اورنگزیب بادشاہ تھا یا ولی

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
مغل شاعر کونسے تھے؟

شہزادی زیب النساء مخفی کے دیوان سے پہلی پچاس غزلوں پر Jessie Duncan Westerbrook نے ۱۹۱۳ میں کتاب لکھی رابطہ

https://archive.org/stream/diwanofzebunniss00zebuuoft#page/2/mode/2up

اور دیوان ظفر از ابوالمظفر سراج الدین محمد بہادر شاه غازی کا تو معلوم ہی ہو گا۔
 
آخری تدوین:
یوں کہیے کہ دھاگہ آپ کی دلچسپی سے کھسک گیا ہے لہذا اسے مقفل کردیا جائے۔

تاریخ کو آپ نہ تو ماضی میں جا کر پرکھ سکتے ہیں اور نہ ہی تبدیل۔ جو کچھ اس دور کے تاریخ دان لکھ گئے سچ تھا یا کہ جھوٹ، نہ آپ جانچ یا پرکھ سکتے ہیں نہ میں۔
تو وارڈ لگانے کا کیا فائدہ؟
 
مغل جامعات کی فہرست لاؤ بھئ ۔

دراصل یہ سوال ہی اس بات کا عکاس ہے کہ لوگوں میں تاریخ کی معلومات کم ہیں
درالعلوم دیوبند 1866 میں وجود میں ائی جس کی بنیاد مولانا گنگوہی اور مولونا قاسم ناناتوی نے رکھی۔ یادر ہے کہ 1857 کی جنگ میں آخری مغل بادشاہ شکست کھا چکا تھا۔ تو صرف 9 سال بعد عظیم الشان دارلعلوم (یعنی یونی ورسٹی) کی بنیاد جید سکالرز نے رکھ دی۔ظاہر ہے یہ اسکالرز صرف نو سال میں پیدا ہوکر اور تعلیم بھی حاصل کرکے دارلعلوم کی بنیاد نہیں رکھ سکتے تھے۔ ایک عظیم نظام قائم تھا جس کو انگریزوں نے تباہ کردیا ۔ علما کو پھانسی کی سزا دی اور کالا پانی بھیج دیا۔ ان حالات کے باوجود درالعلوم کا قیام اس بات کا غماز ہے کہ ایک عظیم تعلیمی نظام موجود رہا۔ نہ صرف درالعلوم قائم تھے بلکہ خانقاہی نظام بھی موجودرہا۔ جس طرح اج یونی ورسٹیز میں پروفیسرز ہی علم پھیلاتے ہیں۔ اسی طرح علما برصغیر میں ہر نوعیت کے علم پھیلارہے تھے۔ اس دور میں علوم و فنون الگ الگ نہیں بلکہ ایک ہی علم تصور کیے جاتے تھے

مزید یہ کہ اس وقت علوم و فنون کے مراکز وسط ایشیا، ایران اور ترکی میں تھے جہاں سے ابھی نڈیا کے لوگ مستیفد ہوتے تھے
 
آخری تدوین:
ہمیں تو مغلوں کی یادگاروں میں باغات، محلات، محلسرائیں، بارہ دریاں اور مقابر ہی ملتے ہیں۔ کوشش تو بہت کی ہے کہ کہیں سے لائبریریاں، ہسپتال، یونیورسٹیاں یا جامعات وغیرہ بھی مل جائیں، لیکن میری کم علمی مدد نہیں کر رہی :(
ہندوستان سے صباح الدین عبد الرحمن صاحب کی کتابیں شاید آپ کی مدد کرسکیں :) :)
 

عثمان

محفلین
تاریخ کو آپ نہ تو ماضی میں جا کر پرکھ سکتے ہیں اور نہ ہی تبدیل۔ جو کچھ اس دور کے تاریخ دان لکھ گئے سچ تھا یا کہ جھوٹ، نہ آپ جانچ یا پرکھ سکتے ہیں نہ میں۔
تو وارڈ لگانے کا کیا فائدہ؟
تاریخ پڑھنے اور پرکھنے کے بڑے سائنٹیفک طریقے موجود ہیں. دنیا بھر میں تاریخ محض قصہ گوئی یا قدیم تاریخ دانوں کے بیانات پر انحصار نہیں کرتی.
 

عثمان

محفلین
شہزادی زیب النساء مخفی کے دیوان سے پہلی پچاس غزلوں پر Jessie Duncan Westerbrook نے ۱۹۱۳ میں کتاب لکھی رابطہ

https://archive.org/stream/diwanofzebunniss00zebuuoft#page/2/mode/2up

اور دیوان ظفر از ابوالمظفر سراج الدین محمد بہادر شاه غازی کا تو معلوم ہی ہو گا۔
بہتر ہوتا کہ یہ سوال ایکس بوائے کے لیے رکھ چھوڑتے.
 

عثمان

محفلین
دراصل یہ سوال ہی اس بات کا عکاس ہے کہ لوگوں میں تاریخ کی معلومات کم ہیں
درالعلوم دیوبند 1866 میں وجود میں ائی جس کی بنیاد مولانا گنگوہی اور مولونا قاسم ناناتوی نے رکھی۔ یادر ہے کہ 1857 کی جنگ میں آخری مغل بادشاہ شکست کھا چکا تھا۔ تو صرف 9 سال بعد عظیم الشان دارلعلوم (یعنی یونی ورسٹی) کی بنیاد جید سکالرز نے رکھ دی۔ظاہر ہے یہ اسکالرز صرف نو سال میں پیدا ہوکر اور تعلیم بھی حاصل کرکے دارلعلوم کی بنیاد نہیں رکھ سکتے تھے۔ ایک عظیم نظام قائم تھا جس کو انگریزوں نے تباہ کردیا ۔ علما کو پھانسی کی سزا دی اور کالا پانی بھیج دیا۔ ان حالات کے باوجود درالعلوم کا قیام اس بات کا غماز ہے کہ ایک عظیم تعلیمی نظام موجود رہا۔ نہ صرف درالعلوم قائم تھے بلکہ خانقاہی نظام بھی موجودرہا۔ جس طرح اج یونی ورسٹیز میں پروفیسرز ہی علم پھیلاتے ہیں۔ اسی طرح علما برصغیر میں ہر نوعیت کے علم پھیلارہے تھے۔ اس دور میں علوم و فنون الگ الگ نہیں بلکہ ایک ہی علم تصور کیے جاتے تھے

مزید یہ کہ اس وقت علوم و فنون کے مراکز وسط ایشیا، ایران اور ترکی میں تھے جہاں سے ابھی نڈیا کے لوگ مستیفد ہوتے تھے
یہ "جواب" اس بات کا عکاس ہے کہ کچھ لوگ سوال پڑھنے اور سمجھنے ہی سے قاصر ہیں. مغل ادوار میں ہندوستان کے کسی عصری تعلیمی ادارے کا نام لے کر آئیں. جو یا تو اب تک تعلیم دے رہا ہو یا ایک عرصہ تک تعلیم دے چکا ہو.
 
آخری تدوین:
مثل مشہور ہے کہ گھر کی مرغی دال برابر۔اب ہمیں مسلمانوں سےانگریز اچھے لگنے لگے ہیں ۔شاید ہمارے علم میں کوئی کمی ابھی باقی ہے۔
ہم اگر مغلوں کی رفاہی فلاحی اصطلات کو زیر بحث لاہیں تو کئی صفات لگ جاہیں لیکن پھر بھی اصطلات باقی رہ جائیں۔بات عدل و انصاف کی ہو یا تعمیر و ترقی کی

روشنی ڈالئے گا کہ کیسی باتیں ہیں جو ہم سے پوشیدہ ہیں مغل حکمرانوں کی :)


کوئی ایک ایسی پوشیدہ بات جسے جاننا اہم تھا اور ہم لا علم ہیں؟
 
تاج محل
ہرن مینار
شاہی قلعہ
بارہ دری
قطب مینار
بادشاہی مسجد
مقبرہ جات
تشفی نہ ہونے کی صورت میں صبر کیجیے

ان میں اب تک عالم انسانیت کی بھلائی کا اعلیٰ ترین درس دیا جاتا ہے۔۔۔۔ انہوں نے اپنی نمود و نمائش کے لئے تھوڑا ہی بنائی تھیں یہ عالیشان عمارتیں
 
تاریخ کو آپ نہ تو ماضی میں جا کر پرکھ سکتے ہیں اور نہ ہی تبدیل۔ جو کچھ اس دور کے تاریخ دان لکھ گئے سچ تھا یا کہ جھوٹ، نہ آپ جانچ یا پرکھ سکتے ہیں نہ میں۔
تو وارڈ لگانے کا کیا فائدہ؟
خیر سے پرکھ کیوں نہیں سکتے۔ ہر شہ کو عقل کی کسوٹی پر پرکھا جا سکتا ہے۔ تاریخ بدلی نہیں سکتی پرکھی تو جاسکتی ہے۔۔۔۔
 
خیر سے پرکھ کیوں نہیں سکتے۔ ہر شہ کو عقل کی کسوٹی پر پرکھا جا سکتا ہے۔ تاریخ بدلی نہیں سکتی پرکھی تو جاسکتی ہے۔۔۔۔
"غیر متفق"
ہر شہ کو نہیں، کسی کسی کو :cool:
تاریخ پڑھنے اور پرکھنے کے بڑے سائنٹیفک طریقے موجود ہیں. دنیا بھر میں تاریخ محض قصہ گوئی یا قدیم تاریخ دانوں کے بیانات پر انحصار نہیں کرتی.
"غیر متفق"

سائنٹیفک طریقے موجود ہیں، صحیح
ان طریقوں سے کیا جانا جا سکتا اور کیا نہیں، آپ اپنے آباؤاجداد کے متعلق کتنا جانتے ہیں اور آپ کے سائنٹیفک طریقوں اُن سے متعلق کتنا مزید جان سکتے؟ بس ایک محدود حد تک۔ اس سے زیادہ یہ لولی لنگڑی سائنس آپ کو کچھ بھی نہیں بتا سکتی۔
 

عثمان

محفلین
"غیر متفق"
ہر شہ کو نہیں، کسی کسی کو :cool:

"غیر متفق"

سائنٹیفک طریقے موجود ہیں، صحیح
ان طریقوں سے کیا جانا جا سکتا اور کیا نہیں، آپ اپنے آباؤاجداد کے متعلق کتنا جانتے ہیں اور آپ کے سائنٹیفک طریقوں اُن سے متعلق کتنا مزید جان سکتے؟ بس ایک محدود حد تک۔ اس سے زیادہ یہ لولی لنگڑی سائنس آپ کو کچھ بھی نہیں بتا سکتی۔
اپنے آباو اجداد کے بارے میں جاننے کی تحقیق کی جائے تو بہت کچھ جانا جا سکتا ہے۔ سائنس کو" لولی لنگڑی" سمجھنے والوں کا کیا مقام ہے یہ بتانے کی ضرورت نہیں۔
 
ہمیں تو مغلوں کی یادگاروں میں باغات، محلات، محلسرائیں، بارہ دریاں اور مقابر ہی ملتے ہیں۔ کوشش تو بہت کی ہے کہ کہیں سے لائبریریاں، ہسپتال، یونیورسٹیاں یا جامعات وغیرہ بھی مل جائیں، لیکن میری کم علمی مدد نہیں کر رہی :(

انگریزوں نے اپنا نظام قائم کرنا تھا، ظاہر ہے دو مخالف نظام ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ مقابر اس لئیے باقی رہنے دیئے نظام چلانے میں رکاوٹ نہ تھے۔
مغلیہ دور کی تعمیر کردہ باقیات کے لیئے انجینئرز ڈزائنرز آرکیٹیکٹس یورپ سے نہیں منگوائے گیئے ، برصغیر کے ہندو یا مسلم ہی تھے، ان باقیات (قلعے، مقبرے، باغات وغیرہ) کی تعمیری complexity اور شان و شوکت دیکھ کر کوئی کہہ ہی نہیں سکتا کہ مدرسے جامعات نہ ہوں گے۔

عراق نے صدام کے دور میں جو ترقی کی کیا اس کے نام و نشان لٹیروں نے باقی رہے دیئے؟؟؟

قرآنی احکام کے مطابق بادشاہت کے لئے بھائیوں کا قتل جائز ہے؟ بادشاہت جائز ہے؟ اگر نہیں تو آپ کو جواب مل جائے گا :)

نہیں بالکل نہیں، کوئی گنجائش نہیں۔

پاکستان میں لیاقت علی خان سے بےنظیر تک ایسا ہی ہو تا رہا ہے یا نہیں؟
 
اپنے آباو اجداد کے بارے میں جاننے کی تحقیق کی جائے تو بہت کچھ جانا جا سکتا ہے۔ سائنس کو" لولی لنگڑی" سمجھنے والوں کا کیا مقام ہے یہ بتانے کی ضرورت نہیں۔
مجھے معلوم نہیں تھا۔ ایکس بوائے کی سپامنگ روکنے کے لیے سوال پوچھا گیا تھا۔
آپ جائیے پہلے اپنا علمی اور معلوماتی دائرہ وسعی کیجیئے پھر آئیے گا۔

لطائف سے بڑھ کر یہ مغلوں کے مداحوں کے تماشے میں تبدیل ہوچکا ہے۔ :)
تماشہ تو آپ نے لگارکھا ہے۔ :eek:

آپ نے جتنا کچھ اس دھاگہ سیکھا اس کا اندازہ بخوبی ہو رہا ہے
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top