اصل کنگ کانگ ایک لاکھ سال قبل زمین پر موجود تھا، ماہرین!

arifkarim

معطل
اصل کنگ کانگ ایک لاکھ سال قبل زمین پر موجود تھا، ماہرین
king%20kong.jpg

برلن: ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ انسانی تاریخ کا سب سے بڑا گوریلا 6 سے 10 فٹ بلند تھا لیکن یہ قریباً ایک لاکھ سال قبل موسمیاتی تبدیلیوں سے ختم ہو گیا تھا، جرمن سینکنبرگ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اور ٹیوبنجن میں انسانی ارتقا اور قدیم ماحولیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل کنگ کانگ ایک لاکھ سال قبل گھنے جنگلات میں پایا جاتا تھا، اس دیو نما گوریلے کو 'جائیگینٹو پتھیکس' کا نام دیا گیا ہے جو آج کے اورنگ اٹن کا قریبی رشتے دار تھا لیکن اس کی نسل معدوم ہو چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسا جانور 3 میٹر تک اونچا تھا اور اس کا وزن 500 کلو کے لگ بھگ تھا جبکہ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ اس کی خوراک میں سبزیاں اور زیادہ توانائی والے پھل تھے لیکن بعض کے نزدیک وہ گوشت خور بھی تھا، گوریلا پر تحقیق کرنے والے ایک ماہر نے کہا ہے کہ پوری دنیا سے 'جائیگینٹوپتھیکس' کے بہت کم فاسلز ملے ہیں جن میں دانت اور کچھ ہڈیاں شامل ہیں۔ ماہرین نے چین اور تھائی لینڈ سے ملنے والے گوریلا کے دانتوں کی بناوٹ دیکھ کر اس عظیم جانور کی خوراک کا اندازہ لگایا ہے جس کے تحت یہ روزانہ خوراک کی بہت بڑی مقدار کھایا کرتا تھا۔ پاکستان میں 'جائیگینٹوپتھیکس' کی نسل کے 'شیوا پتھیکس' اور 'راماپتھیکس' کی بہت تفصیلی ہڈیاں ملی ہیں جن پر امریکی ماہر نے ایک چھوٹی کتاب بھی تحریر کی ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان میں سوالک کے ارضیاتی پہاڑی سلسلے ممالیوں کے فاسلز سے مالامال ہیں جہاں قدیم بندروں، گینڈوں، زرافوں، گھوڑوں اور دیگر جانداروں کے اب تک ہزاروں فاسلز مل چکے ہیں۔
ماخذ
 
آخری تدوین:

زیک

مسافر
پاکستان میں 'جائیگینٹوپتھیکس' کی نسل کے 'شیوا پتھیکس' اور 'راماپتھیکس' کی بہت تفصیلی ہڈیاں ملی ہیں
راماپتھیکس نام اب استعمال نہیں کیا جاتا کہ یہ شیواپتھیکس ہی ہے۔

شیواپتھیکس سائز میں اورنگاٹن جتنا ہی تھا اور جگانٹوپتھیکس سے کافی پہلے رہتا تھا۔
 
Top