اسلام اور متعدی بیماریاں از قلم: ڈاکٹر محمد یٰسین شوراپور

فہد مقصود نے 'اِسلامی تعلیمات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 21, 2020

  1. فہد مقصود

    فہد مقصود محفلین

    مراسلے:
    313
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
    اسلام اور متعدی بیماریاں
    از قلم: ڈاکٹر محمد یٰسین شوراپور

    اسلام چونکہ صفائی ستھرائی والا مذہب ہے۔ اس لئے یہ بھی میڈیکل سائنس کی طرح پورے ماحول کو صاف ستھرا اور صحت بخش رکھنے کی تاکید فرماتا ہے۔ رہنے سہنے کے مقام کو صاف ستھرا رکھنے اور اسے صحت بخش بنانے کی اسلام کے اندر کافی تاکید آئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ صحت عامہ ، صفائی ستھرائی ، اور احتیاط سے متعلق اسلام کا جو موقف ہے اس کی نظیر نہیں ملتی۔ دین اسلام میں صفائی تقرب الی اللہ کا درجہ رکھتی ہے۔ شریعت کی ساری کتابیں اپنی ابتداء طہارت کے باب ہی سے کرتی ہیں کیونکہ شریعت کی نظر میں عبادت سے قبل صفائی اور نظافت کا اختیار کرنا ضروری ہے۔ چنانچہ یہ لازم ہے کہ نماز سے قبل وضو کیا جائےاور وہ تمام اعضاء دھوئے جائیں جہاں گندگی ، مٹی، دھول اور پسینہ کا گمان ہوتا ہے۔ عبادت کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ کپڑے اور بدن پاک صاف ہوں اور وہ جگہ بھی پاک صاف ہو جہاں عبادت کی جا رہی ہو۔صفائی اختیار کرنے والوں کے لئے اللہ کا ارشاد ہے کہ:

    فِيهِ رِجالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ ۔ ترجمہ: " اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنا پسند کرتے ہیں اور اللہ کو پاکیزگی اختیار کرنے والے ہی پسند ہیں"۔ (سورہ توبہ آیت 108)۔

    اور حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ: الطھور شطرالا یمان "صفائی آدھا ایمان ہے"۔ (صحیح مسلم)

    میڈیکل سائنس کی طرح اسلام بھی بیماریوں سے بچنے کی تر غیب دیتا ہےاور بیماری کے متعدی ہونے سے انکار نہیں کرتا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
    "لا یوردن ممرض علی مصحح" ترجمہ: " بیمار اونٹ کو تندرست اونٹ کے پاس نہ لے جاؤ" (صحیح مسلم 5791)۔

    ایک دوسری حدیث میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: "فر من مجزوم کما تفر من الا سد " ترجمہ: " جذامی شخص سے اس طرح بھاگو جس طرح شیر سے بھاگتے ہو" (صحیح بخاری 5707)

    جذامیوں کی بیماری سے بچنے کے لئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ایک نیزہ کے فاصلہ سے بات چیت کرنے کی تاکید فرمائی ہے۔ حدیث میں ہے کہ:

    "واذا کلمتمو ھم فلیکن بینکم و بینھم قدر مح" ترجمہ : " جب تم ان (جذامی) سے بات چیت کرو تو تمہارے اور ان کے درمیان ایک نیزہ کا فاصلہ ہونا چاہئے" (مسند احمد) ۔

    اس لئے کہ جب آدمی بات کرتا ہے تو اس کے منھ سے تھوک کے چھینٹے نکلتے ہیں جس میں بیماری کے کافی جراثیم موجود ہوتے ہیں یہ جب مخاطب کے اوپر پڑیں گے تو مخاطب کو بھی بیماری میں مبتلا کر سکتے ہیں ۔اسی طرح بیماری کے پھیلنے سے بچاؤ کے لئے طاعون زدہ علاقہ میں نہ جانے اور وہاں سے بھاگنے سے منع کیا گیا ہے۔ حدیث میں ہے کہ
    " اذا سمعتم بالطاعون بارض فلا تد خلو ھا واذا وقع بارض انتم بھا فلا تخر جوا منھا" ترجمہ : " جب تمہیں معلوم ہو کہ کسی جگہ طاعون ہے تو وہاں مت جاؤ اور جہاں تم ہو وہاں اگر طاعون پھیل جائے تو اسے چھوڑ کر مت جاؤ" (صحیح بخاری 5728(۔

    ان تمام احادیث یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ بعض بیماریاں متعدی ہوتی ہیں جن سے احتیاط برتنا ضروری ہے۔
    بیماری کے متعدی ہونے اور اس سے بچنے کے لئے مندرجہ بالا تمام حدیثوں کی تاکید کے باوجود بھی آج بہت سارے لوگ ایسے ہیں جو بیماری کے متعدی ہونے کے قائل نہیں ہیں اور بیماریوں سے احتیاط برتنا ان کے نزدیک گویا ایک غیر شرعی عمل ہے۔
    صحیح بخاری کی حدیث "لا عدویٰ" ترجمہ: " چھوت لگ جانے کی کوئی حقیقت نہیں" (صحیح بخاری 5772) ۔
    سے مراد قطعی یہ نہیں کہ چھوت چھات کوئی چیز نہیں ہے۔ اس لئے کہ اگر واقعی لاعدویٰ سے مراد یہی ہے تو آج کی میڈیکل سائنس اس حدیث کو غلط ثابت کر رہی ہے اور احادیث صحیحہ کبھی بھی غلط ثابت نہیں کی جاسکتیں یہ ہمارا ایمان ہے۔ اس حدیث کی تشریح میں ریاض الصالحین جلد دوم صفحہ 418 پر لکھا ہوا ہے کہ
    " بعض بیماریاں جو متعدی (infectious) سمجھی جاتی ہیں اس میں ان کے متعدی ہونے کا انکار نہیں بلکہ صرف عقیدے کی درستی کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ اس میں اصل چیز اللہ کی مشیت ہی کو سمجھنا چاہئے نہ کہ کسی بیماری کو"۔

