اُڑنے نہ پائے تھے ۔۔۔ (ایک سوال کے ممکنہ جوابات)

محمداحمد

لائبریرین
احمد بھائی نے بلاشبہ ایک بھرپور زندگی گزاری ہے۔ اور عشق و عاشقی کے میدان میں صرف شاعری و ناول پڑھنے تک محدود نہیں رہے۔
:) :) :)

ہاہاہاہاہا۔۔۔! محفل میں آپ کا ہونا بھی ایک نعمت ہے۔ اتنے مزے کی باتیں ایک ساتھ ہی کر دیتے ہیں آپ۔ :)


یہ مضمون پڑھ کر مجھے بےساختہ احمد بھائی کا ہی ایک شعر یاد آگیا۔
آج بھی لوگ عشق کرتے ہیں
سامنے کی مثال ہوتے ہوئے

شاعر با الفاظِ دیگر یہی کہہ رہا ہے کہ

ع۔ دیکھو مجھے جو دیدہء عبرت نگاہ ہو

لیکن دیکھنے والے کو لگ رہا ہے کہ جیسے پانچوں انگلیاں گھی میں ہیں اور سر کڑاہی میں۔ :) :) :)

مجھے یقین ہے یہ سامنے کی مثال احمد بھائی کی نہ رہی ہوگی۔ لیکن لوگوں کا کیا منہ بند کیجیے۔ کچھ بھی کہنے لگتے ہیں۔

ہم بولنے والے کی زبان نہیں پکڑ سکتے۔

بہتر یہ ہے کہ اُس کی کوئی پچھلی غلطی اُسے یاد دلا کر چپ کروایا جائے۔ :)
:) :) :)


اچھا سنجیدہ باتیں ایک طرف۔ احمد بھائی آپ کو یہ تمام پہلوؤں پر گرفت کرنے کی کیوں کر سوجھی۔۔۔۔ کیا پھر۔۔۔ بقول شاعر۔۔۔ آتی آواز سلاسل کبھی ایسی تو نہ تھی۔۔۔
:) :) :)

بس اب اور نہیں۔ :)

تفنن برطرف۔۔۔ احمد بھائی۔۔ ۔ بہت ہی دلچسپ اور اعلی تحریر ہے۔۔۔ آپ کا خاص ناصح رنگ لیے بھی۔۔۔ یہ بالکل ایک حقیقت ہے ۔۔۔۔ اور آپ نے اس بکھرے پہلوؤں کو خوبصورتی سے یکجا کیا ہے۔ اس کے مقابل کوئی لائحہ عمل بھی ہونا چاہیے۔

لائحہ عمل ضرور ہونا چاہیے اور یہی سوچ کر میں نے اس تحریر کو محفل جیسے جاندار ڈسکشن فورم پر پیش کیا ہے کہ یہاں اچھے عالی دماغ لوگ موجود ہیں۔ کئی ایک ایسے بھی ہیں جو بچوں کی تربیت کے دور سے گزر رہے ہیں۔ مجھے اُمید ہے کہ اگر گفتگو آگے بڑھے تو ممکن ہے کہ بہتر تجاویز مل سکیں گی۔

میں جانتا ہوں کہ مسئلے کی نشاندہی بھی ایک چیز ہے لیکن اس کا تدارک خشک ہے۔

واقعی۔ اس بات سے انکار نہیں ہے کہ ان سب چیزوں (جن کا تحریر میں ذکر ہے) کی عدم موجودگی زندگی سے سب رنگینیاں بھی لے جائے گی۔

لیکن اس معاملے پر گفتگو تو ضرور ہونی چاہیے۔

میں اس موضوع پر بات کرتے ہوئے یہ کہوں گا کہ میں نے اپنے بیٹے زین العابدین کو اس رنگ سے پرے رکھا۔ وہ فلم ڈرامے نہیں دیکھتا۔ کتابیں بھی نہیں پڑھتا خیر سے۔ لیکن علم کے لیے میں نے اسے ڈاکومینٹریز پر لگا دیا۔ اور تحقیق کے لیے اس پزل اور مختلف ذہنی آزمائش کے کھیل اور پروگرامز میں شامل کرنا شروع کیا۔ اس کا ایک نقصان تو علم کا ہونا ہے ہی۔ دوسرا نقصان اس لطف کا ہے جو بچے کی عمر کا خاصہ ہوتی ہے۔
یہ بات بالکل درست ہے۔ ہم بچوں کو بالکل بھی دنیا سے کاٹ نہیں سکتے۔ سو کوشش کرکے اُن کے لئے صحت مند سرگرمیاں تلاش کرنی چاہیے۔

