انتخاب امیر مینائی

عظیم خواجہ

محفلین
منہ پھر نہ کر وطن کی طرف یوں وطن کو چھوڑ چھوٹے جو بوئے گل کی طرح سے چمن کو چھوڑ

اے روح، کیا بدن میں پڑی ہے بدن کو چھوڑ
میلا بہت ہوا ہے، اب اس پیرہن کو چھوڑ

ہے روح کو ہوس کہ نہ چھوڑے بدن کا ساتھ
غربت پکارتی ہے کہ غافل، وطن کو چھوڑ

کہتی ہے بوئے گل سے صبا آ کے صبح دم
اب کچھ اِدھر اُدھر کی ہوا کھا، چمن کو چھوڑ

تلوار چل رہی ہے کہ یہ تیری چال ہے
اے بُت خدا کے واسطے اِس بانکپن کو چھوڑ

شاعر کو فِکر شعر میں راحت کہاں امیر
آرام چاہتا ہے تو مشق سخن کو چھوڑ

امیر مینائ
 
واااااااہ واااہ۔۔۔۔۔۔ بہت خوب جناب
،
کہتی ہے بوئے گل سے صبا آ کے صبح دم​
اب کچھ اِدھر اُدھر کی ہوا کھا، چمن کو چھوڑ​
۔
تلوار چل رہی ہے کہ یہ تیری چال ہے​
اے بُت خدا کے واسطے اِس بانکپن کو چھوڑ​
 

باباجی

محفلین
امیر مینائی کا بہت خوبصورت کلام
سوچ رہا کچھ شیئر کروں
میرے پاس ان کا مجموعہ کلام پڑا ہوا ہے
 
Top