امیر خسرو اِک ہمہ گیر شخصیت

سیدہ شگفتہ نے 'امیرخسرو' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 3, 2006

  1. سیدہ شگفتہ

    سیدہ شگفتہ لائبریرین

    مراسلے:
    29,439


    امیر خسرو اِک ہمہ گیر شخصیت


    تحریر : ڈاکٹر سید مقصود زاہدی


     
  2. سیدہ شگفتہ

    سیدہ شگفتہ لائبریرین

    مراسلے:
    29,439
    امیر خسرو آج سے سات سو برس قبل پیدا ہوئے تھے لیکن اقلیم سخن میں اور خاص و عام کے دلوں پر ان کی حکمرانی آج تک قائم ہے اور ان کی تخلیقات کے سکے ابھی تک فن کی دنیا میں رائج ہیں ۔ ہماری قومی زبان اُردو کی تاریخ کے ڈانڈے یوں تو سعدِ سلمان لاہوری (عہدِ غزنوی) اور بابا فرید شکر گنج سے مل جاتے ہیں لیکن حضرت امیر خسرو اُردو زبان کے باوا آدم تصور کئے جاتے ہیں اور کس قدر حیرت کی بات ہے کہ وہ دو سخنے ، وہ پہیلیاں اور کہہ مکرنیاں جو انھوں نے سات صدیوں قبل کہی تھی ہماری زبان میں آج تک بغیر کسی ردوبدل کے گھر گھر مقبول ہیں اور وہ کونسی ہندوپاک کی شادی کی تقریب ہے جہاں لڑکی کی رخصتی کے وقت آج بھی یہ گیت نہیں گایا جاتا۔

    کاہے کو بیاہی بدیس
    او لکھی بابل مورے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. سیدہ شگفتہ

    سیدہ شگفتہ لائبریرین

    مراسلے:
    29,439
    اور وہ کون سی لڑکیوں اور معمر خواتین کی مجلس ہوتی ہے جہاں امیر خسرو کا نام پہیلیوں اور کہہ مکرنیوں کے سلسلے میں نہ آجاتا ہواور ان کے لطیفے ایک دوسرے کو سنا کر خوشوقت نہ ہوتے ہوں۔

    امیر خُسرو کی زندگی اتنی پہلودار اس قدر بھر پُور ہے کہ اُسے حد درجے زرخیز زمین کی مثال دی جاسکتی ہے۔ جس طرح زمین اپنے اندر تخلیق کے بے شمار امکانات کو چھپائے رکھتی ہے۔ جس طرح اُس کے بطن سے ہر نوع کی اشیاء پیدا ہوتی رہتی ہیں لیکن اس کی زرخیزی میں کمی نہیں آتی یہی کیفیت امیر خسرو کی نظر آتی ہے۔ ان کے سدا بہار ذہن کی زرخیزی اور ہمہ گیری کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے۔ ان کی شخصیت اپنے عظیم ذہنِ رسا کی بدولت اتنی رنگا رنگ نظر آتی ہے کہ کسی ایک انسان میں اتنے تخلیقی اوصاف کا بدرجہ کمال پایا جانا ایک معجزے سے کسی عنوان کم نہیں ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر