اللہ رکھی مین آف دی میچ

گرائیں

محفلین
صوبہ سندھ کے شہر سکھر میں ایک ایسے منفرد کرکٹ میچ کا انعقاد کیا گیا جس میں شہر کے نوجوانوں کے کرکٹ کلب کا مقابلہ کسی دوسرے کرکٹ کلب سے نہیں بلکہ خواجہ سراؤں کی ٹیم سے تھا۔خواجہ سراؤں کی کرکٹ ٹیم نے نہ صرف عمدہ کھیل کا مظاہرہ کیا بلکہ میچ بھی اپنے نام کر لیا۔

اس کرکٹ میچ کا انعقاد سکھر کی ضلعی ہاکی ایسوسی ایشن کی جانب کیا گیا تھا۔

سکھر کے سٹی سٹیڈیم میں نوجوانوں کی ٹیم اولمپیا الیون نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کی اور آٹھ اوورز میں سات وکٹوں کے نقصان پر پینسٹھ رنز سکور کیے۔ خواجہ سراؤں کی ٹیم کے کپتان صنم خان نے تین وکٹیں جبکہ مسکان اور انجو آفریدی نے دو دو وکٹیں حاصل کیں۔
میچ تماشائی

سٹیڈیم میں شائقین کی ایک بڑی تعداد موجود تھی

نوجوانوں کی ٹیم کے کپتان فیضان نے بائیس، جنید نے اٹھارہ اور فائق سولہ رنز پر آؤٹ ہوئے۔ خواجہ سرا الیون نے چھیاسٹھ رنز کا ٹارگٹ حاصل کر کے میچ جیت لیا۔ خواجہ الیون کی جانب سے بلے باز انجو آفریدی نے انیس، اللہ رکھی نے بیس اور صنم نے بارہ رنز بنائے۔ فاتح ٹیم نے میچ جیتنے کے بعد بھرپور ڈانس بھی کیا۔

میچ دیکھنے کے لیے سٹیڈیم میں شائقین کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ فاتح ٹیم کو شہر کے یو سی ناظم خورشید اعظم شمسی نے ٹرافی اور انعامات دیے۔فاتح ٹیم کی اللہ رکھی کو مین آف دی میچ قرار دیا گیا۔

اس موقع پر فاتح ٹیم کی کپتان صنم نے اپنی ٹرافی چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری کے نام کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس کی وجہ سے پاکستان میں خواجہ سراؤں کو ایک حیثیت ملنی شروع ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان کے مشکور ہیں اور آئندہ بھی اس قسم کی تفریحی سرگرمیوں میں دوسری جنس کے ساتھ مل کر شریک ہوتے رہیں گے۔

ربط
 

فاتح

لائبریرین
اس موقع پر فاتح ٹیم کی کپتان صنم نے اپنی ٹرافی چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری کے نام کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس کی وجہ سے پاکستان میں خواجہ سراؤں کو ایک حیثیت ملنی شروع ہوئی ہے۔

اس سے تو چوہدری صاحب کی "سالمیت" کو خطرہ لا حق ہو گیا ہے۔
قارئین "سالمیت" کو کسی زیادہ مناسب لفظ سے تبدیل کر سکتے ہیں۔;)
 

چاند بابو

محفلین
کچھ گرامر کی غلطیاں تھیں جو میں نے درست کر دی ہیں۔
صوبہ سندھ کے شہر سکھر میں ایک ایسے منفرد کرکٹ میچ کا انعقاد کیا گیا جس میں شہر کے نوجوانوں کے کرکٹ کلب کا مقابلہ کسی دوسرے کرکٹ کلب سے نہیں بلکہ خواجہ سراؤں کی ٹیم سے تھا۔خواجہ سراؤں کی کرکٹ ٹیم نے نہ صرف عمدہ کھیل کا مظاہرہ کیا بلکہ میچ بھی اپنے نام کر لیا۔

اس کرکٹ میچ کا انعقاد سکھر کی ضلعی ہاکی ایسوسی ایشن کی جانب کیا گیا تھا۔

سکھر کے سٹی سٹیڈیم میں نوجوانوں کی ٹیم اولمپیا الیون نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کی اور آٹھ اوورز میں سات وکٹوں کے نقصان پر پینسٹھ رنز سکور کیے۔ خواجہ سراؤں کی ٹیم کے کی کپتان صنم خان نے تین وکٹیں جبکہ مسکان اور انجو آفریدی نے دو دو وکٹیں حاصل کیں۔
میچ تماشائی

سٹیڈیم میں شائقین کی ایک بڑی تعداد موجود تھی

نوجوانوں کی ٹیم کے کپتان فیضان نے بائیس، جنید نے اٹھارہ اور فائق سولہ رنز پر آؤٹ ہوئے۔ خواجہ سرا الیون نے چھیاسٹھ رنز کا ٹارگٹ حاصل کر کے میچ جیت لیا۔ خواجہ الیون کی جانب سے بلے باز بلے بازی انجو آفریدی نے انیس، اللہ رکھی نے بیس اور صنم نے بارہ رنز بنائے۔ فاتح ٹیم نے میچ جیتنے کے بعد بھرپور ڈانس بھی کیا۔

