ایسا متن میں ہوں کہ متن میں نہیں ہوں میں !

ڈھونڈو سخن میں ہوں کہ سخن میں نہیں ہوں میں
ایسا متن میں ہوں کہ متن میں نہیں ہوں میں

خود میں ہی بے خبر ہوں کسی کو خبر ہو کیا
کیا ہوں کہاں ہوں، ہوں کہ چمن میں نہیں ہوں میں

عاجز ہوں میری گمشدگی اے خدا معاف
ہوں فن میں اتنا غرق کہ فن میں نہیں ہوں میں

پھر یہ لباس کیوں جو نہیں میں لباس میں
پھر یہ کفن بھی کیوں جو کفن میں نہیں ہوں میں

ہر شے ہے جب قیاس تو اے وہم کیا کہوں
کس کی لگن میں کس کی لگن میں نہیں ہوں میں

داخل ہوا ہوں جب سے میں اپنے مدار میں
کیا مہر و مہہ کسی کے گہن میں نہیں ہوں میں
 

زونی

محفلین
بہت خوب بھئی ، ڈاکٹر صاحب آپ تو پائے کے شاعر ہوتے جا رہے ہیں;)
بہت اچھی کوشش ھے ، شکریہ شئیر کرنے کیلئے:)
 

الف عین

لائبریرین
ان کی استادی کا ایک ثبوت:
عاجز ہوں میری گمشدگی اے خدا معاف
ہوں فن میں اتنا غرق کہ فن میں نہیں ہوں میں

اس میں گم شدگی کا تلفظ بالکل وہی وزن میں لایا گیا ہے جو ہونا چاہئے۔ گم شُدَگی۔ ورنہ اکثر نو مشق دال کو ساکن بنا کر نظم کرتے۔
یونس۔ اس گزل کو میں سمت میں شامل کر دیتا ہوں اگلے شمارے میں۔ بھول جاؤں تو یاد دلا دینا!!!
 
ان کی استادی کا ایک ثبوت:
عاجز ہوں میری گمشدگی اے خدا معاف
ہوں فن میں اتنا غرق کہ فن میں نہیں ہوں میں

اس میں گم شدگی کا تلفظ بالکل وہی وزن میں لایا گیا ہے جو ہونا چاہئے۔ گم شُدَگی۔ ورنہ اکثر نو مشق دال کو ساکن بنا کر نظم کرتے۔
یونس۔ اس گزل کو میں سمت میں شامل کر دیتا ہوں اگلے شمارے میں۔ بھول جاؤں تو یاد دلا دینا!!!

بہت بہت شکریہ صاحب! آپ کے حوصلہ افزائی کہیں ہمارے کالر کھڑے نہ ہو جائیں۔۔۔۔:)
 
ان کی استادی کا ایک ثبوت:
عاجز ہوں میری گمشدگی اے خدا معاف
ہوں فن میں اتنا غرق کہ فن میں نہیں ہوں میں

اس میں گم شدگی کا تلفظ بالکل وہی وزن میں لایا گیا ہے جو ہونا چاہئے۔ گم شُدَگی۔ ورنہ اکثر نو مشق دال کو ساکن بنا کر نظم کرتے۔
یونس۔ اس گزل کو میں سمت میں شامل کر دیتا ہوں اگلے شمارے میں۔ بھول جاؤں تو یاد دلا دینا!!!

ضرور یاد دلاؤں گا استاذ محترم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ :)
 
Top