فارسی شاعری افسوس کہ ایامِ شریفِ رمضان رفت - میرزا محمد علی صائب تبریزی

حسان خان نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جولائی 12, 2015

  1. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,843
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    افسوس که ایامِ شریفِ رمضان رفت
    سی عید به یک مرتبه از دستِ جهان رفت
    افسوس که سی پارهٔ این ماهِ مبارک
    از دست به یک بار چو اوراقِ خزان رفت
    ماهِ رمضان حافظِ این گلّه بُد از گرگ
    فریاد که زود از سرِ ایِن گلّه شبان رفت
    شد زیر و زبر چون صفِ مژگان، صفِ طاعت
    شیرازهٔ جمعیتِ بیداردلان رفت
    بی‌قدریِ ما چون نشود فاش به عالم؟
    ماهی که شبِ قدر در او بود نهان، رفت
    برخاست تمیز از بشر و سایرِ حیوان
    آن روز که این ماهِ مبارک ز میان رفت
    تا آتشِ جوعِ رمضان چهره برافروخت
    از نامهٔ اعمال، سیاهی چو دُخان رفت
    با قامتِ چون تیر درین معرکه آمد
    از بارِ گنه با قدِ مانندِ کمان رفت
    برداشت ز دوشِ همه کس بارِ گنه را
    چون باد، سَبُک آمد و چون کوه، گران رفت
    چون اشکِ غیوران به سراپردهٔ مژگان
    دیر آمد و زود از نظر آن جانِ جهان رفت
    از رفتنِ یوسف نرود بر دلِ یعقوب
    آنها که به صائب ز وداعِ رمضان رفت
    (صائب تبریزی)

    ترجمہ:
    افسوس کہ ایامِ شریفِ رمضان گذر گئے؛ تیس عیدیں ایک ہی دفعہ دنیا کے ہاتھوں سے چلی گئیں۔
    افسوس کہ اس ماہِ مبارک کے سی پارے خزاں کے پتّوں کی طرح ہاتھوں سے ناگہاں چلے گئے۔
    ماہِ رمضان اس گلّے کا بھیڑیوں سے محافظ تھا؛ فریاد کہ بہت جلد اس گلّے کے سر سے چوپان رخصت ہو گیا!
    صفِ مژگاں کی طرح صفِ طاعت زیر و زبر ہو گئی؛ بیدار دلوں کی جمعیت کا شیرازہ چلا گیا۔
    (اب) ہماری بے قدری دنیا پر فاش کیسے نہ ہو؟ وہ ماہ کہ جس میں شبِ قدر نہاں تھی، چلا گیا۔
    جس روز کہ یہ ماہِ مبارک درمیان سے گیا، (اُس روز) بشر اور دیگر حیوانوں کے مابین تمیز بھی اٹھ گئی۔
    جیسے ہی رمضان کی گرسنگی کی آتش نے چہرہ مشتعل کیا، نامۂ اعمال سے سیاہی دھوئیں کی طرح چلی گئی۔
    (ماہِ رمضان) تیر جیسی قامت کے ساتھ اس معرکے میں آیا اور (ہمارے) گناہوں کے بار کے سبب کمان کی مانند قد کے ساتھ رخصت ہوا۔
    (ماہِ رمضان) نے ہر شخص کے دوش سے بارِ گناہ رفع کر لیا؛ وہ ہوا کی طرح سَبُک آیا اور کوہ کی طرح گراں گیا۔
    پلکوں کے پردے پر غیرت مند لوگوں کے اشکوں کی طرح وہ جانِ جہاں دیر سے آیا اور جلد ہی نظروں سے نہاں ہو گیا۔
    جو کچھ صائب پر وداعِ رمضان سے گذرا ہے وہ یوسف کے جانے سے یعقوب کے دل پر بھی نہیں گذرتا۔


    × مُشتعِل = شعلہ ور، برافروختہ
     
    آخری تدوین: ‏جون 28, 2017
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
    • زبردست زبردست × 4
  2. نایاب

    نایاب لائبریرین

    مراسلے:
    13,422
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Goofy
    حق ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کیا پرنور دل گداز شراکت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
    رحمتوں برکتوں کا مہینہ رخصت ہونے کو ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بہت دعائیں محترم حسان خان بھائی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • متفق متفق × 1
  3. زبیر مرزا

    زبیر مرزا محفلین

    مراسلے:
    5,997
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    برداشت ز دوشِ همه کس بارِ گنه را
    چون باد، سبک آمد و چون کوه، گران رفت
    (ماہِ رمضان) نے ہر شخص کے دوش سے بارِ گناہ رفع کر لیا؛ وہ ہوا کی طرح سبک آیا اور کوہ کی طرح گراں گیا۔
    بہت لاجواب - جیتے رہو - یہ فیس بُک پر بھی شئیرکیا؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. زبیر مرزا

    زبیر مرزا محفلین

    مراسلے:
    5,997
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    [​IMG]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. زبیر مرزا

    زبیر مرزا محفلین

    مراسلے:
    5,997
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    میرزا محمد علی :) اس پر میری نظراب پڑی
     
    آخری تدوین: ‏جولائی 12, 2015
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  6. bilal260

    bilal260 محفلین

    مراسلے:
    1,905
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Chatty
    بہت خوب بہترین پر شکریہ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  7. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,254
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    لاجواب۔

    شکریہ خان صاحب
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر