اقصیٰ کے فرزندوں کے نام

فاخر

محفلین
اقصیٰ کے فرزندو کے نام:
فاخر

اے قدس کے باشندو،اقصیٰ کے جگر پارو!
اس جذبہ ٔرندانہ اور شوقِ شہادت پر
شاہیں کی سی جرأت پر،اس جذبہ وہمت پر
طاغوت کے سب بندے حیران ہیں ششدر ہیں!
اقصیٰ کے اے فرزندو! اللہ تمہارا ہے
تم احمد ِمرسلؐ کے جاں باز سپاہی ہو
موسیٰ ہو زمانے کے، فرعون سے لڑنا ہے
ہمت میں شجاعت میں اک گوہر ِیکتا ہو!
محزون سی آنکھوں کی اب تم ہی تو ٹھنڈک ہو
اس واسطے لازم ہے تم پر یہ فدا کارو!
’طوفان‘ کی صورت میں ناپاک ریاست پر
تم قہر خدا بن کر اب ٹوٹ پڑو یکدم
صہیونی و قابض اور ناپاک ریاست کو
ہستی سے مٹاکرہی دَم لینے کی خواہش ہو
بڑھتے ہی چلوآگے تھکنانہیں تم ہرگز
اسلام کے اے بیٹو!اے قوم کے جاں بازو!
حیفہ سے اریحاتک اس شہر مقدس کے اک تم ہی تو وارث ہو !
رستے میں جوحائل ہوں، دجال ہو یا طاغوت
ہر ایک کو اب اپنے تسموں سے کچل ڈالو!
یہ یاد رکھو پیارو!رسوائی و ذلت تقدیر یہودی ہے
گویا کہ یہی سچا فرمانِ الٰہی ہے!
اس شوقِ شہادت پر
اک شاعرِ مستانہ کچھ دے تو نہیں سکتا
لیکن.....اے عزیمت کے جاں باز فداکارو!
بے باکی ٔرندانہ پر آج مرایہ دل
شاداں ہے بہت مسرور
تاباں ہے ، منور ہے !
قدموں میں تمہارے ہے قرباں یہ قلم میرا
لفظوں کی حسیں مالا،بھی آج نچھاور ہے!
 
Top