امیر خسرو کا ہندوی " اردو" کلام۔۔۔تبصرہ،تجویز،استفسار

شاکرالقادری

لائبریرین
سیدہء محترمہ
وعلیکم السلام
پسندیدگی کا شکریہ
اک ذرا آپ کو زحمت تو ہوگی لیکن اگر آپ میری پوسٹ کو کاپی کرکے اپنے پیغام میں پیشت کرتے ہوئے ان ان مقامات پر کوئی نشان لگا دیں یا رنگ بدل دیں جہاں جہاں آپ کے پاس ایکسپلورر میں ڈبے بن رہے ہیں تاکہ میں اپنے ایڈیٹر میں موجود مسئلے کو درست کر لوں آپ کو زحمت اس لیے دے رہا ہوں کہ میرے پاس یہ ڈبے نہیں بن رہے اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ میں نے محفل نسخ فونٹ انسٹال نہیں کیا ہوا
ایک بات یہ کہ میں جب بھی قوسین بریکٹس استعمال کرتا ہوں وہ ٹائپ تو ہوتے ہیں لیکن پیغام ارسال ہو جانے کے بعد نظر نہیں آتے
ایک اور زحمت آپ کو یہ دے رہا ہوں کہ ذرا میری رہنمائی فرمایئے کہ آپ اپنے پیغام کے کسی بھی لفظ یا الفاظ کو ربط یعنی لنک کی صورت کیسے دے دیتی ہیں میں نے بہت کوشش کی لیکن ایسا نہیں کر پایا
ایک وضاحت کردوں کہ فارسی کلام کا جو ترجمہ مہیا کیا جا رہا ہے اور جو حواشی دیے جا رہے ہیں وہ میری اپنی جانب سے ہیں ۘ وہ گوپی چند نارنگ کی مذکورہ کتاب کا حصہ نہیں ہیں دوسرے یہ کہ کتاب مذکور سے صرف کلام یہاں پوسٹ کر رہا ہوں جبکہ کتاب میں کلام کے باری میں جو تحقیق شامل ہے اسے نظر انداز کر رہا ہوں
 

دوست

محفلین
اردو لکھیں اس کے بعد جو ربط بنانا ہے اسے نمایاں کرلیں۔ سیلیکٹ۔
پھر اوپر ربط کا بٹن نظر آرہا ہے زنجیر کے آئکن والا اسے دبا دیں اس کے ارد گرد [ url]یہ[/url] لکھا آجائے گا۔ دائیں‌ والے جس میں‌ ترچھی لکیر نہیں کے دائیں جانب ہی بریکٹ میں برابر کا نشان اور پھر یو آی ایل پیسٹ کردیں وہاں کام ختم۔پیش منظر کرکے ایک بار دیکھ لیں کہ ٹھیک کام کررہا ہے یا نہیں۔
 

الف عین

لائبریرین
شاکر صاحب۔ آپ جو آرنیٹ بریکٹ استعمال کر رہے ہیں وہ بہت کم فانٹس میں موجود ہے۔ آپ نے شاید اپنا کسٹمائزڈ کی بورڈ بنا رکھا ہے جس میں یہ بریکٹ ہیں، یونی کوڈ نمبر ڈھونڈھنا پڑے گا، یاد نہیں)
آپ نارمل قوسین استعمال کریں تو کسی کو مشکل نہ ہوگی۔
 
شاکر صاحب بہت عمدہ موضوع کا انتخاب کیا ہے۔ اردو کی تاریخ میں بہت اہمیت کا حامل کام ہے یہ اور اردو کی ابتدا کے بارے میں جاننے والوں کے لیے شوق کی تسکین کا باعث‌ہوگا۔ اردو کے ایسے کلاسیکل مواد پر اگر آپ کچھ اور پوسٹ کرنا چاہ رہے ہیں تو کسی دھاگے پر اس پر روشنی ڈالیں تاکہ اور لوگ جو شاید انہی خطوط پر سوچ رہے ہوں وہ آپ کا ہاتھ بٹا سکیں یا آپ کو عملی طور پر یہ کام کرتا دیکھ کر اس طرف مائل ہو جائیں
 

شاکرالقادری

لائبریرین
محب علوی!
سلام
امید ہے کہ مزاج بخیر ہونگے!
موضوع کی پسندیدگی کا شکریہ !
آپ نے درست انداز میں قیاس کیا ہے میں کچھ اس نہج پہ سوچ رہا تھا کہ اردو زبان کی ترویج و ترقی اور اردو ادبیات میں مشائخ عظام کے کردار پر کچھ لکھا جائے
خصوصا مشائخ چشت کی خدمات اس معاملہ میں انتہائی غیر معمولی ہیں ان سے لوگوں کو آگاہ کیا جائے
اگر ہم اردو کی تاریخ میں سے ان مشائخ کو نکال دیں تو شاید اردو کا دامن خالی نظر آنے لگے
اب ایک امیر خسرو ہی کو لیجیے
ہندوستان میں سلسلہ عالیہ چشتیہ کی عظیم الشان درگاہ کے بانی حضرت نظام الدین بدایونی کے مرید اور انہی کے پروردہ فیض یافتہ ہیں اور خود بھی سلسلہ کے عظیم مشائخ میں سے شمار ہوتے ہیں
عنقریب انشاء اللہ کسی دھاگے میں مدلل انداز سے یہ ثابت کرونگا کہ اردو کی ابتدا خانقاہ سے ہوئی اور اس زبان نے خانقاہ ہی کے زیر سایہ پرورش پائی
 
Top