اک دن دکھ کی شدت کم پڑ جاتی ہے، کاشف حسین غائر

عین عین

لائبریرین
اک دن دکھ کی شدت کم پڑ جاتی ہے
کیسی بھی ہو وحشت کم پڑ جاتی ہے

صحرا میں آ نکلے تو معلوم ہوا۔۔۔۔۔۔
تنہائی کو وسعت کم پڑ جاتی ہے

اپنے آپ سے ملتا ہوں میں فرصت میں
اور پھر مجھ کو فرصت، کم پڑ جاتی ہے

کچھ ایسی بھی دل کی باتیں ہوتی ہیں
جن باتوں کو خلوت کم پڑ جاتی ہے

زندہ رہنے کا نشہ ہی ایسا ہے
کتنی بھی ہو مدت، کم پڑ جاتی ہے

کاشف غائر دل کا قرض چکانے میں
دنیا بھر کی دولت کم پڑ جاتی ہے
 
Top