اُردو کی بورڈ استعمال کرتے ہوئے تیز ترین ٹائپنگ

ٹائپنگ ماسٹر نے 'لکھنے پڑھنے میں مدد' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏نومبر 29, 2019

  1. سرفراز احمد

    سرفراز احمد محفلین

    مراسلے:
    83
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Cold
    ابو ہاشم صاحب حوصلہ افزائی کا شکریہ

    پرسوں رات بھی میں نے دوست صاحب کے حکم کے مطابق تقریباً ۴ لاکھ کیریکٹر ۸۵ ہزار الفاظ پر مشتمل پیراگراف کے مجموعے کو کیریکٹر کاؤنٹ ٹول میں جانچ کے لیے ڈالا اور اس بار بھی حیرت انگیز طور پر وہی اوّل ۱۰ حروف تھے جو میرے پچھلے نتیجے میں سامنے آئے تھے۔ یعنی ا، ی، ک، ر، و، ہ، ے، ن، م، ت ۔ اس سے یہ بات ظاہر ہو رہی ہے کہ ہماری گفتگو اور خط و کتابت میں یہ ۱۰ حروف (پہلا عشرہ) سب سے زیادہ مستعمل ہیں۔ اگر اس بات کے پیش نظر ان حروف کو گھریلو صف Home Raw میں رکھا جائے تو ہمیں شفٹ بٹن کا استعمال کم سے کم کرنا پڑے گا۔

    اسی طرح دوسرا عشرہ میں بھی قریب قریب وہی ۱۰ حروف تھے جن کا تجربہ میں نے پچھلے نتیجے میں کیا تھا یعنی (س، ل، ں، ھ، ب، د، پ، ج، گ، ۔) پچھلے نتیجے کے مقابلے صرف ۲ حروف ش اور ع کو بالترتیب ۲۴ واں اور ۲۶واں مقام ملا۔

    جہاں تک ٹائپنگ ماسٹر صاحب کے تختۂ کلید کی بات ہے ان کی ترتیب بھی فونیٹک تختۂ کلید پر کام کرنے والے کے لیے زبردست ثابت ہوگی۔

    اور میرا تجربہ کا آغاز ان کے ہی اس مضمون کی اس بات
    سے ہوا۔ چونکہ انگریزی کیبورڈ کی ترتیب انہوں نے کثیر المستعمل لیٹرس کو پیشِ نظر رکھ کر ہی کی ہوگی۔ اگر ہم بھی اسی بات کو سامنے رکھتے ہوئے کہ ہماری خط و کتابت میں کون کون سے حروف کثیر المستعمل ہیں اپنے تختۂ کلید کو مرتب دیں تو ٹائپنگ کی رفتار سست ہونے کے بجائے تیز ہو گی۔ جن بھائیوں نے رفتار سست ہونے کی بات کہی ہے تو انہیں میں کہنا چاہوں گا۔ ہر نو سکھیے کے لیے ہر وہ تختۂ کلید مشکل ہی ہوتا جس پر وہ مشق کا آغاز کرتا ہے۔ میں نے بھی جب اردو انگریزی ٹائپنگ سیکھنا شروع کیا تھا تو لیٹرس کو تلاش کرنے میں دشواری ہوتی تھی۔ لیکن مسلسل ۶ مہینے کی مشق سے آسانیاں ہو گئی۔ جن لوگوں نے فونیٹک کی بورڈ کو ترتیب دیا انہوں نے اس بات کو پیش نظر رکھا کہ ہمارے سامنے کی بورڈ انگریزی شکل میں کمپیوٹر کے سامنے رکھا ہوتا ہے اگر اسی ترتیب سے اردو کے حروف کو سجایا جائے تو حروف کو تلاش کرنے میں زیادہ دقت نہیں ہوگی۔

