1. اردو محفل سالگرہ شانزدہم

    اردو محفل کی سولہویں سالگرہ کے موقع پر تمام اردو طبقہ و محفلین کو دلی مبارکباد!

    اعلان ختم کریں

اندیشہ ہائے دور دراز

ضیاء حیدری نے 'ہمارا معاشرہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏فروری 15, 2021

  1. ضیاء حیدری

    ضیاء حیدری محفلین

    مراسلے:
    453

    اندیشہ ہائے دور دراز
    آپ پوچھ سکتے ہو کہ اندیشہ ہائے دور دراز کے معنی کیا ہیں اور کیا اندیشہ کے ساتھ ہائے ہائے کرنا ضروری ہے، بعض اندیشوں کیساتھ ہائے ہائے کرنا ضروری ہوجاتا ہے، جیسا کہ منٹو کے ساتھ ہوا،
    یہ ۱۹۴۱ کی بات ہے منٹو ریڈیو میں کام کرتے تھے وہ ابھی فلمی دنیا سے وابستہ نہ ہوئے تھے کہ انھیں غالب پر فلم بنانے کا خیال آیا، تو لگے کھنگالنے غالب کی سوانح کو، نھیں کہیں غالب کے ایک خط میں 'ستم پیشہ ڈومنی' کا فقرہ نظر آ گیا، بس پھر کیا تھا منٹو نے ایک طوائف موتی بیگم عرف چودھویں بیگم کے کردار میں فلم کی کہانی میں پیش کیا جو غالب کی شاعری کی شیدا تھی، بس اتنی سی بات جسے منٹو جیسے قلمار نے فلمی کہانی کا روپ دیا فلم بھی بنی اور اس کو ایوارڈ بھی ملا۔
    حالانکہ غالب اور ڈومنی کا قصہ بہت مشکوک ہے۔ صرف ایک خط میں ایک جملہ تھا ۔ "عمر بھر میں ایک ستم پیشہ ڈومنی کو میں نے بھی مار رکھا ہے" ۔اس خط کے علاوہ اس بات کا کہیں اور یہ ذکر نہیں ملتا ہے، باقی ساری کہانی، بمبئی کی بولی مین کہوں تو منٹو کے دماغ کی بتی کی اختراع ہے۔
    بہت سے اندیشے ہم اپنے دماغ کی بتی میں روشن کرتے رہتے ہیں اور انجانے خوف پالتے رہتے ہیں، ایسا ہی خوف ماں باپ اولاد کے جوان ہونے پر پالتے ہیں اور اس اندیشے میں مبتلا رہتے ہیں کہ لونڈا وہ تمام کارنامے کر گذرے گا، جن کی چاہت ہمیں جوانی میں پیدا ہوتی تھی مگر زمانے کے خوف سے کر نہیں سکے تھے۔
    اولاد کی تربیت بجا ہے، ان کے دل میں خوف خدا پیدا کیجئے، اچھے برے کی تمیز پیدا کیجئے، لیکن کسی اندیشہ ہائے دوردراز کے خوف سے ان کی زندگی اجیرن نہ کیجئے۔۔۔
     
    آخری تدوین: ‏فروری 15, 2021

اس صفحے کی تشہیر