اسلام آباد میں سفارت خانے کے نام پر امریکی قلعہ

عسکری

معطل
امريکی امداد کے حوالے سے ايک بات اور واضح کر دوں کہ کتنی امدادی رقم کس شعبے ميں دی جانی ہے اس کا انحصار اس بات پر بھی ہوتا ہے کہ حکومت پاکستان کی جانب سے کتنی امدادی رقم کی درخواست کی گئ ہے۔ مثال کے طور پر 2008 کے ليے حکومت پاکستان نے امريکہ سے مجموعی طور پر 785 ملين ڈالرز کی امداد کی درخواست کی تھی۔ جن شعبوں کے ليے امداد کی درخواست کی گئ ہے اس ميں امداد کی تقسيم کچھ اس طرح سے ہے۔

300 ملين ڈالرز – ملٹری فائنينس
383 ملين ڈالرز – اقتصادی سپورٹ فنڈ
58 ملين ڈالرز – بچوں کی بہبود اور نشوونما
32 ملين ڈالرز – منشيات کی روک تھام
10 ملين ڈالرز – دہشت گردی کی روک تھام اور اس سے متعلقہ کچھ پروگرامز
2 ملين ڈالرز – انٹرنيشنل ملٹری ٹرينينگ


کيا آپ واقعی يہ سمجھتے ہیں کہ تمام تر سفارتی روابط منقطع کر کے اور تمام جاری ترقياتی منصوبوں کو ختم کر کے دونوں ممالک کے عوام کے لیے ترقی کے مواقعوں اور سہوليات کا خاتمہ ہی وہ بہترين طريقہ کار ہے جس سے دونوں ممالک کے عوام کے مابين خليج کو دور کيا جا سکتا ہے ؟


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

www.state.gov

کیا عوام عوام کی رٹ لگی ہے یار آپ کو ذرا بھر شرم نہیں آپکی حکومت اسی عوام پر روز میزائیل حملے ڈرون حملے کر کر کے اس کا نا حق خون پانی کی طرح بہا رہی ہے آپ کی بے غیرت حکومت اور اس کے خریدے ہمارے لیڈر اور آپ کی اقتصادی عسکری فلاح و بہبود پر کروڑ بار لعنت بھیجتی ہے پاکستانی عوام ۔ تمام سفارتی ہی نہیں اللہ کے کرنے سے سارے امریکی اس دنیا سے اٹھ جائیں ہمیں افسوس نہیں خدا برباد کرے آپ کے ملک اور حکومت کو جس نے لاکھوں انسانوں کو نا حق قتل کیا :mad:
 

Fawad -

محفلین
Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

جناب یہ کہاں خرچ ہوئے ہیں ان کی تفصیل بھی ذرا بتایئے۔


کچھ دن پہلے يو – ايس – ايڈ نے پاکستان ميں جاری ترقياتی منصوبوں کی تفصيلات پر مبنی ايک نئ ويب سائٹ جاری کی ہے جو آپ اس لنک پر ديکھ سکتے ہیں۔

http://www.usaid.gov/pk/

اگلے کچھ دنوں اور ہفتوں ميں آپ اس ويب لنک پر پاکستانی عوام کی بہبود کے ليے جاری بے شمار منصوبوں کی تفصيلات پڑھ سکيں گے۔

ميں يہ بھی واضح کر دوں کہ يو – ايس – ايڈ واحد حکومتی ايجنسی نہيں ہے جو پاکستانی ميں جاری ترقياتی منصوبوں سے منسلک ہے۔ ايسی بے شمار سرکاری اور نجی تنظيميں ہیں جو اس ضمن ميں حکومت پاکستان، پاکستان ميں قائم اين – جی – اوز اور سول سوسائٹی کے مختلف گروپوں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہيں۔