    میں یہ چاہتا ہوں کے جس طرح حروف کا تعدد جاننے کے لیے میں نے تجربہ کیا ہے اسی طرح کچھ دوسرے افراد بھی جانچ کر اپنا نتیجہ یہاں پیش کریں۔ اگر ۲۰، ۲۵ نتیجے سامنے آ جاتے ہیں تو ہم اوّل، دوم اور سوم عشرہ کی ایک ترتیب طے کر سکتے ہیں۔ پھر اسی طرح کم مستعمل حروف کو ہم شفٹ کے ساتھ ترتیب دے سکتے ہیں۔
     
    • زبردست زبردست × 2
    • متفق متفق × 1
  2. عدنان عمر

    عدنان عمر محفلین

    مراسلے:
    583
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    میں نے اردو ٹائپنگ مونوٹائپ کی بورڈ پر سیکھی تھی اور آج بھی اسی کی بورڈ سے ٹائپ کرتا ہوں۔ مونوٹائپ کی ایک خوبی یہ ہے کہ اس میں کوئی حرف شفٹ پر نہیں ہے، البتہ ۰ تا ۹ اعداد کی بورڈ کی آخری رو میں شفٹ کے ساتھ ٹائپ کیے جاتے ہیں۔
    کہنے کا مقصد یہ ہے کہ حروف کی ترتیبِ نو کرتے ہوئے اگر تمام حروف کی ٹائپنگ کو شفٹ سے آزاد کر دیا جائے تو کیا ٹائپنگ اسپیڈ تیز تر نہیں ہو جائے گی؟
     
    آخری تدوین: ‏جنوری 12, 2020
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
    • متفق متفق × 1
  3. ٹائپنگ ماسٹر

    ٹائپنگ ماسٹر محفلین

    مراسلے:
    23
    السلام علیکم ! تمام محفلین کا اس پوسٹ کو توجہ سے پڑھنے اور وقت دینے پر بہت بہت شکریہ۔ عرض ہے کہ میرے کہنے کا مدعا ہرگز یہ نہیں کہ ہم نئے سرے سے نئے الفاظ رکھ کر کی بورڈ مرتب کر دیں‘ اس سے بات کہیں کی کہیں نکل جائے گی۔ میرے کہنے کا مقصد تو صرف یہ تھا کہ مقتدرہ‘ آفتاب‘ مونو ٹائپ یا فونیٹک کی بورڈ میں حروف کو بکھیر کر رکھ دیا گیا تھا‘ جنہیں ہم نے جوڑیوں کی شکل میں یکجا کرکے دیکھ اس کی بورڈ میں رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ s پر س اور ش رکھا گیا۔
    باقی QWERTY کی بورڈ کے اُردو سے ملتے جلتے حروف کو ہی رکھا گیا ہے کیونکہ اگر ہم دس کثیر الاستعمال حروف کو HOME ROW میں رکھنے کی ضد کر بیٹھیں تو عام استعمال کنندہ کو بہت نقصان ہوگا۔ کمپوزر اور زیادہ ٹائپنگ والے حضرات کبھی نہ کبھی ان پر ٹائپنگ کرنا سیکھ جائیں گے مگر ہمارا مقصد وسیع النظر بن کر عام استعمال کنندہ کی سہولت کاری ہے۔
    مثال کے طور پر 7 پر ہم نے 7۔ ؁۔ ۷۔ ۩ رکھے۔
    (1) اب 7 پر سیون‘ سنہ‘ اُردو سات‘ اور سجدہ کی علامت رکھنے کی وجہ یہ ہے کہ سیون سے سن اور سیون سے ۷ اور سیون سے سجدہ تمام کا آپس میں ربط لگتا ہے۔
    (2) S پر س ‘ ش ‘ ۣ ‘ ۜ تمام س کی مختلف صورتیں رکھی گئی ہیں۔
    (3) M پر م ‘ ٓ ‘ ۭ ‘ ۢ تمام م کی ممکنہ صورتیں رکھی گئی ہیں ہمراہ مد۔
    تقریباً تمام اعراب شفٹ کے ساتھ رکھے گئے ہیں ما سوائے زبر اور زیر کے جو کہ اکثر زیادہ استعمال ہوتے ہیں جیسا کہ نگاہِ کرم‘ آبِ رواں وغیرہ۔ ڈائریکٹ کی پر رکھے جانے کی وجہ یہی ہے کہ ٹائپنگ کے دوران سپیڈ برقرار رکھی جاسکے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ' اور i پر صرف زبر دو زبر اور زیر دو زیر کے جوڑے رکھے گئے۔
    (1) زبر کے لیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ' ۔۔۔ َ
    (2) دو زبر کے لیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ " ۔۔۔ ً
    (3) زیر کے لیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ i ۔۔۔ ِ
    (4) دو زیر کے لیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ I ۔۔۔ ٍ
    (5) پیش کے لیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ P ۔۔۔ ُ
    (6) دو پیش کے لیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ } ۔۔۔ ٌ
    (7) اُلٹا پیش کے لیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ { ۔۔۔ ٗ
    (8 ) فلپ پیش کے لیے ۔۔۔ آلٹ جی آر + { ۔۔۔ ٝ
    (9) کھڑا زبر کے لیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ F ۔۔۔ ٰ
    (10) کھڑی زیر کے لیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ V ۔۔۔ ٖ
    (11) جزم کے لیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ Q ۔۔۔ ْ
    (12) شد کے لیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ W ۔۔۔ ّ
    (13) مد کے لیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ M ۔۔۔ ٓ
     
