اس کی نگاہِ ناز میں کتنا غرور ہے

الف عین
عظیم
الف نظامی
شکیل احمد خان23
مقبول
----------
اس کی نگاہِ ناز میں کتنا غرور ہے
شائد وہ اپنے حسن میں محوِ سرور ہے
-----------
ہم نے ہے اس کے حسن کی تعریف یہ سنی
کہتے ہیں اس کو لوگ وہ جنّت کی حور ہے
------
ایسا نہیں کہ آپ سے ہے پیار ہو گیا
الفت کی اک نگاہ سے دیکھا ضرور ہے
----------
دشمن کو خود ہی آپ نے سر پر بٹھا لیا
اب ایسے انتیخاب میں کس کا قصور ہے
----------
دشمن ہے یو وہ دوست ہے پرکھا تو کیجئے
رب نے جو آپ کو اتنا شعور ہے
--------
کرنا نہیں ہے پیار تو انکار کیجئے
کچھ فیصلہ تو آپ کو کرنا ضرور ہے
---------
جب دوست مجھ کو آپ نے سمجھا نہیں کبھی
شکوہ یہی تو آپ سے مجھ کو حضور ہے
---------
باتیں سنی ہیں آپ نے میری جو غور سے
دیکھا ہے ان میں آپ نے کتنا سرور ہے
------
ارشد کو پیار بھیک میں ہرگز نہ چاہئے
سب جانتے ہیں آپ وہ کتنا غیور ہے
---------
 
آخری تدوین:

صریر

محفلین
ماشاء اللہ سر! یہ اندازِ بیاں پسند آیا آپ کا۔

مطلع کے قافیہ کو دیکھ لیجئے،
اس کی نگاہِ ناز میں کتنا غرور ہے
شائد وہ اپنے حسن میں محوِ سرور ہے
قافیہ میں 'رور' کی قید لگ گئی ہے، جب کے غزل کا ہر قافیہ اس کی پاسداری کرتا نظر نہیں آتا، جیسے کہ حور، قصور۔ اس قید سے آزاد نیا مطلع، یا مطلع میں دوسرے قافیے کی ضرورت ہے۔
 

صریر

محفلین
ایسا نہیں کہ آپ سے ہے پیار ہو گیا
الفت کی اک نگاہ سے دیکھا ضرور ہے
ہے کی نشست کھٹک رہی ہے، اگر اندازِ تخاطب بدلنے سے غزل کی فضا میں فرق نہ پڑتا ہو، تو اسے اس طرح کر سکتے ہیں۔
ایسا نہیں کہ تم سے ہمیں پیار ہو گیا
الفت کی اک نگاہ سے دیکھا ضرور ہے
 
بہت بہت شکریہ--صحیح فرمایا آپ نے نے -مطلع تبدیل کرنا پڑے گا
رب نے دیا جو آپ کو اتنا شعور ہے---دیا چھوٹ گیا تھا----بہت بہت شکریہ
 

الف عین

لائبریرین
ہم نے ہے اس کے حسن کی تعریف یہ سنی
کہتے ہیں اس کو لوگ وہ جنّت کی حور ہے
------
پہلا مصرع عدم روانی کا شکار ہے
ایسا نہیں کہ آپ سے ہے پیار ہو گیا
الفت کی اک نگاہ سے دیکھا ضرور ہے
----------
اچھی اصلاح ہو گئی
دشمن کو خود ہی آپ نے سر پر بٹھا لیا
اب ایسے انتیخاب میں کس کا قصور ہے
----------
درست
دشمن ہے یو وہ دوست ہے پرکھا تو کیجئے
رب نے جو آپ کو اتنا شعور ہے
--------
اصلاح ہو چکی
کرنا نہیں ہے پیار تو انکار کیجئے
کچھ فیصلہ تو آپ کو کرنا ضرور ہے
---------
دتست
جب دوست مجھ کو آپ نے سمجھا نہیں کبھی
شکوہ یہی تو آپ سے مجھ کو حضور ہے
---------
جب کی معنویت سمجھ میں نہیں آتی
باتیں سنی ہیں آپ نے میری جو غور سے
دیکھا ہے ان میں آپ نے کتنا سرور ہے
------
واضح نہیں، میری باتوں میں سرور تھا یا اس کے بغور سننے میں؟
ارشد کو پیار بھیک میں ہرگز نہ چاہئے
سب جانتے ہیں آپ وہ کتنا غیور ہے
آپ وہ کتنا.... غلط بیانیہ ہے
دنیا یہ جانتی ہے وہ کتنا غیور ہے
 
استادِ محترم اگر مطلع تبدیل کر کے یوں کر دیا جائے تو کیا غزل ٹھیک ہو جائے گی
اتنا جو اپنی قوم میں فسق و فجور ہے
سوچیں ذرا یہ آپ بھی کس کا قصور ہے
 
الف عین
اصلاح
---------
تعریف اس کے حسن کی کرتے ہیں لوگ یوں
کہتے ہیں وہ زمین پہ جنّت کی حور ہے
-------
مجھ کو کبھی جو دوست نہ سمجھا ہے آپ نے
شکوہ یہی تو آپ سے مجھ کو حضور ہے
--------
سنتا ہے میری بات ہمیشہ وہ غور سے
کہتا ہے میری بات سے ملتا سرور ہے
--------
 
آخری تدوین:

الف عین

لائبریرین
تعریف اس کے حسن کی کرتے ہیں لوگ یوں
کہتے ہیں وہ زمین پہ جنّت کی حور ہے
-------
ٹھیک
مجھ کو کبھی جو دوست نہ سمجھا ہے آپ نے
شکوہ یہی تو آپ سے مجھ کو حضور ہے
--------
مجھ کو کبھی جو دوست نہیں سمجھا آپ نے
بہتر ہو گا
سنتا ہے میری بات ہمیشہ وہ غور سے
کہتا ہے میری بات سے ملتا سرور ہے
--------
درست تو ہے لیکن زبردستی کی تک بندی ہے
 
Top