آپ کے سوال کے جواب کے ليے ميں آپ کو فاٹا ميں جاری سڑکوں کے نيٹ ورک سے متعلق کچھ ترقياتی منصوبوں کی تفصيلات دکھانا چاہتا ہوں جس کا براہراست فائدہ وہاں کی مقامی آبادی کو ہو گا۔ يہ منصوبے امريکی امداد کی بدولت فاٹا کے علاقوں ميں جاری ہيں۔۔ اسی طرح تعليم، صاف پانی کی فراہمی، ادويات اور بہت سے زرعی منصوبوں پر بھی کام ہو رہا ہے۔


http://img501.imageshack.us/my.php?image=clipimage002ky4.jpg

http://img501.imageshack.us/my.php?image=clipimage003tx6.jpg

http://img102.imageshack.us/my.php?image=clipimage004mk9.jpg

http://img102.imageshack.us/my.php?image=clipimage005gs5.jpg

http://img380.imageshack.us/my.php?image=clipimage006ip8.jpg

http://img380.imageshack.us/my.php?image=clipimage007co4.jpg

http://img397.imageshack.us/my.php?image=clipimage008bp0.jpg

http://img374.imageshack.us/my.php?image=clipimage009nb9.jpg

http://img374.imageshack.us/my.php?image=clipimage010nv8.jpg

http://img397.imageshack.us/my.php?image=clipimage13ex9.jpg

http://img389.imageshack.us/my.php?image=clipimage16ti3.jpg


آپ ديکھ سکتے ہيں کہ مہمند اور باجوڑ ايجنسيوں کے گرد کن سڑکوں پر کام ہو رہا ہے۔ پشاور تا تورخم جی ٹی روڈ اور کالا ڈھکہ کو بسی کھيل کے ذريعے ايکہ زئ اور حسن زئ سے ملانے کے ليے جی – او – پی روڈ کا منصوبہ اس علاقے کے لوگوں کے معيار زندگی کو بہتر کرنے کے بہت سے مواقع فراہم کرے گا۔

کچھ دوست امريکی امداد کے حوالے سے يہ سوال بھی کرتے ہيں کہ مالی بے ضابطگيوں کے سبب يہ امداد علاقے کے غريب لوگوں تک نہيں پہنچ پاتی۔ يہ بات بالکل درست ہے کہ 100 فيصد کرپشن سے پاک نظام جس ميں ہر چيز قاعدے اور قانون کے مطابق ہو، ممکن نہيں ہے۔ ليکن يہ حقيقت دنيا کے تمام ممالک اور اداروں پر لاگو ہوتی ہے۔ مالی بے ضابطگياں ہر جگہ ہوتی ہيں۔ ليکن ان مسائل کو بنياد بنا کر ان منصوبوں کو يکسر ختم کر دينے کی بجائے انکےحل کی کوششيں کرنی چاہيے۔

يہ منصوبے اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ امريکی حکومت فاٹا کے علاقے ميں درپيش مسائل کے حل کے ليے محض فوجی کاروائ پر يقين نہيں رکھتی۔


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

www.state.gov
 
فواد ،

زرداری حکومت کو امریکی امداد دینے سے پہلے اس بات کو کتنا یقینی بنایا گیا ہے کہ یہ پیسے زرداری کے ذاتی اکاؤنٹس میں نہیں چلے جائیں گے جیسا کہ زرداری اینڈ کمپنی کی عادت ہے اور اس کے بارے میں سی این این اور امریکی اخبارات بھی کھل کر لکھ چکے ہیں
 

arifkarim

معطل
جناب ڈالرز کی حیثیت ہی کیا ہے جو ہمیں امریکی امداد کی ضرورت ہو؟
انکی طرف سے آنے والا ہر ایک ڈالر ہماری قوم کو دو کوڑیوں کا محتاج و مقروض کر دیتا ہے! :grin:
 

Fawad -

محفلین
Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

فواد ،

زرداری حکومت کو امریکی امداد دینے سے پہلے اس بات کو کتنا یقینی بنایا گیا ہے کہ یہ پیسے زرداری کے ذاتی اکاؤنٹس میں نہیں چلے جائیں گے جیسا کہ زرداری اینڈ کمپنی کی عادت ہے اور اس کے بارے میں سی این این اور امریکی اخبارات بھی کھل کر لکھ چکے ہیں