    • زبردست زبردست × 1
  4. ٹائپنگ ماسٹر

    ٹائپنگ ماسٹر محفلین

    مراسلے:
    23
    بالکل میرا مقصد یہی ہے کہ عام استعمال کنندہ کو اُردو کی بورڈ کی آسان سمجھ آ سکے۔
    اس کام کے لیے میں نے حروف کے جوڑوں کا استعمال کیا‘ جس میں فونیٹکس یعنی آوازوں کو بھی ملحوظِ خاطر رکھا گیا ہے جبکہ زیادہ زور جوڑوں پر دیا گیا ہے۔
    باقی جو لوگ گزشتہ ادوار کے مستعمل کی بورڈز استعمال کرتے چلے آ رہے ہیں‘ اُنہیں کچھ مشکل ضرور ہوگی آسان کی بورڈ کو استعمال کرنے میں جبکہ نئے استعمال کنندگان اسے آسانی سے سمجھ جائیں گے۔

    بقول احمد ندیم قاسمی صاحب کے
    یہ ارتقا کا چلن ہے کہ ہر زمانے میں
    پرانے لوگ نئے آدمی سے ڈرتے تھے
     
    آخری تدوین: ‏جنوری 12, 2020
    • زبردست زبردست × 1
  5. دوست

    دوست محفلین

    مراسلے:
    13,007
    جھنڈا:
    Germany
    موڈ:
    Fine
    اردو کیریکٹر فریکوئنسی فائل یہاں سے حاصل کی جا سکتی ہے۔ جیسا کہ کریکٹر فریکوئنسی سے ظاہر ہوتا ہے یہ خاصے بڑے ڈیٹا سیٹ سے بنائی گئی ہے جس میں کریکٹرز کی تعداد کروڑوں میں ہے۔ اس میں بہت سے مسائل بھی نظر آرہے ہیں کیونکہ انگریزی اور دیگر زبانوں کے حروف اور اس کے علاوہ نان سینس حروف بھی صاف کرنے کی ضرورت ہے۔ تاہم اس سے اردو کے حروف کی عمومی فریکوئنسی کا زیادہ بہتر اندازہ ہو سکے گا۔ اس کو کی بورڈ لے آؤ ڈیزائن کرنے کے لیے یا کسی بھی دیگر مقصد کے لیے استعمال کرنے کی ذمہ داری اب اس کے استعمال کنندگان پر ہے۔ اپنی طرف سے اس سے زیادہ اس معاملے میں بولنے کی تمنا نہیں ہے۔
     
    • زبردست زبردست × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  6. ابو ہاشم

    ابو ہاشم محفلین

    مراسلے:
    794
    محترم دوست کی دی ہوئی لسٹ کی چھانٹی کی اور نتیجہ نیچے دیا گیا ہے:

    ا 40006095
    ی 32795136
    ر 22566462
    ک 22341379
    و 19577024
    ن 17219159
    ہ 16114304
    م 15960060
    ے 15821515
    س 11516045
    ل 11436018
    ت 11375620
    د 8566688
    ب 8524983
    ں 7404733
    پ 5407629
    ج 5083852
    ھ 4237464
    گ 4088819
    ئ 4027584
    ع 3775353
    ف 3607491
    ق 3353098
    ٹ 3217096
    ش 3211463
    ح 3129695
    ز 2871456
    ۔ 2857753
    خ 2138393
    چ 2002432
    ص 1822889
    آ 1473026
    ، 1422393
    ڈ 1339942
    ط 1335143
    ڑ 746800
    ظ 726971
    ض 706077
    غ 569271
    ذ 465642
    ) 427855
    ( 427186
    ث 420858
    ‘ 321893
    ؤ 217590
    ء 209169
    ِ 187851
    ٰ 162205
    . 155397
    ُ 154575
    ’ 135893
    : 121521
    “ 104423
    ” 103412
    - 101744
    ؟ 89756
    َ 78042
    / 67532
    ! 64714
    ً 61564
    ّ 54540
    " 52614
    · 41992
    ٓ 38375
    , 36427
    ۱ 29643
    ٭ 25103
    ْ 24847
    ژ 22604
    ¸ 22313
    ﷺ 19526
    ۂ 15996
    ؔ 13443
    ۃ 10787
    ؓ 10726
    أ 10002
    ه 9556
    ي 8891
    ' 8830
    ة 8058
    ؒ 7623
    ٔ 6492
    ؐ 6014
    ك 5397
    4913
    ئے 4642
    ؎ 2983
    ؛ 2803
    ﺅ 2791
    ٍ 2689
    إ 2491
    ؂ 2394
    ؑ 2364
    ․ 2073
    ٗ 1524
    ى 1487
    ﷲ 1438
    ؍ 1263
    ٌ 1184
    ﴿ 1058
    ﴾ 1056
    — 1052
    • 704
    ] 634
    [ 612
    = 610
    ? 553
    ٘ 512
    ۔ 482
    ٖ 367
    ‏– 325
    ؁ 257
    \ 147
    × 75
    { 65
    } 48
    ٕ 46
    ٬ 39
    ् 25
    ٪ 22
    > 16
    < 13
    ۀ 11
    े 10
    ؏ 5
    ؃ 4
    ÷ 4
    ۤ 3
    ۝ 3
    ۙ 3
    ۜ 3
    ۖ 2
    ٳ 2
    ﹸؕ 2
    ۚ 2
    ۗ 2
    ۭ 2
    ؀ 2
    ۧ 2
    ۘ 2

    ان میں جو کیریکٹر بھی کسی طرح اردو/عربی/قرآن سے متعلق لگا اسے رکھ لیا باقی تمام کیریکٹر نکال دیے۔ اعداد بھی نکال دیے۔ تعدد ساتھ ہی ہے
    ظاہر ہے کہ ان کی مزید چھانٹی کرنی ہو گی اور کچھ کیریکٹرز کا تعدد ایک سے زیادہ بار آیا ہے ان کو جمع کرنا ہوگا اگر اس کی ضرورت ہوئی تو

    سرفراز احمد صاحب کا ڈیٹا بھی اس بڑے ڈیٹا کی بہت حد تک تائید کرتا دکھائی دیتا ہے۔
     
    آخری تدوین: ‏جنوری 13, 2020
    • زبردست زبردست × 2
  7. نکتہ ور

    نکتہ ور محفلین

    مراسلے:
    669
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ آخر فونیٹک کی بورڈ کی لکیر کے فقیر کیوں بنے ہوئے ہیں لوگ۔
    دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر !
    نیا زمانہ، نئے صبح و شام پیدا کر
    اٹھا نہ شیشہ گرانِ فرنگ کے احساں
    سفالِ ہند سے مینا و جام پیدا کر


    میں نے جب اردو ٹائپنگ کی ابتدا کی تو فونیٹک کی بورڈ مجھے بہت پسند آیا کہ حروف آسانی سے مل جاتے تھے لیکن جب زیادہ ٹائپنگ کرنا پڑی تو الجھن ہونے لگی کہ زیادہ استعمال ہونے والے حروف لکھنا آسان نہ تھا۔ نئے کی بورڈ سے وقتی مشکل ضرور ہو گی لیکن فوائد زیادہ ہیں

    بات وہی ہے کہ
     
    • زبردست زبردست × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • متفق متفق × 1
  8. ابو ہاشم

    ابو ہاشم محفلین

    مراسلے:
    794
    حروف کا تعدد مزید چھانٹی اور ایک جیسے کیریکٹروں کو اکٹھا کر دینے کے بعد:

    ا 39967717
    ی 32805514
    ر 22566462
    ک 22346776
    و 19577024
    ن 17219159
    ہ 16123860
    م 15960060
    ے 15821515
    س 11516045
    ل 11436018
    ت 11375620
    د 8566688
    ب 8524983
    ں 7404733
    پ 5407629
    ج 5083852
    ھ 4237464
    گ 4088819
    ئ 4027584
    ع 3775353
    ف 3607491
    ق 3353098
    ٹ 3217096
    ش 3211463
    ح 3129695
    ز 2871456
    ۔ 2857753
    خ 2138393
    چ 2002432
    ص 1822889
    آ 1511404
    ، 1422393
    ڈ 1339942
    ط 1335143
    ڑ 746800
    ظ 726971
    ض 706077
    غ 569271
    ذ 465642
    ) 427855
    ( 427186
    ث 420858
    ‘ 321893
    ؤ 220381
    ء 209169
    ِ 187851
    ٰ 162205
    ُ 154575
    ’ 135893
    : 121521
    “ 104423
    ” 103412
    - 101744
    ؟ 89756
    َ 78042
    / 67532
    ! 64714
    ً 61564
    ّ 54540
    " 52614
    ٭ 25103
    ْ 24847
    ژ 22604
    ¸ 22313
    ﷺ 19526
    ۃ 18845
    ۂ 16007
    ؔ 13443
    ؓ 10726
    أ 10002
    ' 8830
    ؒ 7623
    ٔ 6492
    ؐ 6014
    ئے 4642
    ؎ 2983
    ؛ 2803
    ٍ 2689
    ؂ 2394
    ؑ 2364
    ٗ 1524
    ﷲ 1438
    ؍ 1263
    ٌ 1184
    ﴿ 1058
    ﴾ 1056
    ] 634
    [ 612
    = 610
    ٘ 512
    ۔ 482
    ٖ 367
    ‏– 325
    ؁ 257
    \ 147
    × 75
    { 65
    } 48
    ٬ 39
    ٪ 22
    > 16
    < 13
    ؏ 5
    ؃ 4
    ÷ 4
    ؀ 2
     
    • زبردست زبردست × 1
  9. ابو ہاشم

    ابو ہاشم محفلین

    مراسلے:
    794
    حروف کا تعدد تو معلوم ہو گیا اب اگلا مرحلہ یہ معلوم کرنا ہے کہ کس کلید کو دبانا کتنا آسان یا کتنا مشکل ہے یعنی اس پر کتنا زیادہ یا کتنا کم وقت لگتا ہے؟ میرا خیال ہے home row پر بھی مختلف کلیدوں کے دبانے میں آسانی کا فرق ہے۔ آسانی کے لحاظ سے کلیدوں کی ترتیب معلوم ہو جائے تو پھر بس شماریاتی اردو کی بورڈ تیار!
    ان معلومات کی فونیٹک کی بورڈ کے لیے بھی بہت افادیت ہو گی مثلاً 'و' کے لیے چار کلیدیں o ،w، v، u امیدوار ہیں۔ مستحق کونسی ہے اس کا فیصلہ کلیدوں کی آسانی کے تقابل سے ہو گا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • متفق متفق × 1
  10. یاسر حسنین