آج کل کے بچوں میں جسمانی کھیل کود کے رجحانات کم ہوتے جا رہے ہیں۔ حالانکہ جسمانی کھیل کود بچوں کو جوش و جذبہ سے آشکار کرتے ہیں جن سے زندگی کافی دلچسپ ہو سکتی ہے۔

بدقسمتی سے میری پرورش چونکہ ویسی ہی ہے جیسا آپ نے آپ اوپر موضوع میں بیان کیا۔ تو میرے نزدیک لطافت اور ان کہے جذبے بہت معنی رکھتے ہیں۔ آپ کی کیا رائے ہے؟

میری اور آپ کی بدقسمتی میں کچھ زیادہ فرق نہیں ہے (اور یہ کہ لطیف جذبوں کو میں بھی کچھ نہ کچھ اہمیت ضرور دیتا ہوں) اور شاید یہی وجہ ہے کہ میں یہ مضمون لکھ سکا۔ لیکن اب جب پیچھے مُڑ کر دیکھتے ہیں تو سمجھ آتا ہے کہ بہت سی چیزیں کچھ بہتر ہو سکتی تھیں۔ بس یہ تحریر ایک کوشش ہے کہ شاید ہمارے بچوں کے معاملات ہم سے کچھ بہتر ہو سکیں۔
 

محمداحمد

لائبریرین
احمد بھائی، میرا خیال ہے کہ دوست احباب اور گھر کے جیتے جاگتے باشندوں سے ہی بچے سیکھتے ہیں، انٹرنیٹ اور ٹی وی شوز کے بھی اثرات بچوں پر واضح طور پر پڑتے ہیں اس لیے یہ دیکھنا چاہیے کہ بچوں کی دوستی کن کے ساتھ چل رہی ہے اور وہ کیا کچھ دیکھتے پھر رہے ہیں۔ میری نظر میں سب سے اہم بات والدین کے اپنے رویے ہیں۔ اگر وہ شائستہ اطوار ہوں گے تو نوے فی صد سے زائد امکان ہے کہ بچے بھی ایسے ہی ہوں گے اور ان پر بیرون خانہ معاملات کے اثرات کم پڑیں گے۔
بجا فرمایا علی بھائی آپ نے۔ لیکن ماں باپ بچوں پر ایک حد تک ہی مانیٹرنگ کر سکتے ہیں۔ اور یہ کہ بہت سے ماں باپ اس معاملے میں لاپرواہی برتتے ہیں کہ اُن کے بچے کہاں اُٹھ بیٹھ رہے ہیں۔

سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اگر کسی نا مناسب چیز کو پورا معاشرہ (رفتہ رفتہ) قبول کرلے تو پھر اس پر نہ کوئی دھیان دیتا ہے نہ کوئی گرفت کرتا ہے۔ سوائے معدودے چند لوگوں کے۔ میں نے جن چیزوں کا ذکر کیا ہے اُن میں سے بیشتر کو معاشرے نے آہستہ آہستہ قبول کر ہی لیا۔ حالانکہ ان چیزوں کا اثر آج بھی پہلے دن کی طرح موجود ہے۔

اصلاحی تحاریر کا سلسلہ جاری رکھیے۔ یہ مضامین عام طور پر موضوع کے لحاظ سے خشک ہوتے ہیں، اس لیے ان پر نظر کم ٹھہرتی ہے تاہم آپ کا اسلوب عمدہ ہے اس لیے ایک بار پڑھنا شروع کیا جائے تو پڑھنا مجبوری بن جاتی ہے۔ لکھتے رہیے کہ یوں بھی ان موضوعات پر لکھنے والے اب بہت کم لوگ رہ گئے ہیں۔
بہت شکریہ! ہمت کرکے اصلاحی تحاریر بھی پڑھ لیا کیجے کہ آپ نوجوان ہیں، آج کا دماغ آپ لوگ ہیں۔ اگر ہم سے کہیں تسامح ہو تو آپ نشاندہی کر سکیں گے اور اگر ہماری بات آپ کو سمجھ آئی تو آنے والوں کو پہنچا سکیں گے۔

وارث بھائی کے مراسلے کی تو کیا ہی بات ہے، اس مراسلے میں ایک ایسا پُر مزاح جملہ تھا کہ اقتباس لینا بنتا تھا، چاہے اس میں کچھ بھی نہ لکھا جاتا۔ :)

بلاشبہ ۔ :) :) :)
 
Top