نویں سالگرہ ایک افسانہ۔۔۔ روزانہ: اعلانوں بھرا شھر: آخری صفحہ

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
ہفتہ لائبریری کا آغاز ایک دلچسپ سلسلے بعنوان " ایک افسانہ ۔۔۔ روزانہ" سے کرتے ہیں۔ یہ سلسلہ محترم محمد احمد بھائی نے تجویز کیا ہے اور اس سلسلے میں انھوں نے سات افسانوں کو منتخب کیا اور ان کے اسکین فراہم کئے۔ یہ اسکین صفحات یہاں پیش کئے جائیں گے اور قطع نظر اس کے کہ آپ لائبریری رکن ہیں یا نہیں آپ تمام اراکین محفل کو دعوت ہے کہ آپ ان صفحات کو ٹائپ کیجئے اور انہیں پروف ریڈ کیجئے۔ اگر آپ اراکین محفل روزانہ کی بنیاد پر ایک مکمل افسانہ تحریر اور پروف ریڈ کر سکے تو اختتام ہفتہ پر سات افسانوں پر مشتمل ایک ای بک لائبریری کا حصہ بن جائے گی۔

تو آئیے پھر آغاز کرتے ہیں اور اس سلسلے میں پہلے افسانے کا عنوان ہے " اعلانوں بھرا شہر"۔ یہ افسانہ کل تین صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کا تیسرا اور آخری صفحہ یہاں شامل کیا گیا ہے۔ اس صفحہ کی ٹائپنگ اور پروف ریڈنگ مکمل کرنا آج کا ہدف ہے۔ آپ اراکین محفل میں سے جو رکن اس صفحہ کو ٹائپ کرنا چاہیں اور آج ہی ٹائپنگ مکمل کر سکیں وہ یہاں اپنے نام نشاندہی کر دیں۔ اسی طرح جو رکن اس صفحہ کی ٹائپنگ کے بعد پروف ریڈنگ کرنا چاہیں وہ بھی اپنا نام یہاں نشاندہی کردیں۔

شکریہ

ٹائپ کیا ہوا متن اورتصحیح کیا ہوا متن اسی دھاگے میں ارسال کرنا ہے۔
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
تیسرا اور آخری صفحہ

n4yt84.jpg
 

اوشو

لائبریرین
ساتھ اولے بھی خوب برسے، زمین سفید ہو گئی، جیسے ابابیلوں نے سارے شہر پر سفید کنکروں کی بوچھاڑ کر دی ہو۔ بجلی کی رو بھی منقطع ہو گئی۔ اس کا چار سالہ بیٹا ڈر کے مارے رونے لگا اور روتے ہوئے ماں کی گود میں گھس کر بیٹھ گیا۔ اچانک چھت کی کڑیاں یک بیک کڑکڑائیں، پھر کچھ مٹی اور چند اینٹیں نیچے آ گریں۔ اس کی بیوی کی بے اختیار چیخیں نکل گئیں۔ وہ خود دن بھر کا تھکا ماندہ ہونے کے بعد گہری نیند میں تھا۔ اس کی بیوی نے ہذیانی آواز میں چلاتے ہوئے شانہ جھنجھوڑ کر اسے جگایا۔ صورت حال سے باخبر ہوتے ہی وہ بدحواس ہو گیا، لیکن پھر فورا بیوی اور بچے سمیت کوارٹر سے نکل آیا۔ بمشکل تمام وہ کوارٹر سے باہر نکلے ہی تھے کہ اس کی چھت دھڑام سے زمیں بوس ہو گئی۔ ساتھ کے کوارٹروں کے مزدور پیشہ مکین بھی گھبرا کر باہر نکل آئے اور ان کا ٹھٹھ لگ گیا۔ اس حادثے سے ابھی وہ پوری طرح سنبھل بھی نہیں پایا تھا کہ اس نے اپنی بیوی کو بے تحاشا آوازیں دیتے ہوئے سنا۔ وہ مٹھو کا نام پکارے جا رہی تھی۔ کیا ہوا اس کے بیٹے کو! یہ سوچ کر وہ تیزی سے لوگوں کو جمگھٹ کو چیرتا ہوا آواز کے تعاقب میں لپکا۔ اس کی بیوی حواس باختہ فٹ پاتھ پر کھڑی مٹھو مٹھو پکارے چلی جا رہی تھی، مگر خود مٹھو کا کہیں نام و نشاں تک نہیں تھا۔ باہر کے طوفان کا زور تو تقریبا ٹوٹ گتیا تھا، مگر اس کی زندگی میں بھونچال آ گیا تھا۔ مٹھو نہ جانے کیسے اپنی اماں کا ہاتھ چھڑا کر گہرے اندھیرے میں کہیں گم ہو گیا تھا۔ وہ شاید کوارٹر کی چھت اچانک دھڑام سے گرنے، لوگوں کے وہاں یکدم اکٹھا ہونے اور افراتفری برپا ہو جانے کے باعث ڈر کر بھاگ گیا تھا۔ آس پاس کی گلیوں میں اسے ڈھونڈنے کے بعد وہ سڑکوں پر اس کی تلاش میں نکل پڑا۔ راہ گیروں کو روک روک کر، انہیں مٹھو کا پورا حلیہ بتا کر اس کے بارے میں پوچھنے کی کوشش کرتا رہا، مگر اس کی ساری کوششیں بے سود ثابت ہوئیں۔ غم اور تھکن کے بوجھ سے وہ نڈھال ہو چکا تھا، لیکن وہ پھر بھی خود کو جیسے تیسے گھسیٹتا ہوا چلا جا رہا تھا۔ مٹھو کی تلاش میں نہ جانے کب تک وہ ننگے پاؤں سڑکوں پر بھٹکتا رہا، اس بات کا اسے کچھ ہوش نہ تھا۔ تب اچانک وہ دونوں ہاتھوں کا لاؤڈ سپیکر بنا کر اعلان کرنے لگا۔ "حضرات! حضرات! ایک لڑکا، ایک مٹھو عمر چار سال، رنگ گندمی، پیارا پیارا چہرہ۔ مٹھو۔ مٹھو۔" اس کی آواز رندھ گئی اور لاؤڈ اسپیکر والے ہاتھ منہ سے ہٹ کر ہوا میں جھولنے لگے، مگر پھر غیر ارادی طور پر یا کسی غیبی قوت کے اشارے پر اس کے پاؤں قریبی ریلوے اسٹیشن کی جانب اٹھنے لگے، وہاں پہنچ کر وہ ریلوے کی کینٹین کے پاس رک گیا۔ چند ساعتوں تک خالی خالی ویران نظروں سے چاروں طرف دیکھتا رہا اور پھر جس طرح مایوسی کے گھور اندھیرے میں امید کے جگنو کی ٹمٹماہٹ اچانک نمودار ہو جاتی ہے، اس کی نظریں وہاں ایک ایسے منظر پر پڑیں جسے دیکھ کر حیرت اور خوشی سے وہ دم بخود ہو کر رہ گیا۔۔۔۔ اس کی بیوی کینٹین کے کونے میں پڑے لکڑی کے ایک سالخوردہ بینچ پر بیٹھی ہوئی تھی اور مٹھو اپنی ماں کی گود میں آرام سے بیٹھا بسکٹ کتر کتر مزے سے کھائے چلا جا رہا تھا۔ دفعتا اسے یوں لگا کہ وہ بچہ جو تیس سال قبل ماں سے بچھڑ گیا تھا، آج اسے ایک ماں ایک دوسرے روپ میں دوبارہ مل گئی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
Top