    یاسر حسنین محفلین

    مراسلے:
    134
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    ٹائپ رائٹر اور کمپیوٹر "کی بورڈ" کی دلچسپ تاریخ

    کی بورڈ کی ترتیب جو کہ ہم ہر روز استعمال کرتے ہیں کی کہانی کافی قدیم ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ کی بورڈ کی ترتیب خود کی بورڈ کی ابتداء سے بھی پرانی ہے اور کچھ کا خیال ہے کہ کی بورڈ ٹائپ رائٹر کے متغیرات میں سے ہے۔
    تاہم، دلائل کے اعتبار سے کہانی کا آغاز 1875ء سے کرتے ہیں، جب "کستوفر شولس" نے ایمس ڈنسمور کے اشتراک سے پہلے سے موجود کی بورڈ میں کچھ جدت طرازی کا اطلاق کیا تا کہ حروف کی ترتیب بہت زیارہ قریب نہ ہو اور پنچنگ بارز مخالف سمت میں آئیں۔
    کی بورڈ کی مقبول ترتیب جو ہم معتدد مواقعوں میں استعمال کرتے ہیں کیورٹی کہلاتی ہے جو کہ پہلے پانچ حروف کو کی بورڈ کے اوپر والے بائیں کونے میں جوڑ کر بنائی گئی ہے۔
    کی بورڈ کی ترتیب کے پیچھے جو کہ عجیب بات ہے کوئی سوچ یا نظریہ کارفرما نہیں ہے بلکہ ابتدائی ڈیولپرز کے واقعات اور ٹیسٹ شامل ہیں۔
    ڈیولپرز ایک ایسے نظام کی تلاش میں تھے جو نہ صرف کارآمد ہو بلکہ ٹائپسٹ کے ہاتھوں کے لیے آرام دہ بھی ہو کیورٹی کو ابتدا میں متعارف کرانے کے بعد نظام نتیجہ کے طور پر اسی ترتیب سے جڑا رہا اور یہ ترتیب لوگوں کے ذہنوں میں رچ بس گئی۔
    اگر ہم ٹائیپنگ کی تاریخ کے مزید اوراک پلٹے تو ہمیں معلوم ہو گا کہ ٹائپ رائٹر کی وہ اقسام جنہیں آج کے دور میں باسہولت نہیں سمجھا جاتا وہ 1714 کے دور کے تھے۔بعد کے سالوں میں، مشین کو کئی اختراح نے مزید سہولت اور آسانی کے لیے دوبارہ ایجاد کیا۔
    تاہم، ایک بڑے تجارتی پیمانے پر ٹائپ رائٹر کو متعارف کرانے کا سہرا تاریخی طور پر شولس کے سر جاتا ہے جس نے اپنی پوری زندگی اس مشین کی ترتیب کو انسانی زندگی کا حصہ بنانے کی کوششوں میں صرف کر دی۔
    شولس کا سب سے پہلے ٹائپ رائٹر سے واسطہ اس وقت پڑا جب وہ ملواکی میں اخبار کے ایڈیٹر تھے اور وہاں انہوں نے ٹائپ سیٹنگ کی مشین بنانے کی کوشش کی تاہم وہ اس میں بری طرح ناکام ہو گئے اور بعد میں انہوں نے مکمل طور پر اس خیال کو ترک کر دیا۔ تاہم وہ ٹائپ رائٹر سے زیادہ دیر کے لئے دور نہیں رہ سکے۔
    شولس نے 1866ء میں کامیابی کے ساتھ ایک نمبرنگ مشین کو ڈیزائن اور پیٹنٹ کیا۔اس مشین سے کتابوں کے صفحات، ٹکٹوں اور دیگر اشیاء پر ہندسے (نمبر) لکھے جا سکتے تھے۔
    اس کے فورا بعد شولس اور سول کو اپنی مشین ایک وکیل اور شوقین موجد، کارولس گلیڈن کو پیش کرنے کا موقع ملا اسے ابتدائی طور پر یہ مشین بہت پسند آئی لیکن اس کا خیال تھا کہ اس مشین کو مزید کارآمد بنایا جا سکتا ہے آگر اس میں صرف ہندسوں(نمبروں) کی بجائے الفاظ لکھے جا سکیں۔
