1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $453.00
    اعلان ختم کریں

آصف زرداری اور فریال تالپور کی درخواست ضمانت مسترد گرفتاری کا امکان

جاسم محمد نے 'آج کی خبر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جون 10, 2019

  1. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    8,733
    بات چیئرمین نیب جاوید اقبال صاحب کے بیان کی ہو رہی ہے۔ اس بیان کی اہمیت انتہائی غیر معمولی ہے۔ ایسے بیانات کے بعد بھی وہ صاف بچ نکلے۔ یقینی طور پر، وہ حکومتی دباؤ کا دبے لفظوں میں اقرار کر رہے تھے۔
     
  2. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    11,712
    اس میں کوئی شک نہیں کہ چیئرمین نیب پر حکومت، مخالفین، عدلیہ، میڈیا اور اسٹیبلشمنٹ کا دباؤ ہوتا ہے۔ وگرنہ جو کام نیب آج کر رہی ہے وہ اس سے پہلے حکومتوں میں کیوں نہیں ہوا؟ یہ کیسز تو کئی سال پرانے ہیں جن پر گرفتاریاں آج عمل میں لائی جارہی ہیں۔
     
  3. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    8,733
    چیئرمین نیب جاوید اقبال صاحب کے بیان کی کسی نہ کسی سطح پر تفتیش کی جانی چاہیے تھی۔ دباؤ کا ہونا الگ معاملہ ہے، اور اس کا پریس کانفرنس میں اعلان کرنا بالکل الگ معاملہ ہے۔
     
  4. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    11,712

    زرداری کہتا تھا نواز چور ہے
    نوازشریف کہتا تھا زرداری چور ہے
    خان صاحب نے دونوں کی بات پر یقین کر لیا
    چلو اندر
     
  5. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    8,733
    کاش خان صاحب نے یہی معیار جہانگیر ترین، علیمہ خانم، پرویز خٹک وغیرہ کے لیے بھی رکھا ہوتا تو آج وہ بھی اندر ہوتے ۔۔۔!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  6. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    11,712
    اصل معاملہ یہ ہے کہ چیئرمین نیب تحریک انصاف نے نہیں لگایا۔ یہ سابقہ حکومت میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی مشترکہ پیشکش تھی۔
    اگر چیئرمین نیب سمجھتے ہیں کہ وہ کسی دباؤ کا شکار ہو کر اپنے فرائض انجام دینے سے قاصر ہیں تو استعفیٰ دے کر گھر جا سکتے ہیں۔
     
  7. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    8,733
    چیئرمین نیب کو لگانے کا طریقہء کار الگ معاملہ ہے۔ جو کچھ وہ فرما رہے ہیں، اس کے بعد اس بیان کی وضاحت کے لیے پارلیمانی کمیٹی قائم کی جانی چاہیے تھی۔ تاہم، جب حکومت اور اپوزیشن کے ارکان نیب سے چھپتے پھرتے ہوں تو ایسی جرات کون دکھائے ۔۔۔!
     
  8. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    11,712
    وزرا علیم خان اور بابر اعوان تو نیب کی ہوا کھا آئے ہیں۔ پرویز خٹک جانے والے ہیں۔ جہانگیر ترین سپریم کورٹ سے دائمی طور پر نااہل قرار دئے جا چکے ہیں۔ اور علیمہ خانم نے ایف آئی اے سے پلی بارگین کر کے اپنے جرم کا نہ صرف اعتراف کیا ہے بلکہ اس کا جرمانہ بھی بھرا ہے۔
     
  9. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    11,712
    میڈیا میں بے وجہ کی بیان بازی اور انٹرویوز دے کر چیئرمین نیب نے خود ہی اپنےساتھ ساتھ پورے ادارہ کو مشکوک بنا دیا ہے۔ رہی سہی کسر حکومتی وزرا نیب کی ترجمانی اور اپوزیشن نیب کے خلاف ایوان میں تقریریں کر کے پوری کر دیتے ہیں۔
    کم از کم احتسابی معاملات میں تو نیب کو سیاست اور سیاست دانوں کو نیب سے الگ کرلینا چاہئے۔ لیکن جس ملک میں ہر جگہ سیاست ملوث ہو وہاں نیب کیسے اس سے ماورا رہ سکتا ہے۔
     
  10. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    8,733
    کیا اعلیٰ اخلاقی معیار ہے ۔۔۔! :)
     
  11. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    8,733
    ادارہ تو خیر آنجناب کی آمد سے قبل ہی مشکوک تھا ۔۔۔!
     
  12. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    11,712
    یہی پلی بارگین کی آفر اپوزیشن رہنماؤں کو بھی دی گئی تھی کہ اپنی کرپشن تسلیم کریں، لوٹا ہوا پیسا واپس کریں اور سکون سے گھر جا کر سوئیں۔ لیکن وہ ریاستی اداروں کے خلاف ڈٹ گئے۔ اب جیل میں نتیجہ بھگت رہے ہیں :)
     
  13. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    8,733
    شاید وہ ایسے بلند اخلاقی معیار پر فائز نہیں ہیں نا ۔۔۔! :) یہ خاصا اور حوصلہ صرف اسی خاندان اور اسی پارٹی کو عطا ہوا ہے ۔۔۔!
     
  14. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    11,712
    میرے خیال میں اپنے جرائم کا اعتراف کرنا اور پھر انکا کفارہ بھر دینا زیادہ بہتر اخلاق کی نشانی ہے۔
    بجائے اس کے کہ پہلے چوری اور پھر سینہ زوری کے مصداق ڈھیٹوں کی طرح ریاستی اداروں کے خلاف ڈٹ جانا۔ اور احتساب سے بچنے کیلئے عوام میں مسلسل سیاسی شہید کارڈ کھیلنا۔
    اگر آج کرپٹ سیاسی رہنما، بیروکریٹس، ججز، جرنیل، صحافی، سرمایہ دار وغیرہ ریاستی اداروں سے پلی بارگین کر کے لوٹی ہوئی دولت واپس کر دیں تو پورے ملک میں استحکام آجائے گا۔ لیکن نہیں۔ اسکی بجائے احتسابی عمل پر یہ بچگانہ سیاست ہو رہی ہے: ہمیں پکڑا ہے تو اسے کیوں نہیں پکڑا۔ اسے چھوڑ دیا ہے تو ہمیں کیوں نہیں چھوڑا۔
    اس طرح تو کسی کا بھی احتساب ممکن نہیں ہوگا۔ اور اس ملک میں یہی ہوتا آیاہے۔
     
  15. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    8,733
    جی ہاں! آپ درست فرما رہے ہیں۔ چوری کر کے مال واپس کر دینا نسبتاََ بہتر اخلاق کی نشانی ہے۔ مخالفین کو چاہیے کہ مسروقہ مال کو برآمد کروا کر اس برتر اخلاقی معیار کو چھو لیں، چاہے وہ مال انہوں نے چوری کیا ہو یا نہ کیا ہو۔
     
  16. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    11,712
    اس بلند اخلاق کے مظاہرہ پر کیا کہیں گے؟ گھر کے بڑے کرپشن پر جیل جا رہے ہیں اور بچے مسکرا رہے ہیں:
    [​IMG]
     
  17. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    8,733
    سیاست دان ایسے واقعات کو باقاعدہ طور پر کیش کرواتے ہیں۔ شکر کیجیے کہ علیمہ خانم سیاست میں باقاعدہ طور پر نہ کود پڑیں ۔۔۔! اب یہ کل کے بچے اُن جیسے اعلیٰ اخلاقی معیارات پر فائز ہونے سے تو رہے ۔۔۔!
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  18. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    11,712
    پھر تو معاملہ ہی ختم ہو گیا۔ آمدن سے زائد اثاثہ جات کی منی ٹریل دے دیں۔ اور با عزت بری ہو جائیں۔
    ان احتسابی معاملات میں سیاسی شہید کارڈ دنیا میں کہیں بھی نہیں چلتا۔ اگر چل جاتا تو آج نواز شریف پاکستان کے اور نیتانیاہو دوبارہ اسرائیل کے وزیر اعظم ہوتے۔
     
  19. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    8,733
    کچھ گُر سیکھ لیتے نیازی فیملی سے تو آج انہیں یہ دن نہ دیکھنا پڑتے ۔۔۔! :)
     
  20. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    11,712
    آج سے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کا مشترکہ بیانیہ یہ ہوگا۔
    [​IMG]
     

اس صفحے کی تشہیر