کم سے کم مکتب میں تو ہیں۔ دیگر ہم نے جو فیض و اقبال کی بابت جو کچھ عرض کیا اس سے ہماری مراد آپ کے انداز گفتگو کو سراہنا تھا نہ کہ آپ کا اور فیض کا دنگل منعقد کروانا!

شمشاد بھائی کسی کا دل بہلتا ہے تو ہمیں بے حد خوشی ہوتی ہے۔۔۔۔

خاتون اگلی غزل کہاں ہے؟ لکھوانے کو دی نہیں اب تک؟ کیا کہتے ہیں کب تک مل جائے گی؟ ہفتہ پہلے کہلوا دیا کیجئے آج کل سہروں کا بہت رش ہے۔
 

جیا راؤ

محفلین
خاتون اگلی غزل کہاں ہے؟ لکھوانے کو دی نہیں اب تک؟ کیا کہتے ہیں کب تک مل جائے گی؟ ہفتہ پہلے کہلوا دیا کیجئے آج کل سہروں کا بہت رش ہے۔


یعنی آپ کا ٹھیک وہی مظلب ہے جو ہمیں سمجھ میں آیا ہے ؟؟:eek::eek:
آپ کا مظلب ہے کہ میں یعنی جویریہ رفیق راؤ کسی سے غزلیں لکھواتی ہوں ؟؟؟
یعنی یہ ہمارے الفاظ، ہمارے خیالات اور ہمارےاحساسات نہیں بلکہ ادھار کے ہیں ؟؟
یہی کہنا چاہا نا آپ نے ؟؟؟؟؟؟؟
:(
 

حسن علوی

محفلین
ارے جیا بی بی دِل پر مت لیجیئے محسن بھائی نے یہ بات یقینً مزاح کے ضمن میں کہی ھے ورنہ آپ شاعری ہم سب کو پسند آئی ھے۔
 

جیا راؤ

محفلین
ارے جیا بی بی دِل پر مت لیجیئے محسن بھائی نے یہ بات یقینً مزاح کے ضمن میں کہی ھے ورنہ آپ شاعری ہم سب کو پسند آئی ھے۔

آپ کہتے ہیں تو مان لیتے ہیں۔
ویسے محسن صاحب یہ کہہ چکے ہیں کہ ان کی ہر سنجیدہ گفتگو کو یہاں "مزاح" گردانا جاتا ہے۔ :(
 

محسن حجازی

محفلین
خاتون ہم نے تو مشورہ دیا تھا کہ بروقت دیوان تیار ہو جاوے ورنہ ہمیں کیا ضرورت تھی کچھ کہنے کی؟ اور آپ نے اس مسکین (حجازی) کو اس بری طرح ڈانٹ دیا کہ توبہ!

بہرطور، کچھ سنجیدہ پیرائے میں، بات یہ ہے کہ آپ کے اشعار بہت خوب ہیں اور لائق تحسین ہیں۔ اور جو کیفیات کا بیان ہے وو بھی بہت اعلی ہے۔بہت خوب لکھتی ہیں ماشا اللہ! سوچ، جذبے ذہانت ادھاار لی دی نہیں جاسکتی وگرنہ کتنے اقبال بننے کے خواہشمند ہیں اور جانے کتنے اسٹیفن ہاکنگ۔ دیگر یہ کہ میں کافی عرصے سے یہاں پر ہوں اور بہت ہنسی مذاق بھی چلتا رہا ہے تاہم الحمد اللہ آج تک کم سے کم میرے خیال میں خاکسار کسی کی دل آزاری کا سبب نہیں بنا۔ بحث جدال بھی بہت ہوا اختلاف بھی تاہم کبھی دامن اعتدال ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ محفل پر صرف ایک شمشاد بھائی کے بعد آپ ہیں جن کو میں نے براہ راست hit کیا ہے۔ شمشاد بھائی کے خطوط کی تعداد پر کبھی کبھی ایسے ہی کچھ الٹا سیدھا کہہ دیتا ہوں تاہم ان کی شفقت اور بڑائی ہے کہ انہوں نے کبھی بھی برا نہیں مانا بلکہ اسے بجا طور پر ظرافت پر محمول کیا۔ وگر نہ وہ بھی آپ کی طرح آستین چڑھا سکتے ہیں کہ کیا مطلب؟ میں۔۔۔۔ اور۔۔۔۔ خطوط۔۔۔ الخ

جو بات میں نے آپ سے کہی بسلسلہ غزل تو اس میں پہلو یہ ہے کہ گویا غزل نہ ہوئی عید کا جوڑا ہوگیا جو درزی کو سلوانے دینا ہے۔ ورنہ میں بجا طور پر اسے آپ ہی کا کلام سمجھتا ہوں اور انداز بیان سے بے حد متاثر ہوں۔
بہرطور، معذرت، میرا وہ مطلب نہیں جو آپ سمجھی تھیں، بلکہ میں وہ کہہ رہا تھا جو دیگر احباب سمجھے ہیں۔

تو ہم خاتون اسی بات پر زور دیں گے کہ ہفتہ پہلے کہلوا دیا کیجیے وگرنہ عجلت میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی کی مسدس غزل کی دانست آپ کی خدمت اقدس میں ارسال کر دی گئی اور آپ کی غزل کہیں اور زینت دیوان بنی۔ اور پھر کوئی مشاعرہ بھی سر پر ہو تو موصول شدہ مسدس کسی کام کی نہیں کہ غزل کا دور دورہ ہے۔ ہم تو خود لکھواتے ہیں اور اس میں کوئی شرم کی بات تھوڑا ہی ہے؟ بعد از صنعتی دور کے تقاضے ہی کچھ ایسے ہیں! اب اگر باسمتی چاول درکار ہوں تو کیا آنگن پانی سے بھر دیں؟ بازار سے کیوں نہ خرید فرمائیں؟ سبھی کام خود ہی تھوڑا کیے جاتے ہیں! غزل و تحریر و تصنیف کا معاملہ بھی کچھ یوں ہی ہے! بلکہ شمشاد بھائی و دیگران نے یہیں پر ایک صاحب کو پکڑا بھی ہے اور خاصا غلط پکڑا ہے۔ ارے صاحب سمجھیے کہ ہر کام خود نہیں کیا جا سکتا اگر وہ کسی کی تحریر ہے تو کیا ہوا؟ آپ کے باورچی خانے میں موجود شکر بھی تو آپ کی پیدا کردہ نہیں!
 
Top