امریکا نے شام پر حملہ کردیا

شاہد شاہ

محفلین
امریکا نے شام پر حملہ کردیا
478538_2664555_updates.jpg


امریکا نے فرانس اور برطانیہ کے ساتھ مل کر شام پر حملوں کا آغاز کردیا گیا ہے۔ شامی حکام نے بھی حملوں کی تصدیق کردی ہے۔

شام کی سرکاری خبرایجنسی کا کہنا ہے کہ شامی فضائیہ امریکا،برطانیہ اورفرانس کےحملےکاجواب دےرہی ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق دمشق میں یکے بعد دیگر ے کئی دھماکے سنے گئے، اور دھواں اٹھتے بھی دیکھا گیا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہناہے کہ شام میں امریکی فوجی ایکشن جاری ہے، شام میں مخصوص اہداف کونشانہ بنایاگیاہے،حملہ برطانیہ اورفرانس کےساتھ مل کرکیاگیاہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ شام کا کیمیائی حملہ کرنا اس کی بنیاد بنا،شام پر حملوں کا تسلسل برقرار رہے گا۔

صدر ٹرمپ نے ایران اور روس کو شام سے تعلقات پر انتباہ کیا، ان کا کہنا تھا کہ کیمیائی حملوں پرشامی حکومت اوراسکےروسی اورایرانی اتحادیوں کااحتساب کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بشارا الاسد کے مستقبل کا فیصلہ شام کے عوام کے ہاتھوں میں ہے۔

ادھر برطانوی وزیراعظم نے بھی اپنی فوج کو شام میں حملے کی اجازت دے دی ہے۔

تھریسا مے کا کہنا ہے کہ شام پر حملوں کے سوا کوئی اور آپشن نہیں تھا۔حملوں کا مقصد شامی حکومت کے کیمیائی ہتھیاروں کی صلاحیت کو ختم کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حملوں کا مقصد شام میں حکومت کی تبدیلی ہے۔

وائٹ ہاؤس کا موقف

اس سے پہلے وہائٹ ہاؤس نے کہا تھا کہ امریکا کے پاس ثبوت ہیں کہ شام نے دوما میں کیمیائی حملہ کیا تھا ۔

امریکی سفیرکا کہنا تھا کہ شام کی فوج نے کم از کم 50 بار کیمیائی ہتھیار استعمال کئے تھے ۔فرانس نے شام کے خلاف بھر پور عالمی رد عمل کا مطالبہ کیا تھا۔

شام نے کہاہے کہ امریکا اور یورپ دنیا کو جنگ کی طرف دھکیل رہے ہیں ۔

لبنانی تنظیم حزب اللہ کے سر براہ حسن نصراللہ کا کہنا ہے کہ شام میں اسرائیلی حملہ دراصل ایران کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے مترادف ہے ۔
بین الاقوامی خبریں - امریکا نے شام پر حملہ کردیا - Latest News | Daily Jang
 

Fawad -

محفلین
فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


Da7_Pqc_GX0_AAfq6o.jpg


" اس مرتبہ ہمارے اتحادیوں اور ہم نے کڑی کارروائی کی ہے۔ ہم نے مشترکہ طور پر اسد اور اس کے قاتل معاونین کو ایک واضح پیغام دیا ہے کہ انہیں کیمیائی ہتھیاروں سے مزید حملے نہیں کرنے چاہئیں جن کے لیے وہ جوابدہ ہوں گے"،

امریکی وزیردفاع جیمز

شام کے معاملے پر امریکی وزیردفاع جیمز این میٹس کا بیان

جیسا کہ دنیا جانتی ہے شامی عوام نے اسد حکومت کی جانب سے ظلم و زیادتی کے طویل عرصہ میں بری طرح مصائب اٹھائے ہیں۔

سات اپریل کو اسد حکومت نے مہذب لوگوں کے اصولوں کی ایک مرتبہ پھر خلاف ورزی کا فیصلہ کیا اور خواتین، بچوں اور دیگر معصوم لوگوں کو کیمیائی ہتھیاروں سے قتل کرنے کے لیے عالمی قانون سے سنگدلانہ بے اعتنائی برتی۔ ہم اور ہمارے اتحادی ایسے مظالم کو ناقابل معافی سمجھتے ہیں۔

