1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $413.00
    اعلان ختم کریں

امریکی کانگریس کی مسلمان خواتین کے اسرائیل میں داخلے پر پابندی

جاسم محمد نے 'آج کی خبر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 16, 2019 2:54 صبح

  1. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    11,019
    امریکی کانگریس کی مسلمان خواتین کے اسرائیل میں داخلے پر پابندی
    ویب ڈیسکاپ ڈیٹ 15 اگست 2019
    [​IMG]
    اسرائیل نے تل ابیب مخالف بیان پر امریکی کانگریس کی مسلمان خواتین پر اپنے ملک میں داخلے پر پابندی لگادی۔

    خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق کانگریس کی خاتون رکن الہان عمر اور راشدہ طالب کا دورہ اسرائیل طے شدہ تھا، جہاں سے انہیں فلسطین جانا تھا۔

    تاہم تل ابیب کے مطابق اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کے ساتھ برتاؤ پر متنازع بیان دینے پر مذکورہ پابندی کا فیصلہ کیا گیا۔

    خیال رہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کی رکنِ کانگریس رشیدہ طالب کا تعلق فلسطین سے ہے اور الہان عمر ایک صومالی مہاجر کی بیٹی ہیں۔

    اس حوالے سے مزید بتایا گیا کہ خواتین پر پابندی کے فیصلے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت شامل ہے۔

    اسرائیل کی وزیر داخلہ نے اعلان کیا کہ ان غیرملکیوں کو ملک میں داخلے کی اجازت نہیں دی جاسکتی جو ہمارے ملک کے بائیکاٹ کا مطالبہ کریں۔

    ادھر خبررساں ادارے ’اے پی‘ کے مطابق اسرائیل کے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل ’تمام ناقدین اور دورہ کرنے والوں کے لیے کھلا‘ ہے لیکن بائیکاٹ کی حمایت کرنے والی دو امریکی کانگریس خواتین کے لیے داخلہ ممنوع ہے۔

    وزیراعظم ہاؤس سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ ’دونوں رکن کانگریس کی آمد کا واحد مقصد اسرائیل کے خلاف بائیکاٹ مہم کو تقویت بخشنا اور اس کی جائز حیثیت کو غیر موثر بنانا ہے‘۔

    بینجمن نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل امریکی کانگریس کے 70 سے زائد ریپبلکن اور ڈیموکریٹس کو ’کھلے دل کے ساتھ‘ خوش آمدید کہہ چکا ہے۔

    انہوں نے دعویٰ کیا کہ دنیا میں اسرائیل کے علاوہ ایسی کوئی ریاست نہیں جو امریکا کی سب سے زیادہ عزت کرتی ہو۔

    واضح رہے کہ رواں برس فروری میں الہان عمر اور رشیدہ طالب نے ایوانِ نمائندگان میں قدم رکھا تھا اور علی الاعلان اسرائیل کے خلاف فلسطین کی بائیکاٹ تحریک اور ترک سرمایہ و پابندی (بی ڈی ایس) کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔

    جب ایک ریپلکن شخص نے سوال اٹھایا کہ الہان عمر کو کیا لگتا ہے کہ امریکی سیاستدانوں کو اسرائیل کی حمایت کے لیے کون پیسے دیتا ہے تو انہوں نے امریکی، اسرائیل امورِ عامہ کمیٹی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے یک لفظی جواب دیا ’اے آئی پی اے سی‘۔

    بعدازاں الہان عمر نے یہود مخالف بیان پر غیرمشروط معافی مانگی تھی۔
     

اس صفحے کی تشہیر