میچ دیکھنے کے لیے سٹیڈیم میں شائقین کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ فاتح ٹیم کو شہر کے یو سی ناظم خورشید اعظم شمسی نے ٹرافی اور انعامات دیے۔فاتح ٹیم کی اللہ رکھی کو مین آف دی میچ قرار دیا گیا۔

اس موقع پر فاتح ٹیم کی کپتان صنم نے اپنی ٹرافی چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری کے نام کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس کی وجہ سے پاکستان میں خواجہ سراؤں کو ایک حیثیت ملنی شروع ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان کے کی مشکور ہیں اور آئندہ بھی اس قسم کی تفریحی سرگرمیوں میں دوسری جنس کے ساتھ مل کر شریک ہوتے ہوتی رہیں گے گی۔

ربط
 

فخرنوید

محفلین
صوبہ سندھ کے شہر سکھر میں ایک ایسے منفرد کرکٹ میچ کا انعقاد کیا گیا جس میں شہر کے نوجوانوں کے کرکٹ کلب کا مقابلہ کسی دوسرے کرکٹ کلب سے نہیں بلکہ خواجہ سراؤں کی ٹیم سے تھا۔خواجہ سراؤں کی کرکٹ ٹیم نے نہ صرف عمدہ کھیل کا مظاہرہ کیا بلکہ میچ بھی اپنے نام کر لیا۔

اس کرکٹ میچ کا انعقاد سکھر کی ضلعی ہاکی ایسوسی ایشن کی جانب کیا گیا تھا۔

سکھر کے سٹی سٹیڈیم میں نوجوانوں کی ٹیم اولمپیا الیون نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کی اور آٹھ اوورز میں سات وکٹوں کے نقصان پر پینسٹھ رنز سکور کیے۔ خواجہ سراؤں کی ٹیم کے کپتان صنم خان نے تین وکٹیں جبکہ مسکان اور انجو آفریدی نے دو دو وکٹیں حاصل کیں۔
میچ تماشائی

سٹیڈیم میں شائقین کی ایک بڑی تعداد موجود تھی

نوجوانوں کی ٹیم کے کپتان فیضان نے بائیس، جنید نے اٹھارہ اور فائق سولہ رنز پر آؤٹ ہوئے۔ خواجہ سرا الیون نے چھیاسٹھ رنز کا ٹارگٹ حاصل کر کے میچ جیت لیا۔ خواجہ الیون کی جانب سے بلے باز انجو آفریدی نے انیس، اللہ رکھی نے بیس اور صنم نے بارہ رنز بنائے۔ فاتح ٹیم نے میچ جیتنے کے بعد بھرپور ڈانس بھی کیا۔

میچ دیکھنے کے لیے سٹیڈیم میں شائقین کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ فاتح ٹیم کو شہر کے یو سی ناظم خورشید اعظم شمسی نے ٹرافی اور انعامات دیے۔فاتح ٹیم کی اللہ رکھی کو مین آف دی میچ قرار دیا گیا۔

اس موقع پر فاتح ٹیم کی کپتان صنم نے اپنی ٹرافی چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری کے نام کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس کی وجہ سے پاکستان میں خواجہ سراؤں کو ایک حیثیت ملنی شروع ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان کے مشکور ہیں اور آئندہ بھی اس قسم کی تفریحی سرگرمیوں میں دوسری جنس کے ساتھ مل کر شریک ہوتے رہیں گے۔

ربط
ہاکی اور کرکٹ میچ
 

موجو

لائبریرین
السلام علیکم
ڈومیسٹک میں‌دلچسپی بڑھانے کے کیا ہی خوب نسخہ دریافت ہوا ہے
اس سے شائقین خواجہ سرا کی بڑی تعداد کو ان کی پرفارمنس دیکھنے کا ایک اور نادر موقع ملے گا۔
کمنٹریٹر کیا کہہ رہے ہونگے۔
صنم لال قمیض جس پر کشمیری ٹانکے کا کام ہوا پہنے ہوئے
اپنا تیسرا اوور کرنے کی تیاری میں‌ کنگھی کر رہی ہیں۔
ریشم نے آگے بڑھ گیند کو روکا اوئی اللہ ان کے بال کھل گئے ہیں بالوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے گیند کاجل کی طرف پھینک دی۔
اللہ رکھی کی زوردار چھکے سے تماشائیوں نے ‌جوش خروش سے گھنگرو اور ڈھول سے داد دی۔
 

گرائیں

محفلین
چاند بابو، تصحیح کا شکریہ، مگر میں نے یہ رپورٹ بی بی سی سے مِن و عن نقل کی تھی۔ آج کل وہاں غلطیاں ہونے لگی ہیں۔ لگتا ہے کام کا بوجھ زیادہ ہو گیا ہے ان پہ۔
 

مغزل

محفلین
کیا کہنے جناب ، یہ خبر ہمیں‌پہلے ہی ہوچکی تھی، شکریہ دوبارہ پیش کرنے کا
 
Top