امريکہ ميں مسجد کی بے حرمتی پر سابق فوجی کو 20 سال قيد اور 4۔1 ملين ڈالرز جرمانہ

Fawad -

محفلین
فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

http://english.alarabiya.net/en/News/world/2013/04/17/Ex-Marine-gets-20-years-in-US-mosque-fire.html

پادری ٹيری جونز کے انتہائ قابل مذمت فعل کے بعد کئ ہفتوں تک مختلف اردو فورمز پر رائے دہندگان نے مجھ سے جو جذباتی بحث کی تھی اس کا بنيادی نقطہ يہ تاثر تھا کہ امريکی حکومت دانستہ کوئ تاديبی کاروائ نا کر کے مسلمانوں کے خلاف اپنی مبينہ تعصب پر مبنی سوچ اور يکطرفہ رويے کو دنيا کے سامنے آشکار کر رہی ہے۔

اس ضمن ميں امريکی حکومت کا جو موقف ميں نے پيش کيا تھا اس کی بنياد يہ حقيقت تھی کہ امريکی حکومت اس وقت تک کوئ قدم نہيں اٹھا سکتی جب تک کہ "نفرت پر مبنی جرم" جس کے ليے "ہيٹ کرائم" کی باقاعدہ اصطلاح موجود ہے، وہ سرزد نا ہو جائے۔ جو مبصرين اور رائے دہندگان ہمیں ہدف تنقيد بنا رہے تھے وہ اس حقيقت کا ادراک کرنے سے قاصر تھے کہ اس ضمن ميں امريکی قوانين کا اطلاق اسی صورت ميں ہوتا ہے جب کوئ فرد يا گروہ کسی مخصوص گروپ سے متعلق دانستہ تشدد کی ترغيب میں ملوث ہو۔ قانون کی تشريح کے مطابق "ہيٹ سپيچ" وہ تقرير ہوتی ہے جو نفرت اور تشدد کی حوصلہ افزائ اور ترغيب ديتی ہے۔

باوجود اس کے کہ امريکی صدر اور سيکرٹری آف اسٹيٹ سميت تمام اہم سياسی اور مذہبی قائدين کی جانب سے پادری جونز کے اقدامات کی مذمت کی گئ، يہ حقيقت بھی واضح کی گئ کہ امريکی فيڈرل حکومت اور اسٹيٹ کی سطح پر حکومتی نظام پر امريکی آئين کے اظہار رائے کی آزادی سے متعلق شق کی بدولت يہ پابندی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی تقرير يا بيان پر قدغن لگائيں۔ يہاں تک کہ وہ تقارير جو غير قانونی تشدد کی حوصلہ افزائ کرتی ہيں ان کے حوالے سے سے صرف وہی عمل جرم سے تعبير کيا جاتا ہے جہاں تشدد کے حوالے سے خطرات ناگزير ہو جائيں۔

ليکن ايک سابق امريکی فوجی کے خلاف انتہائ سخت سزا کے اعلان کے بعد يہ حقيقت واضح ہے کہ امريکی حکومت اور امريکی نظام انصاف تمام مذہبی گروہوں کے تقدس کے تحفظ کے ضمن ميں مصمم ارادہ رکھتا ہے اور ان افراد کے خلاف تاديبی کاروائ کے ليے کسی پس وپيش سے کام نہيں ليا جائے گا جو معاشرے کے کسی بھی طبقے کے خلاف نفرت اور تشدد پر مبنی سوچ کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کريں گے۔

میں آپ کو يقين دلاتا ہوں کہ امريکی حکومت يقينی طور پر اظہار رائے کی آزادی کا مکمل احترام کرتی ہے ليکن ملک کے اندر مسلمانوں سميت کسی بھی گروہ کے خلاف نفرت پر مبنی جرائم کی روک تھام کے ليے پوری طرح پرعزم ہے۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
www.state.gov
http://www.facebook.com/USDOTUrdu
http://vidpk.com/83767/US-aid-in-Dairy-Projects/
 

arifkarim

معطل
عراق اور افغانستان میں مساجد کی بے حرمتی پر کس کس امریکی فوجی کو کتنے کتنے سالوں کی سزا دی گئی؟ امریکی ایجنٹ!
 

Fawad -

محفلین
عراق اور افغانستان میں مساجد کی بے حرمتی پر کس کس امریکی فوجی کو کتنے کتنے سالوں کی سزا دی گئی؟ امریکی ایجنٹ!


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ



امريکی فوج دانستہ کسی سول عمارت کو نشانہ نہيں بناتی۔ امريکی افواج کو مساجد سميت کسی بھی غير فوجی عمارت کو دانستہ نشانہ بنانے سے سياسی، فوجی اور انتظامی لحاظ سے کوئ فائدہ حاصل نہيں ہوتا۔ بلکہ امريکی فوج عراق اور افغانستان ميں بہت سے نجی کمپنيوں کی تعمير و ترقی کے کئ منصوبوں کی تکميل کے ليے براہ راست مدد فراہم کر رہی ہے۔

ميں يہ واضح کر دوں کہ امريکی افواج مسجد کی تکريم اور اس حوالے سے ضروری قواعد وضوابط سے پوری طرح واقف ہيں اور اس ضمن ميں ہدايات ان کی تربيت ميں شامل ہے۔ امريکہ کے اندر اس وقت 1200 سے زائد مساجد موجود ہيں اور ديگر مذہبی عمارات اور مقدس مقامات کی طرح ان کی حفاظت بھی امريکی حکومتی اہلکاروں کی ذمہ داری ہے۔

مسجد کی بے حرمتی اور تھوڑ پھوڑ کی ذمہ داری انھوں دہشت گردوں پر عائد ہو تی ہے جنھوں نے جان بوجھ کر عبادت گاہ ميں اسلحہ جمع کيا اور پھر مقدس مقامات پر حملے کے لیے مورچے کے طور پر استعمال کيا۔

کسی بھی مسجد کی تباہی کے مناظر براہراست يہ ثابت نہیں کرتے کہ امريکی فوج ہی ان واقعات کی ذمہ دار ہے۔ ايسے بے شمار واقعات ريکارڈ پر موجود ہيں جن ميں القائدہ سميت دہشت گرد مذہبی تنظيموں کی جانب سے مخالف فرقے کی مساجد کو براہ راست نشانہ بھی بنايا گيا اور پھر ان واقعات کا اعتراف بھی کيا گيا۔

http://www.chinadaily.com.cn/world/2007-06/14/content_893751.htm

صرف ايک ماہ قبل عراق ميں مسجد پر حملے کی يہ ويڈيو ديکھيں۔ القائدہ نے نا صرف يہ کہ اس حملے کی ذمہ داری قبول کی بلکہ مستقبل ميں بھی ايسے حملے جاری رکھنے کا عنديہ ديا۔

http://www.reuters.com/article/2013/03/29/us-iraq-violence-idUSBRE92S07420130329



ياد رہے کہ اب عراق ميں امريکی افواج متحرک نہيں ہيں۔

يہ ايک ناقابل ترديد حقيقت ہے کہ صدام حسين اور ان کے حواريوں کی جانب سے شيعہ مساجد پر بے شمار حملوں کے واقعات ريکارڈ پر موجود ہیں۔ اور يہ سب کچھ سال 2003 میں امريکی افواج کے آنے سے قبل ہوا تھا جن ميں سے خاص طور پر نجف ميں امام علی مسجد پر حملہ سب کی معلومات ميں ہے۔

http://www.alnajafalashraf.net/magthirty/images/n30makalat41.jpg

صدام کی ظالمانہ حکومت کے خاتمے کے بعد القائدہ کے دہشت گرد اور ان سے منسلک گروہوں نے عبادت گاہوں کی حرمت کو بھی نظرانداز کرتے ہوئے اپنی بہيمانہ مہم جاری رکھی۔

اس کے کچھ ثبوت پيش ہیں۔


http://khabaar.net/thumbnail.php?file=5_319118471.jpg&size=article_medium

http://www.shafaqna.com/arabic/media/k2/items/cache/1c9fc9735dbc728f2f1230da39d07839_XL.jpg

http://www.shafaqna.com/arabic/media/k2/items/cache/d8275c886b81ee8c6bb9037f95aecf45_XL.jpg

بدقسمتی سے مساجد پر حملوں کا يہ وہی لائحہ عمل ہے جو صرف عراق تک محدود نہيں ہے بلکہ دہشت گردوں نے اپنی اسی پرتشدد حکمت عملی کو افغانستان اور پاکستان ميں بھی جاری رکھا ہوا ہے۔

اس قسم کی سوچ کا ايک اور ثبوت

http://www.dailytimes.com.pk/default.asp?page=2009\12\05\story_5-12-2009_pg1_2

جہاں تک امريکی افواج کے خلاف الزامات کا تعلق ہے تو میں نے پہلے بھی فورم پر يہ تسليم کيا ہے کہ امريکی فوج ميں کچھ افراد نے طے شدہ قواعد وضوابط اور حدود کی خلاف ورزی کی ہے۔ ليکن جن افراد کی جانب سے يہ اقدامات اٹھائے گئے وہ کسی بھی صورت ميں امريکی فوج کے مقاصد اور مشن سے ہم آہنگ نہیں ہيں۔ ايسے تمام افراد کو عدالتوں کا سامنا بھی کرنا پڑا، ان کے خلاف مقدمے بھی چلے اور انھيں سزائيں بھی ہوئيں۔ يہ ايسی حقيقت ہے جس کا انکار ممکن نہیں ہے۔ ليکن میں يہ واضح کر دوں کہ امريکی فوج نے دانستہ عراق اور افغانستان ميں کسی بھی مسجد کو نا تو نشانہ بنايا اور نہ ہی مسجد کی بے حرمتی کی۔ يہ القائدہ اور اس سے منسلک گروہوں کا وطيرہ ہے جو اپنے اعمال کا اعتراف بھی کرتے ہیں اور پھر اپنی مخصوص سوچ کی بنا پر ان حملوں کی توجيہہ پيش کر کے ان کو درست بھی قرار ديتے ہيں۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

www.state.gov
http://www.facebook.com/USDOTUrdu
 
Top