    بعض علماء نے لاعدویٰ سے یہ استدلال کیا ہے کہ امراض متعدی نہیں ہوتے۔ان کے متعدی ہونے کا تصور غیر اسلامی ہے۔لیکن یہ استدلال صحیح نہیں ہےاس میں درحقیقت مرض کی چھوت چھات کے جاہلانہ تصور کی تردید ہے۔ یہ دنیا اسباب وعلل کی دنیا ہے۔اس لیے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ یہاں ہر واقعہ کا کوئی نہ کوئی سبب ضرور ہوتا ہے۔ بعض امراض میں اللہ تعالیٰ نے یہ خاصیت رکھی ہے کہ ان کے جراثیم تیزی سے پھیلتے ہیں۔ اور جو جاندار بھی ان کے زد میں آتا ہے اس پر حملہ آور ہو جاتے ہیں۔ اس طرح کے کسی مرض میں جب کوئی شخص مبتلا ہوتا ہے تو اس کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے اور ملنے جلنے والوں کو احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ احتیاط نہ ہو تو وہ بھی اسکی لپیٹ میں آسکتے ہیں لیکن یہ انسان کی نادانی ہے کہ وہ مادی اسباب ہی کو سب کچھ سمجھ بیٹھتا ہے اور اس حقیقت کو بھول جاتا ہے کہ اسباب اور ان کے نتائج دونوں اللہ کی مرضی کے پابند ہیں وہ نہ چاہے تو کچھ نہیں ہو سکتا ۔ حدیث (لا عدویٰ) کا مطلب یہ ہے کہ بیماری فی نفسہ متعدی نہیں ہو تی بلکہ وہ اگر کسی کو لگتی ہے تو اللہ کے حکم سے لگتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسباب و علل کا انکار نہیں فرمایا ہے۔ اس بات کا ثبوت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض متعدی ہونے سے انکار نہیں کیا ہے ایک دوسری حدیث میں ملتا ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف صاف بیماری کے متعدی ہونے کا ذکر فرمایا ہے۔ ارشاد ہے کہ
    : "لا یوردن ممرض علی مصحح" ترجمہ: " بیمار اونٹ کو تندرست اونٹ کے پاس نہ لے جاؤ" (صحیح مسلم 5791) ۔
    اسی حدیث کے پیش نظر میڈیکل سائنس Isolation کی بات کرتی ہے۔ اس میں متعدی مرض میں مبتلا مریضوں کو عام لوگوں سے الگ تھلگ رکھا جاتا ہے۔ بیمار جانوروں کو تندرست جانوروں سے الگ رکھنے کی تاکید اس لئے کی گئی ہے تاکہ بیماری ان میں بھی نہ پھیلے۔ امام نووی ؒ فرماتے ہیں کہ یہ دونوں حدیثیں صحیح ہیں ۔ ان میں کوئی تضاد نہیں ۔ پہلی حدیث میں جاہلیت کے اس عقیدہ و خیال کی تردید ہے کہ بیماریوں کے پھیلنے میں اللہ کا کوئی عمل دخل نہیں ہے بلکہ وہ اپنے طور پر پھیلتی رہتی ہے۔ اس میں اس بات کا انکار نہیں ہے کہ اللہ کے فیصلہ کے تحت متعدی امراض سے نقصان پہنچتا ہے۔ دوسری حدیث میں اللہ تعالیٰ کی مشیت اور فیصلہ کے تحت جن چیزوں سے بالعموم نقصان پہنچتا ہے ان سے بچنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ یہی جمہور علماء کا مسلک ہے اور اسی کو اختیار کیا جانا چائیے ۔(شرح مسلم) ۔

    مطلب یہ ہے کہ حدیث میں مرض کے متعدی ہونے کی نفی نہیں ہے۔ بلکہ مرض ہی کو حقیقی علت سمجھنے سے منع کیا گیا ہے۔ اسی لئے متعدی امراض سے دور رہنے کی ہدایت بھی ہے۔ لا عدویٰ والی حدیث کے سلسلہ میں یہی باتیں اور یہی تشریح معقول نظر آتی ہے۔ اس لئے کہ اس کی رو سے میڈیکل سائنس اور اسلام میں کوئی تضاد نظر نہیں آتا ۔ اس لئے کہ آج کی میڈیکل سائنس کی بنیاد طب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر ہی کھڑی ہے۔ اور میڈیکل سائنس انھیں باتوں کو ریسرچ کر کے ہمارے سامنے پیش کر رہی ہے۔ جو صدیوں پہلے قرآن اور احادیث میں بیان کی جا چکی ہیں۔
    اس کوwww.cris.co.nf کے محقق ڈاکٹر محمد یٰسین صاحب نے تیار کیا اور نظر ثانی اسی ادارہ کے ایک اورمحقق ڈاکٹر نور الحسین قاضی نے کیا ہے۔ الحمد للہ۔
     

اس صفحے کی تشہیر