پروین شاکر ایران - پروین شاکر از صد برگ

ماروا ضیا

محفلین
ایران


اک الو، اک ریچھ اور اک ہاتھی
شطرنج کے رسیا تھے
آپس میں جانی دُشمن تھے
لیکن اپنے شوق کے آگے بے بس تھے
ایک ہی میز پہ بیٹھ کے پہروں کھیلتے تھے
کبھی کبھی کوئی لومڑ، کوئی گدھا یا کوئی عقاب بھی
مہرے بدلنے میں
ان کی حسبِ حکم مدد کر دیتا تھا
کبھی بے چاری فاختہ تک پیادوں کے ساتھ پِس جاتی
چھوٹی موٹی چِڑیاں تو کس شمار میں تھیں
کھیل کی لَت بھی طاقت کے نشّے جیسی ہے
پہلا شب خوں عقلِ سلیم پہ پڑتا ہے
سو اک دن ایسا کرنا ہوا کہ
سب سے بڑے شاطر کا مسئلہ
حسبِ توقع نکل پڑا
تینوں نے اپنا مستقبل سوچا
اور شیرِ ببر کو اپنا گواہ ٹھہرایا
اس کے کچھ اسباب بھی تھے

الو کے بچے جنگل میں سوتے تھے
ریچھ کو شہد کے لیے کچھار سے ہو کے گزرنا پڑتا تھا
ہاتھی کو اپنے رمبھا سمبھا کے لیے
گندم اور آلو کے کھیت چھوٹے پڑتے تھے
شیر بیچارہ ۔۔۔۔۔۔ بھلا اُمورِ ملک سے اس کو کب فرصت
ابھی انکار کا پہلا حرف ہی کہہ پایا تھا
تینوں نے اک دوسرے کی جانب دیکھا
اور جنابِ والا ہی کو داؤ پہ رکھ کے کھیل دیا
ہار جیت کے فیصلے سے پہلے ہی
بساطِ خونی پر سے
فیل، پیادے، شاہ، وزیر سب ہٹے ہوئے تھے
شیر کے ٹکڑے خانہ خانہ بٹے ہوئے تھے

پروین شاکر - صد برگ
 
Top