ایک انار 100بیمار

فاروقی

معطل
30tmp89.gif

نوٹ: سنجیدہ افراد اس تحریر کو پڑھنے سے پہلے طے کرلیں کہ وہ اسے سنجیدہ نہیں لیں گے۔ اس تحریر کا اگر مزہ لینا ہے تو اسے مزاحیہ انداز میں پڑھیے۔

چیف جسٹس کی بحالی پر وکلا کے جشن منانے کا انداز دیکھیے جس میں وکلا اپنی ساتھی کو لڈو کھلانے کیلیے ایک دوسرے پر بازی لے جانے کی کوشش کررہے ہیں۔ایک وکیل تو باقاعدہ التجا کررہا ہے کہ مجھے بھی ایک لڈو دو تاکہ میں بھی لڑکی کو لڈو کھلانے کی سعادت حاصل کرسکوں۔ دو صاحب تو لڈو پکڑے بے صبری سے اپنی باری کا انتظار کررہے ہیں۔ چند بزرگ دور کھڑے پھٹی آنکھوں سے یہ نظارہ دیکھ کر خواہ مخواہ جل رہے ہیں۔ لڑکی بھی اس موقعے سے خوب فائدہ اٹھا رہی ہے ایک طرف اگر وہ لڈر منہ میں ڈلوا رہی ہے تو دوسری طرف ایک ہاتھ سےلڈو پکڑنے کی کوشش کررہی ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ دوسرے ہاتھ میں لڈو پکڑا بھی ہوا ہے۔

یہ تو خدا کا شکر ہے کہ میڈیا نے یہ فوٹو کسی خاص زوایے سے نہیں بنائی ورنہ تصویر چھاپنے والےاخبار پر فحاشی پھیلانے کا الزام لگ جاتا جس طرح پچھلے دنوں ایک انڈین اداکارہ اور پرتگال کے فٹ بالر کے بوسے کا چرچا ہوا ہے حالانکہ وہ بیچارہ اداکارہ کے کان میں سرگوشی کررہا تھا۔

ہمارے ذہن میں اس تصویر کے کئی عنوانات آئے ان میں کچہ مزاحیہ تھے اور کچھ حقیقت کے قریب مگر ہم نے اس دلدل میں پھنسنے کی بجائے فیصلہ قارئین پر چھوڑ دیا ہے۔

لوگ ٹھیک کہتے ہیں اب زمانہ بدل گیا ہے اور جنرل مشرف روشن خیالی اور اعتدال پسندی کا جو ایجنڈا لیکر آئے تھے وہ کم از کم اس تصویر کی گواہی سے تو مکمل ہوگیا ہے۔ اسلیے چیف جسٹس کی بحالی کے بعد اگر وہ چاہیں تواس تصویر سے اپنے آقاؤں کو ثابت کرنے کے بعد کہ ملک میں انتہا پسندی ختم ہوگئی ہے اطمینان سے ریٹائر ہوکر گھر بیٹھ سکتے ہیں۔

اس تصویر کو دیکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ ہم مذہبی انتہا پسند قوم نہیں ہیں اور زمانے کی ہوا کیساتھ چل رہے ہیں۔ اس سے زیادہ ہمارے آقا اب کتنی روشن خیالی چاہتے ہیں۔

اب وہ وقت نہیں رہا جب دیواروں کی سوراخوں سے لڑکیوں کو جھانکا کرتے تھے اور چھوٹے بچوں کے ہاتھ رقعے بھیجا کرتے تھے۔ معشوقہ کی تصویر حاصل کرنے کی جستجو کیا کرتے تھے۔ برقعے میں لڑکیوں کو پہچاننے کی کوشش میں کبھی کبھار ماؤں بہنوں سے پٹ جایا کرتے تھے۔ جب سے کمپیوٹر، ڈش اور موبائل آیا ہے زمانہ تیزی سے بدل رہا ہے۔اب آپ ایس ایم ایس کا جدید ذریعہ اپنا سکتے ہیں۔ ویڈیو بنا کر چلتی پھرتی معشوقہ کو اپنی جیب میں رکھ سکتے ہیں۔ ای میل اور چیٹ کرسکتے ہیں۔ اس تصویر کے بقول درجنوں مرد ایک لڑکی کو گھیر کر سر عام لڈو کھلا سکتے ہیں۔ یعنی روشن خیالی کی فصل پک کر تیار ہوچکی ہے۔
 

فہیم

لائبریرین
آج تو صبح ساڑھے 9 سے جو لائٹ گئی ہے تو جاکر مغرب سے کچھ پہلے ہی آئی ہے:(
پتہ نہیں کون سا فالٹ ہوگیا تھا:mad:
 

فاروقی

معطل
ہاں ہاں وہ لڑکی تو ناقابل بر داشت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دیکھو کیسے منہ پھاڑے مردوں کے بیچ کھڑی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔واقعی ناقابل برداشت ہے:grin:
شابشے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تو بہ کرو بیبی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایسی حرکتوں سے خدا بچائے:blush:
لڑکوں پر جو ایک ہی کے پیچھے پڑے ہیں
ہم تو آپ کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں:hatoff:
کوئی حال نہیں سوچنے کا مقام ہے
بالکل ٹھیک کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔لڑکیوں کو اپنی حرکتوں پہ سوچنا چاہیئے:laugh:
ان میں‌ تو ایک بھی ایسا نہیں جسے لڑکا کہا جاسکے:rolleyes:

سارے مرد ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔:grin:
 

طالوت

محفلین
خوشی میں سب بھول جاتا ہے ۔۔۔
اگر ہم اپنی شادی بیاہ کی تقریبات میں شرکت اور وہاں ہونے والے وقعات پر نظر دوڑائیں تو یقیننا ہمیں ان سب تبصروں کی ہمت نہ ہو گی ۔۔۔
وسلام
 

زینب

محفلین
لڑکیوں‌وک اپنی حرکتوں پر سوچنا چاہیے مردوں کو نہیں جبکہ اس تصویر میں کتنے مرد ایک عورت کو مکھی کی طرح چپکے کھڑے ہیں
 
Top