الجھن سلجھن

ام اویس نے 'آپ کی تحریریں' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏فروری 2, 2019

  1. ام اویس

    ام اویس محفلین

    مراسلے:
    1,735
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    ملاوٹ سے پاک توحید اختیار کرنے کے لیے ہر دور میں محنت وجدوجہد کی جاتی ہے ۔ توحید ہی وہ بنیادی مضمون ہے جس کی ابتدا اوّل انسان آدم علیہ السلام سے ہوئی ۔ تمام انبیاء اپنے اپنے دور میں توحید میں شامل ہوجانے والی خرافات کو دور کرنے تشریف لائے اور لوگوں میں توحید خالص کی ترویج کرتے رہے ۔ نبی آخر الزماں صلی الله علیہ وسلم بھی اپنی زندگی کے ہر لمحے میں توحید کی طرف توجہ دلاتے اور توحید خالص کو اختیار کرنے کی تلقین وحکم فرماتے رہے ۔ آج بھی توحید میں شرک کی ملاوٹ زوروں پر ہے ۔ پس اسی کو جاننے اور اس سے بچنے کی انتہائی ضرورت ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  2. ام اویس

    ام اویس محفلین

    مراسلے:
    1,735
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    لوگ سنت یہ کہہ کر چھوڑ دیتے ہیں کہ کیا ہوا یہ سنت ہی تو ہے ۔ حالانکہ سنت ہی فرض کی حفاظت کرتی ہے ۔ اور سنت کی حفاظت نوافل کرتے ہیں ۔ گویا ایک حصار ہے ایک چار دیواری ہے اسی طرح جیسے ایک قلعہ کی مضبوطی کے لیے ہوتی ہے ۔ جب پہلا حصار ٹوٹ جائے تو دوسرا خطرے میں پڑجاتا ہے اور اگر دوسرا بھی ٹوٹ جائے تو سمجھو اب بچت ممکن نہیں ۔۔۔
    اگر غور کیا جائے تو فرض بھی درحقیقت سنت ہی ہیں ۔۔۔

    سمجھ اور فہم الله رب العزت کی بہت بڑی عطا ہے ۔ ہمیں دن میں پانچ وقت ہر نماز میں الله سوہنے نے یہ دعا کرنا سکھائی کہ اے الله ہمیں ھدایت کی راہ پر چلا ۔
    دنیا کے ہر معاملے میں اس کی رہنمائی درکار ہے اور دین کے ہر معاملے میں اس کی ھدایت ۔
    پیارے نبی صلی الله علیہ وسلم کے ایک فرمان مبارک کا مفہوم بھی ہے کہ مؤمن کی فراست سے ڈرو وہ الله کے نور سے دیکھتا ہے ۔
    سادہ مزاج اور متوکل وہی ہیں جو حکمت ، سمجھ داری اور درگزر سے کام لیتے ہیں ۔ درحقیقت وہ ہی کامیاب ہیں ۔
    باقی جو لوگ سمجھتے ہیں اپنی چلاکیوں ، مکاریوں اور دھوکا دہی سے سرخرو ہوجائیں گے یہ ان کی خام خیالی ہے۔آخر کار دنیا ان کے انجام کا مشاہدہ کر لیتی ہے
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  3. یاسر شاہ

    یاسر شاہ محفلین

    مراسلے:
    859
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    بہن جی السلام علیکم !

    میں نے اس لڑی کی تحاریر تقریباً ساری پڑھ لی ہیں -ما شاء اللہ آپ کے لکھے میں خاص عبارت آرائی تو نہیں مگر تاثیر سی تاثیر ہے - یہ تحاریر دل پہ اثر کرتی ہیں 'عمل کی رغبت دلاتی ہیں -لکھتی رہیے -میرا گمان ہے آپ پہ خاص فضل ربّانی ہے کہ حق لکھ رہی ہیں اور مستقل لکھ رہی ہیں ،بغیر داد و ستائش کے -اللہ آپ کو جزائے خیر دے -

    ویسے ایک ذاتی سا سوال ہے چاہیں تو جواب دیں چاہے نہ دیں -اردو محفل میں آپ رنگا رنگ بزم آرائیوں میں شریک کیوں نہیں ہوتیں کہ سخن فہم تو یہاں بہت کم ہیں کچھ طرفدار ہی پیدا ہو جائیں جو آپ کو رسم نیوتا کی مد میں کچھ دادو ستائش سے نوازیں -اللہ ہدایت دے ہماری خاندان کی بوڑھیوں کو شادیوں میں لکھ کے رکھ لیتی ہیں کس نے کتنا دیا -کہتی ہیں فلانی نے ہزار دیا تو میں بھی ہزار دوں گی ،فلانی نے ٹکا نہ دیا تو میں کیوں دوں بھلا -:ROFLMAO:اس بری رسم پہ بھی کچھ لکھیے -

    ایک بار پھر وہی گزارش کروں گا کہ اپنے لکھے کو ایک لڑی میں مقیّد نہ کریں مختصر مضامین 'اختصاریے وغیرہ لکھا کریں -

    بہر حال اپنا ایک شعر آپ کی نذر :

    نہ کیا ترک سفر مل گئی منزل آخر
    فاصلے ہار گئے اور قدم جیت گئے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. ام اویس

    ام اویس محفلین

    مراسلے:
    1,735
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    قدرت کے سینے میں اترنے کی دیر ہے خیال من وسلوٰی کی مانند اترنے لگتے ہیں ۔ لذیذ پکوان بنانے کا فن آجائے تو کھانے والے ٹوٹ پڑیں گے ۔ مگر یاد رہے کہ انسان کی طبیعت ایک ذائقے پر قناعت کرنے والی نہیں بلکہ بہت جلد اکتا جاتا ہے ۔ من و سلوٰی بھی بےمزہ و بے لذت ہو جاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ انسان نت نئے ذائقوں کی تلاش میں رہتا ہے ۔
    زبان کے ذائقے ہوں یا سوچ کے ، نظر کے ذائقے ہوں یا فکر کے یہ بنانے سے ہی بنتے ہیں ۔ میں سوچتی ہوں کہ ماں نومولود کا ذائقہ کیسے بناتی ہے ۔ پہلی ٹھوس غذا جو بچے کو کھلائی جاتی ہے وہ بے ذائقہ و بے مزا ہوتی ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ اسے میٹھا چکھا دیا تو وہ نمکین کو منہ ہی نہ لگائے ۔ بچپن میں جو کھلایا جاتا ہے بڑے ہو کر وہی چیزیں پسند آتی ہیں البتہ ایک چیز ہر ذائقے کو مات دے دیتی ہے اور وہ ہے بھوک ۔۔۔۔
    یعنی ضرورت یا طلب جو ہر بے لذت شئے کو لذیذ بنا دیتی ہے ۔
     

اس صفحے کی تشہیر