ہمارے کمانڈرانچیف اور صدر کےپاس سمندرپار اہم امریکی قومی مفادات کے دفاع کے لیے آئین کے آرٹیکل 2 کے تحت فوجی طاقت استعمال کرنے کا اختیار ہے۔ شام میں بدترین شکل اختیار کرتی مصیبت کا رخ پھیرنے اور خاص طور پر کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال اور پھیلاؤ روکنے میں امریکہ کا اہم قومی مفاد ہے۔

گزشتہ برس عام شہریوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں سے حملے کے ردعمل میں اور شامی حکومت کو کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال روکنے کا پیغام دینے کے لیے ہم نے اس فوجی اڈے کو نشانہ بنایا جہاں سے یہ ہتھیار استعمال کیے گئے تھے۔

صدر ٹرمپ نے امریکی فوج کو ہمارے اتحادیوں کے ساتھ مل کر شامی حکومت کے کیمیائی ہتھیاروں پر تحقیق، تیاری اور ان کی پیداوار کی اہلیتیں تباہ کرنے کی کارروائیوں کا حکم جاری کیا۔

آج رات فرانس، برطانیہ اور امریکہ نے شامی کیمیائی ہتھیاروں کی تنصیبات پر حملے کی فیصلہ کن کارروائی کی۔

یہ واضح ہے کہ اسد حکومت نے گزشتہ برس پیغام نہیں سمجھا تھا۔ اس مرتبہ ہمارے اتحادیوں اور ہم نے کڑی کارروائی کی ہے۔ ہم نے مشترکہ طور پر اسد اور اس کے قاتل معاونین کو ایک واضح پیغام دیا ہے کہ انہیں کیمیائی ہتھیاروں سے مزید حملے نہیں کرنے چاہئیں جن کے لیے وہ جوابدہ ہوں گے۔

داعش کو شکست دینے کے اتحاد میں شامل 70 ممالک شام میں داعش کی شکست کے حوالے سے بدستور پرعزم ہیں۔ آج رات کیا جانے والا حملہ کسی ہدف پر، کسی بھی طرح کے حالات میں اور عالمی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال روکنے کے عالمی عزم کو ظاہر کرتا ہے۔

میں اس بات پر زور دینا چاہتا ہوں کہ یہ حملے شامی حکومت پر کیے گئے۔ ان حملوں میں ہم نے شہریوں اور غیرملکیوں کی ہلاکتوں سے بچنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔

وقت آ گیا ہے کہ تمام مہذب ممالک متحدہ کی معاونت سے جنیوا امن عمل کی حمایت کر کے شامی خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے فوری طور پر متحد ہو جائیں۔

ایسے کیمیائی ہتھیاروں کے امتناع سے متعلق کنونشن کی مطابقت سے ہم ذمہ دار ممالک پر زور دیتے ہیں کہ وہ اسد حکومت کی مذمت کریں اور کیمیائی ہتھیاروں کا دوبارہ استعمال روکنے کے لیے ہمارے مضبوط عزم کا حصہ بنیں۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
 

Fawad -

محفلین
فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

Da6-_JOGX4_AEe4z_H.jpg



"اسد حکومت نے روس اور ایران کی بھرپورحمایت سے سلامتی کونسل کو کئی مہینوں تک دھوکہ دیا"،سفيرنيکی ہيلی

شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق قرارداد پر ووٹ کی وضاحت

شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق قرارداد پر ووٹ کی وضاحت – تراجم


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
 

Fawad -

محفلین
فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

Da69l_O5_Wk_AAsfep.jpg


"ہم نے شامی حکومت کوانسانیت کےخلاف اس کےمظالم پر ذمہ دارٹھہرا کر مستقبل میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال روکنےکيلئے کارروائی کی "، سفير نيکی ہيلی


شام کے معاملے پر سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے امریکی سفیر نکی ہیلی کا خطاب – تراجم

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
 

جان

محفلین
فواد ڈیجیٹیل آؤٹ ریچ ٹیم اور میر جعفر میں فرق تلاش کرنا مشکل ہے۔
اقبال نے کیا خوب کہا ہے
جعفر از بنگال و صدق از دکن
ننگ آدم ننگ دین ننگ وطن
 

