افتخار بدایونی :::: نظر میں کھینچ لی جلوؤں کی رعنائی تو کیا ہوگا -- Iftikhaar Badayuni

طارق شاہ

محفلین



غزلِ
افتخار بدایونی

نظرمیں کھینچ لی جلوؤں کی رعنائی تو کیا ہوگا
خودی انساں کی، اپنے رنگ پر آئی تو کیا ہوگا

گزُارا ہم نے تنہائی کا دن تو، شام تک لیکن !
گزُر جائے گی جب یہ شامِ تنہائی، تو کیا ہوگا

حرم ہو یا صنم خانہ، ہمیں کیا عار سجدے میں
مگر، تشنہ رہا ذوقِ جبیں سائی، تو کیا ہوگا

تم اُس سے پُوچھتے کیوں ہو، وہ کِس کا کشتۂ غم ہے
تمھارا نام ہی لے دے، جو سودائی، تو کیا ہوگا

تمھاری بے نیازی سے، مِلی ہے شہ گناہوں کو
جو میں نے حشر میں یہ بات سمجھائی تو کیا ہوگا

مِرے لب سی، مگر کل سامنے دُنیا کے ، اے ظالم !
بَعُنوانِ سِتم ، یہ داستاں آئی ، تو کیا ہوگا

افتخار بدایونی

 

عمر سیف

محفلین
تمھاری بے نیازی سے، مِلی ہے شہ گناہوں کو
جو میں نے حشر میں یہ بات سمجھائی تو کیا ہوگا

بہت خوب ۔۔
 
Top