    شولس فورا ہی اس خیال سے متفق ہوا اور اس پر کام کرنا شروع کیا. اس نے تفصیل سے ممکنہ امکانات کا تجزیہ کیا تاکہ باضابطہ طور پر الفاظ لکھنے والی مشین کو دوبارہ تخلیق کیا جا سکے۔
    شولس کو بالاخر 1867ء میں بڑی کامیابی ہوئی جب سائنٹیفک امریکن میں ایک مضمون ان کی نظروں سے گزرا جس میں مشین کے نمونے جس جون پرات نے 'پترٹائپ' کہا پر روشنی ڈالی گئی تھی۔
    شولس نے اس نمونے کا تجزیہ کیا اور اس کا خیال تھا کہ وہ اس نمونے میں کچھ تبدیلیاں کر کے اپنی مشین کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔
    گلیڈن نے شولس اور سول کے ساتھ اس نئی کوشش میں شمولیت اختیار کی اور جلد ہی یہ تینوں مشین بنانے میں کامیاب ہو گئے جسے شولس نے 'تائپ رائٹر' کا نام دیا لیکن باقیوں نے اسے بنیادی دو سفید اور کالی کیز کی قطار کی وجہ سے 'لٹرری پیانو' کہنا شروع کر دیا۔
    کی بورڈ میں صفر اور ایک کے ہندسے نہیں تھے اور یہ کام آئی اور او کے حروف سے چلایا جاتا تھا، اگلے پانچ سال خاص طور پر شولس کے لئے سخت ثابت ہوئے کیونکہ وہ اپنے دن رات کی بورڈ کی ترتیب کو کامل و بہترین بنانے کی کوششوں میں صرف کرتا تھا۔
    شولس نے ایمنس ڈنسمور کے بگرم فریقونسی کے علم سے بھی استفادہ حاصل کیا. گزشتہ سالوں میں سارفین کے لیے ٹائپنگ کو مزید آرام دہ بنانے کے لیے کافی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔
    کیورٹی (QWERTY) نظام کافی تبدیلیوں کے بعد تخلیق کیا گیا اور شولس کے مطابق اس میں کافی حد تک تبدیلیاں ہو چکی تھیں نئی ترتیب میں الفاظ پورے کی بورڈ میں پھیلے ہوئے تھے کہ تائپسٹ کو اپنی انگلیوں کو ہلانا پڑتا تھا جس سے سٹرین کے خطرے کو کم کیا جا سکتا تھا اور ٹائپنگ بار کولیشن (ڈنڈیوں کے ٹکراؤ) کے خطرے کو بھی کم کیا جا سکتا تھا۔
    جیسا کہ نیا کیورٹی نظام زیادہ سے زیادہ مقبول ہو گیا ہے اور لوگ اس کے عادی ہو گئے ہیں تو اسی لیے اس میں مزید ترامیم کرنا غیر موثر لگتا ہے۔
    بنیادی طور پر انگریزی کی بورڈز کی جتنی بھی اقسام ہیں وہ اس بنیاد پر تشکیل پائیں کہ ٹائیپنگ کے دوران ٹائپ رائٹر کی ڈنڈیاں آپس میں نہ ٹکرائیں۔ جدید دور کے کی بورڈ اسی کے حساب سے بنائے گئے کیونکہ لوگ ٹائپ رائٹر کے عادی تھے تو ان کو کوئی مشکل پیش نہ آئے
    (نوٹ : یہ مضمون فیس بُک سے نقل کیا گیا ہے اور اس کے لکھاری کا نام ساتھ موجود نہیں تھا)
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  11. ٹائپنگ ماسٹر

    ٹائپنگ ماسٹر محفلین

    مراسلے:
    23
    میرا بھی یہی خیال ہے‘ کیورٹی نظام کے مطابق اُردو حروفِ تہجی رکھ کر چلنے سے استعمال کنندگان کو زیادہ مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  12. ٹائپنگ ماسٹر

    ٹائپنگ ماسٹر محفلین

    مراسلے:
    23
    السلام علیکم ! جملہ محفلین سے درخواست ہے کہ اپنے اپنے اُردو کی بورڈ جو آپ کے زیر استعمال ہے کا نام لکھ کر نیچے دی گئی ویب سائٹ سے اُردو ٹائپنگ سپیڈ بھی چیک کرکے رزلٹ شیئر کر دیں تاکہ پتہ چل سکے کہ کون سے کی بورڈ سے کیا سپیڈ حاصل کی جاسکتی ہے۔ مثلاً مونو ٹائپ‘ آفتاب‘ مقتدرہ‘ فونیٹک وغیرہ۔
    اُردو ٹائپنگ سپیڈ چیک کرنے کے لیے لنک درج ذیل ہے :-
    Typing Test Urdu - 10FastFingers.com
    ایزی اُردو کی بورڈ سے ٹائپنگ کرتے ہوئے یہ رزلٹ حاصل ہوا :-
    Urdu Typing Result — Postimage.org
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  13. Hafiz Murtaza

    Hafiz Murtaza محفلین

    مراسلے:
    2
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    الحمدللہ 2016 سے اینڈرائڈ میں ملٹی لنگ او کی بورڈ استعمال کررہا ہوں بہت سی من پسند چیزیں ہیں اس میں۔ ایسا کام لیب ٹاپ میں بھی ممکن ہے ۔
    یا گوگل کیبورڈ کی طرح وائس کے ذریعے لکھنے کی سہولت لیب ٹاپ میں ممکن ہے؟
     
    • زبردست زبردست × 1
  14. ابو ہاشم

    ابو ہاشم محفلین

    مراسلے:
    794
    کیا کی بورڈ میں یہ پروگرامنگ نہیں ہو سکتی کہ زبر کی کلید کو دو بار دبانے سے دو زبر والا کیریکٹر لگ جائے
     
    • متفق متفق × 1
  15. یاسر حسنین

    یاسر حسنین محفلین

    مراسلے:
    134
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    چونکہ اس کے لیے انٹرنیٹ کا ہونا ضروری ہے تو آپ گوگل ڈاکس میں چیک کریں
     
    • متفق متفق × 1
  16. ٹائپنگ ماسٹر

    ٹائپنگ ماسٹر محفلین

    مراسلے:
    23
    بھائی زبر اور دو زبر کو ہم نے ساتھ ہی رکھا ہے‘ بس شفٹ + ‘ پریس کریں
    اسی طرح زیر اور دو زیر کو ہم نے ساتھ ہی رکھا ہے‘ بس شفٹ + i پریس کریں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  17. ابو ہاشم

    ابو ہاشم محفلین

    مراسلے:
    794
    آپ کا یہ طریقہ بہت پسند آیا
    پھر اس سے اگلا خیال آیا کہ شفٹ زبر دبانے سے دو دفعہ زبر دبانا زیادہ آسان لگتا ہے تو کیا ایسا ممکن ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  18. ٹائپنگ ماسٹر

    ٹائپنگ ماسٹر محفلین

    مراسلے:
    23
    بھائی مائیکرو سافٹ ورڈ میں تو آپ آٹو کوریکٹ آپشن میں جا کر زیر زیر کو دو زیر سے ری پلیس کر سکتے ہیں‘ اسی طرح زبر زبر کو دو زبر سے ری پلیس کر سکتے ہیں لیکن ایسا صرف اکیلی صورت میں ہو رہا ہے‘ اور الفاظ کے آخر میں استعمال شدہ زیر زیر کو دو زیر یا زبر زبر کے دو زبر تبدیل نہیں ہو رہے۔
    مثلاً اگر آپ ٹائپ کریں (زیر) (زیر) تو آٹو کوریکٹ اسے (دو زیر) بنا رہا ہے۔
    لیکن اگر آپ (ق) (ص) (د) (ا) (زبر) (زبر) لکھیں تو وہ (قصداً) نہیں بن رہا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر