ابن انشا انشاء جی بہت دن بیت چکے

محمد بلال اعظم نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 21, 2012

  1. محمد بلال اعظم

    محمد بلال اعظم لائبریرین

    مراسلے:
    10,288
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    انشاء جی بہت دن بیت چکے
    تم تنہا تھے تم تنہا ہو
    یہ جوگ بے جوگ تو ٹھیک نہیں
    یہ روگ کسی کا اچھا ہو
    کبھی پورپ میں کبھی پچھم میں
    تم پرواہ ہو تم پچھواہ ہو
    جو نگری نگری بھٹکائے ہے
    ایسا بھی نہ من میں کانٹا ہو
    کیا اور سبھی چونچال یہاں
    کیا ایک تمہی یہاں دکھیا ہو
    کیا تمہی پر دھوپ کڑی
    جب سب پر سکھ کا سایہ ہو
    تم کس جنگل کا پھول میاں
    تم کس بھگیا کا بیلا ہو
    تم کس ساغر کی لہر بھلا
    تم کس بادل کی برکھا ہو
    تم کس پونم کا اجیارہ
    کس اندھی رین کی اوشا ہو
    تم کن ہاتھوں کی مہندی ہو
    تم کس ماتھے کا ٹیکہ ہو
    کیوں شہر تجا کیوں جوگ لیا
    کیوں وحشی ہو کیوں رسوا ہو
    ہم جب دیکھیں روپ نیا
    ہم کیا جانے تم کیا کیا ہو
    جب سورج ڈوبے سانج بہئے
    اور پھیل رہا اندھیارہ ہو
    کس ساز کی لحہ پر چھنن چھنن
    کس گیت کا مکھڑا جاگا ہو
    اس تال پہ ناچتے پیڑوں میں
    اک چپ چپ ندیا بہتی ہو
    ہوچاروں اوٹ سگہن بسی
    یوں جنگل پہنا گجرا ہو
    یہ عنبر کے مکھ کا آنچل
    اس آنچل کا رنگ اودھا ہو
    ایک گوٹ دو پیلے تاروں کی
    اور بیچ سنہرا چندا ہو
    اس سندر شیتل شام سمے
    ہاں بولو بولو پھر کیا ہو
    وہ جس کا ملنا ناممکن
    وہ مل جائے تو کیسا ہو
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  2. محمد بلال اعظم

    محمد بلال اعظم لائبریرین

    مراسلے:
    10,288
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    یہ نظم مجھے انٹرنیٹ سے ملی ہے اور کئی جگہ غلطیاں ہیں، کیا کوئی تصیح کر سکتا ہے یا اصل نظم پوسٹ کر سکتا ہے؟
     

اس صفحے کی تشہیر