ایک آیت جس کو پڑھ کر پانچ سو افراد مسلمان ہو گئے

نیلم

محفلین
ایک آیت جس کو پڑھ کر پانچ سو افراد مسلمان ہو گئے

ممتاز سعودی عالم ابو عبد الرحمن محمد العریفی کہتے ہیں كه میں یمن گیا اور شیخ عبد المجید زندانی سے ملا جو جید عالم دین ہیں اور قرآن کریم کے علمی اعجاز او ر سائنسی تجربات جو قرآن کریم کی تصدیق کرتے ہیں پر معمور ہیں اور شیخ نے اس پر کافی کام کیا ہے۔ میں نے شیخ سے پوچھا کوئی ایسا واقعہ کہ کسی نے قرآن کریم کی کوئی آیت سنی ہو اور اُس نے اسلام قبول کیا ہو شیخ نے کہا بہت سے واقعات ہیں میں نے کہا مجھے بھی کوئی ایک آدھ واقعہ بتائیں۔
شیخ کہنے لگے۔کافی عرصہ پہلے کی بات ہے میں جدہ میں ایک سیمینار میں شریک تھا یہ بیالوجی اور اس علم میں جو نئے انکشافات ہوئے اُن کے متعلق تھا ایک پروفیسر امریکی یا جرمن (شیخ عریفی بھول گئے اُن کا وہم ہے ) نے یہ تحقیق پیش کی کہ انسانی اعصاب جس کی ذریعے ہمیں درد کا احساس ہوتا ہے ان کا تعلق ہماری جلد کے ساتھ ہے پھر اس نے مثالیں دیں مثال کے طور پر جب انجیکشن لگتا ہے تو درد کا احساس صرف جلد کو ہوتا ہے اس کے بعد درد کا احساس نہیں ہوتا، اُس پروفیسر کی باتوں کا لب لباب یہی تھا کا انسانی جسم میں درد کا مرکز اور درد کا احساس صرف جلد تک محدود ہے جلد اور چمڑی کے بعد گوشت اور ہڈیوں کو درد کا احساس نہیں ہوتا۔
شیخ زندانی کہتے ہیں میں کھڑا ہوا اور کہا پروفیسر یہ جو آپ نئی تحقیق لیکر آئے ہیں ہم تو چودہ سو سال پہلے سے آگاہ ہیں، پروفیسر نے کہا یہ کیسے ہو سکتا ہے یہ نئی تحقیق ہے جو تجربات پر مبنی ہے اور یہ تو بیس تیس سال پہلے تک کسی کو پتہ نہیں تھا۔
شیخ زندانی نے کہا کہ ہم تو بہت پہلے سے یہ بات جانتے ہیں اُس نے کہا وہ کیسے؟
شیخ نے کہا میں نے قرآن کی آیت پڑھی
سورہ النّسا
'' إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِنَا سَوْفَ نُصْلِيهِمْ نَارًا كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُودُهُم بَدَّلْنَاهُمْ جُلُودًا غَيْرَهَا لِيَذُوقُوا الْعَذَابَ ۗ إِنَّ اللَّ۔هَ كَانَ عَزِيزًا حَكِيمًا(٥٦)۔
جن لوگوں نے ہماری آیتوں سے کفر کیا، انہیں ہم یقیناً آگ میں ڈال دیں گے جب ان کی کھالیں پک جائیں گی ہم ان کے سوا اور کھالیں بدل دیں گے تاکہ وہ عذاب چکھتے رہیں، یقیناً اللہ تعالیٰ غالب حکمت والا ہے (56)۔
یعنی کہ جب اہل جہنم کی جلد اور کھال جل جائے گی تواللہ نئی جلد اورکھال دےگا تاکہ نافرمان لوگ عذاب کا مزہ چکھتے رہیں۔ معلوم ہوا کہ درد کا مرکز جلد ہے۔شیخ کہتے ہیں جب مین نے یہ آیت پڑھی اور ترجمہ کیا وہ پروفیسر سیمینار میں موجود ڈاکٹرز اور پروفیسرز سے پوچھنے لگا کیا یہ ترجمہ صحیح ہے ؟
سب نے کہا ترجمہ صحیح ہے، وہ حیران و پریشان ہو کر خاموش ہو گیا۔شیخ زندانی کہتے ہیں جب وہ باہر نکلا تو میں نے دیکھا وہ نرسوں سے پوچھ رہا تھا جو کہ فلپائن اور برطانیہ سے تعلق رکھتی تھیں کہ مجھے اس آیت کا ترجمہ بتاؤ، انہوں نے اپنے علم کے مطابق ترجمہ کیا، وہ پروفیسر تعجب سے کہنے لگا سب یہی ترجمہ کر رہے ہیں۔ اُس نے کہا مجھے قرآن کا ترجمہ دو، شیخ کہنے لگے میں نے اُسے ایک ترجمے والا قرآن دے دیا۔شیخ زندانی کہتے ہیں کہ ٹھیک ایک سال بعد اگلے سیمینار میں مجھے وہی پروفیسر ملا اور کہا: میں نے اسلام قبول کر لیا ہے اور یہی نہیں بلکہ میرے ہاتھ پر پانچ سو افراد نے اسلام قبول کیا ہے۔
 
ہڈی جب ٹوٹتی ہے تو شدید درد کا احساس ہوتا ہے میرے خیال میں اس درد کا تعلق جلد سے تو نہیں ہوتا۔۔۔ پتہ نہیں یہ روایت مصدقہ ہے یا نہیں۔ واللہ اعلم
 

نیلم

محفلین
ہڈی جب ٹوٹتی ہے تو شدید درد کا احساس ہوتا ہے میرے خیال میں اس درد کا تعلق جلد سے تو نہیں ہوتا۔۔۔ پتہ نہیں یہ روایت مصدقہ ہے یا نہیں۔ واللہ اعلم
یہ تو کوئی ماہر ڈاکٹر ہی بتاسکتاہے...کچھ اور کمنٹس کاانتظار کرتےہیں.
 

دوست

محفلین
درد دماغ میں محسوس ہوتا ہے جی اور ذمہ دار نیوران ہوتے ہیں۔ جو ڈیمیج کا پیغام کھوپڑی تک لے کر جاتے ہیں۔ اب اس سے جلد کاکوئی مطلب نکلتا ہو تو ست بسم اللہ۔
 

arifkarim

معطل
انسانی اجسام میں درد صرف جلد تک محدود نہیں ہے بلکہ قدرت نے انسان کو ہر اقسام کی تکالیف اور بیماریوں سے بچانے کیلئے پورے جسم میں بہترین تشخیصی نظام یعنی ”درد و تکالیف“ پیدا کی ہے:
Nervous_system_diagram.png

دنیا میں ایسے بھی بعض بچے پیدا ہوتے ہیں جنکو CIPA نام کی اعصابی بیماری ہوتی ہے۔ اس حالت میں پیدا ہونے والے بچوں کو کسی بھی قسم کا جسمانی درد محسوس نہیں ہوتا۔ اور شاید یہی وجہ ہے ایسے بچے زیادہ تر 3 سال کی عمر سے تجاوز نہیں کرتے:
CIPA is extremely rare. There are 84 documented living cases in the United States; there are more than 300 in Japan. Only one case is documented in New Zealand, while two cases have been documented in Morocco. Sixty cases had been reported worldwide by 1983, when CIPA was first listed as a disorder.​
Most infants afflicted with the disorder do not live past 3 years of age, and those who do rarely pass age 25. The reason for the short life span is often related to the sufferer's inability to sweat, which leads to hyperthermia, to which infants are especially susceptible. Vital signs need to be monitored closely since patients are generally unable to feel when something is wrong.​
 
Top