م حمزہ

محفلین
فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

Da69l_O5_Wk_AAsfep.jpg


"ہم نے شامی حکومت کوانسانیت کےخلاف اس کےمظالم پر ذمہ دارٹھہرا کر مستقبل میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال روکنےکيلئے کارروائی کی "، سفير نيکی ہي

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
اس سے زیادہ مضحکہ خیز خبر کوئی نہیں ہوسکتی
 

Fawad -

محفلین
فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

شام ميں حاليہ امريکی فضائ بمباری اجلت ميں کيا جانا والا ايسا فيصلہ نہيں تھا جسے غير منصفانہ ردعمل قرار ديا جا سکے کيونکہ شام کی حکومت کی جانب سے اپنے ہی شہريوں کے خلاف کيمیائ ہتھياروں کے استعمال کا يہ پہلا واقعہ نہيں تھا۔

ريکارڈ کی درستگی کے ليے واضح کر دوں کہ امريکی حکومت، عالمی برادری کے ساتھ مل کر گزشتہ کئ برسوں سے شامی حکومت کو ايسے حملوں سے روکنے کے ليے کاوشيں کر رہی ہے اور ان کاوشوں میں شام کے کيميائ ہتھیاروں کو ختم کرنے کے ليے قانونی فريم ورک کی تشکيل بھی شامل ہے۔

ستمبر 27 2013 کو کيمیائ ہتھياروں کے پھيلاؤ کو روکنے کی عالمی تنظيم او-پی-سی-ڈبليو نے اس ضمن ميں متفقہ قرارداد بھی پاس کی تھی۔

OPCW Executive Council Adopts Historic Decision on Destruction of Syria Chemical Weapons

علاوہ ازيں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے قرارداد نمبر 2118 متفقہ طور پر منظور کی تھی۔ ان اقدامات کے ذريعے شام پر قانونی قدغنيں لگائ گئ تھيں تا کہ کيمیائ ہتھياروں کو تلف کرنے کے عمل کو تيز کيا جا سکے۔

Security Council Requires Scheduled Destruction of Syria’s Chemical Weapons, Unanimously Adopting Resolution 2118 (2013) | Meetings Coverage and Press Releases

امريکہ مسلسل اس کوشش ميں ہے کہ شام يا کسی بھی اور ملک کی جانب سے کيميائ ہتھياروں کے استعمال کے عمل کی ہر ممکن حوصلہ شکنی کی جائے۔ شام کی حکومت کی جانب سے اپنے ہی شہريوں کے خلاف اس قسم کے ہتھياروں کی ايک تاريخ ہے جسے کوئ بھی نظرانداز نہيں کر سکتا ہے۔ قريب ايک برس قبل اپريل 4 2017 کو بھی شام کی حکومت کی جانب سے سرين گيس کا حملہ کيا گيا تھا جس کے نتيجے ميں سو سے زائد شامی شہری ہلاک ہو گئے تھے۔

اسد حکومت اور اس کے سہولت کاروں کے خلاف تاديبی کاروائ ضروری ہے تا کہ مستقبل ميں ايسی ہی مزيد کاروائياں روکی جا سکيں۔ روس کی حکومت کی جانب سے شامی حکومت کی مکمل پشت پنائ انھيں بھی اس حملے کے ليے ذمہ دار بناتی ہے جس ميں انگنت شہريوں کو کیميائ ہتھياروں کا نشانہ بنايا گيا۔

شامی حکومت کی حمايت کر کے روس نے اقوام متحدہ کی جانب سے طے شدہ قانونی فريم ورک کا بھی پاس نہيں رکھا جس ميں اسے ايک ضامن کا کردار ادا کرنا تھا۔ يہ اقدام اقوام متحدہ کی سيکورٹی کونسل کی قرارداد 2118 اور کيمیائ ہتھياروں کے استعمال سے متعلق طے شدہ معاہدے کی عين خلاف ورزی ہے۔ روس کی جانب سے اسد کی حکومت اور اس کے اقدامات کا دفاع اس سارے تنازعے ميں روسی حکومت کے کردار کے حوالے سے کئ سوالات کو جنم ديتا ہے۔

امريکی حکومت نے روس سے مطالبہ کيا ہے کہ وہ اس غير مشروط حمايت اور پشت پنائ کو ترک کر کے عالمی برادری کا ساتھ دے تا کہ مستقبل ميں ايسے غير انسانی حملوں کو روکا جا سکے۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
 
Top