امريکی اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ کے ترجمان کی حيثيت سے ميں صدر زرداری پر الزامات اور کرپشن کے حوالے سے کوئ تبصرہ نہيں کروں گا۔ اس ضمن ميں فيصلے کا اختيار اور ذمہ داری پاکستان کے عوام کی ہے۔ پاکستان کے منتخب جمہوری صدر کی حيثيت سے ہم ان کی حيثيت اور مرتبے کو تسليم کرتے ہیں اور ان کی حکومت کی مکمل حمايت کرتے ہیں۔

ليکن اس کے ساتھ ہم اس بات کی اہميت کو بھی تسليم کرتے ہيں کہ امريکی امداد اور متعلقہ ترقياتی منصوبوں کے مثبت اثرات عام عوام تک پہنچانے کے لیے فعل اور اہم اقدامات کی ضرورت ہے۔ يہی وہ ضرورت تھی جس کے پيش نظر اسلام آباد ميں امريکی سفارت خانے ميں توسيع اور عملے ميں اضافے کا فيصلہ کيا گيا۔ بدقسمتی سے پاکستان ميں ميڈيا کے کچھ عناصر نے ہزاروں امريکی مرينز کی اسلام آباد ميں موجودگی کی بے بنياد اور فرضی کہانی کو لے کر طوفان کھڑا کر ديا۔ کسی نے بھی اس بات کا ذکر نہيں کيا کہ 1200 سے زائد پاکستانی بھی وہاں پر کام کريں گے۔ پاکستانی اخبارات کی اس ضمن ميں سرخيوں کو اگر معيار بنايا جائے تو اس مناسبت سے تو کسی امريکی اخبار ميں بھی يہ سرخی بنائ جا سکتی ہے کہ امريکی سفارت خانے ميں 1200 پاکستانی اپنا قبضہ جمانے کے لیے پر تول رہے ہیں۔

جہاں تک سفارت خانے کی توسيع اور اس کو ملٹری بيس ميں تبديل کرنے کے حوالے سے خبروں کا تعلق ہے تو اس ضمن ميں آپ کی توجہ رچرڈ ہالبروک کے اس بيان کی جانب دلواؤں گا جو انھوں نے جماعت اسلامی کے رہنما لياقت بلوچ سے ملاقات کے بعد ديا تھا۔

"ميں نے ڈاکٹر بلوچ اور ان کے ساتھيوں کو دعوت دی ہے کہ وہ کسی بھی وقت امريکی سفارت خانے کا دورہ کر کے تعميراتی منصوبوں کے بليو پرنٹس اور عملے کی جانچ پڑتال کر سکتے ہيں۔ اس معاملے ميں ہميں کچھ بھی خفيہ رکھنے کی ضرورت نہیں ہے"۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

www.state.gov
 

Fawad -

محفلین
Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

منتخب کہاں ۔ امریکہ کی جانب سے ٹھونسا گیا ہے


آصف علی زرداری اگر آج پاکستان کے صدر ہيں تو اس کی وجہ يہ ہے کہ ان کی پارٹی نے 18 فروری کے عام انتخابات ميں سب سے زيادہ ووٹ حاصل کيے تھے۔ يہ ايک ناقابل ترديد حقيقت ہے۔ اس حقيقت کا "بيرونی ہاتھ" اور "مغربی آقاوؤں کی سرپرستی" سے کوئ تعلق نہيں ہے۔ جن لوگوں نے پاکستان کے دوردراز علاقوں اور لاڑکانہ اور نواب شاہ کے ديہاتوں ميں جا کر ووٹ ديے تھے، وہ امريکی نہيں بلکہ پاکستانی تھے۔ آصف زرداری 18 فروری کے اليکشن سے قبل پاکستان پيپلز پارٹی کی قيادت سنبھال چکے تھے جس کا مطلب يہ ہے کہ عوام اس بات سے واقف تھے کہ ان کی پارٹی کی کاميابی کی صورت ميں ان کے پاس اس بات کا اختيار ہو گا کہ وہ اپنی مرضی سے نئے صدر کے ليے اميدوار نامزد کريں۔

جہاں تک امريکی حکومت کی جانب سے ان کی حمايت کا سوال ہے تو يہ ياد رہے کہ امريکی حکومت نے 90 کی دہائ ميں پاکستان کے بہت سی سياسی جماعتوں اور سياسی اتحادوں کی حمايت کی ہے جس ميں پيپلز پارٹی اور مسلم ليگ دونوں شامل ہيں۔


اسی طرح امريکہ کی جانب سے پرويز مشرف کی حمايت کے حوالے سے بھی کافی کچھ کہا جاتا ہے ليکن تاريخی حقيقت يہ ہے کہ پرويز مشرف کو آرمی چيف مقرر کرنےسےلےکر صدر بنانے تک اور صدرکی حيثيت سےان کےاختيارات کی توثيق تک پاکستان کی تمام سياسی پارٹيوں اور ان کی قيادت نےاپنا بھرپور کردار ادا کيا ہےاسکے باوجود تمام سياسی جماعتوں کا يہ الزام کہ پرويزمشرف امريکہ کی پشت پناہی کی وجہ سے برسر اقتدار رہے ہيں، جذباتی بحث کا موجب تو بن سکتا ہے ليکن يہ حقيقت کے منافی ہے۔ يہ امريکہ نہيں بلکہ پاکستانی عوام کے منتخب کردہ سياسی قائدين پر مشتمل پارليمنٹ تھی جس نے انھيں 5 سال کے ليے صدر منتخب کيا تھا۔

امريکہ سياسی، معاشی اور سفارتی سطح پر ايسے بہت سے ممالک سے باہمی دلچسپی کے امور پر تعلقات استوار رکھتا ہے جس کی قيادت سے امريکی حکومت کے نظرياتی اختلافات ہوتے ہيں۔

جہاں امريکہ کے ايسے ممالک سے روابط رہے ہيں جہاں آمريت ہے، وہاں ايسے بھی بہت سے ممالک ہيں جہاں جمہوريت يا اور کوئ اور نظام حکومت ہے۔

يہ ايک غير منطقی دليل ہے کہ امريکہ دنيا کے کسی بھی ملک سے روابط قائم کرنے کے ليے پہلے وہاں کا حکومتی اور سياسی نظام تبديل کرے يا ايسا حکمران نامزد کرے جو عوامی مقبوليت کی سند رکھتا ہو۔ يہ ذمہ داری اس ملک کے سياسی قائدين اور عوام کی ہوتی ہے اور کوئ بيرونی طاقت اس ضمن ميں فيصلہ کن کردار نہيں ادا کر سکتی۔


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

www.state.gov
 

dxbgraphics

محفلین
اسلام آباد براسطہ واشنگٹن
شاید آپ بھی اپنی حکومت کے کالوے دجالی کرتوتوں اور برمودہ مثلث میں ہونے والے سازشوں سے ناواقف ہیں یا تو ڈالر کی زبان بول رہے ہیں
 

Fawad -

محفلین
Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

اسلام آباد براسطہ واشنگٹن
شاید آپ بھی اپنی حکومت کے کالوے دجالی کرتوتوں اور برمودہ مثلث میں ہونے والے سازشوں سے ناواقف ہیں یا تو ڈالر کی زبان بول رہے ہیں


اگر امريکی حکومت اتنی بااختيار اور بااثر ہے کہ ايک دور دراز ملک کے مقامی اور قومی سطح کے اليکشنز کو اپنی مرضی سے تبديل کر سکتی ہے تو پھر يہ کيسے ممکن ہے کہ امريکی صدر خود اپنے اليکشنز اور اپنی پاليسيوں کی منظوری کے ليے اپنے ملک ميں باقاعدہ مہم چلا کر اپنے نقطہ نظر کی منظوری کے ليے جدوجہد کرنے کا پابند ہوتا ہے۔ منطق کے اعتبار سے تو طاقت اور اثر ورسوخ کا آغاز اپنے گھر سے ہوتا ہے۔ حقيقت يہ ہے کہ ماضی قريب ميں دو امريکی صدور اپنے دور اقتدار ميں دوسری مرتيہ اليکشن ميں ناکام ہو گئے تھے۔ صرف يہی نہيں بلکہ ايسی درجنوں مثاليں موجود ہيں جب امريکی صدر کے بہت سے فيصلوں اور پاليسيوں کو امريکی کانگريس يا امريکی سپريم کورٹ نے مسترد کر ديا تھا۔

کسی بھی ملک کی تقدير کے ذمہ دار اس کے عوام ہوتے ہيں جو خود اپنے قائدين کا انتخاب کرتے ہيں اور پھر يہی قائدين ملک کی داخلہ اور خارجہ پاليسياں مرتب کرتے ہيں۔ کوئ بھی "بيرونی ہاتھ" يا حکومت عوام کے اس اختيار پر اثرانداز نہيں ہو سکتی۔


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

www.state.gov
 

dxbgraphics

محفلین
برمودہ مثلث میں بننے والی دجالی سازشوں کی تکمیل ڈالر کی کے ذریعے کی جاتی ہے
دوسرا امریکہ خودمختار نہیں بلکہ بگ برادرز اور دجال جو کہ ابھی اعلان کرنے کی قوت میں نہیں ہے ان کا تسلط ہے عیسائیوں پر بھی اور ان کو اپنے عزائم کے لئے استعمال کر رہے ہیں حتیٰ کہ جس مسیحا دجال کے انتظار میں وہ ہیں اس کو عیسائیوں کی نظر میں کرائس بناکر ان کو بھی دھوکے میں رکھے ہوئے ہیں
 

اظفر

محفلین
dxbgraphics کہاں کھپ رہے ہو ۔ فواد یہ سب کرنے کے کی تنخواہ لیتا ہے اور تم فری میں وقت برباد کر رہے ہو ۔
ویسے بھی ان امریکیوں کا کھوتا جہاں پھنس جائے مشکل ہی نکلتا ہے
 

arifkarim

معطل
dxbgraphics کہاں کھپ رہے ہو ۔ فواد یہ سب کرنے کے کی تنخواہ لیتا ہے اور تم فری میں وقت برباد کر رہے ہو ۔
ویسے بھی ان امریکیوں کا کھوتا جہاں پھنس جائے مشکل ہی نکلتا ہے

تنخواہ بھی بندہ اس چیز کی لے جسمیں کام اور محنت خود کی ہو۔ یہاں‌تو سارا سلیبس پیچھے سے بن کر آتا ہے اور فواد صاحب اسکو ٹوٹی پھوٹی اردو میں پیش کر کے بہت فخر محسوس کر تے ہیں۔ اسی موقع پر اس "ڈیجیٹل" آؤٹ ریچ ٹیم کو ایک سبق یہ دے دوں‌کہ آپ لوگ جو اردو کیبورڈ استعمال کر رہے ہو ، اسمیں‌بہت سے حروف کی اردو نہیں‌بلکہ عربی یونیکوڈ ویلیوز ہیں۔ ہاہاہا!
 

dxbgraphics

محفلین
یہ بات مستند ہے کہ دجال یہود و صیہونی کانپ اٹھتے ہیں جہاد کا نام سن کر۔ کیوں کہ جذبہ جہاد اور شوق شہادت کا توڑ کسی بھی سائنسی ترقی سے ممکن نہیں۔
اب تو خاندانی منصوبہ بندی کے نام پرمسلمانوں کی آبادی کم سے کم کی جارہی ہے
 

arifkarim

معطل
یہ بات مستند ہے کہ دجال یہود و صیہونی کانپ اٹھتے ہیں جہاد کا نام سن کر۔ کیوں کہ جذبہ جہاد اور شوق شہادت کا توڑ کسی بھی سائنسی ترقی سے ممکن نہیں۔
اب تو خاندانی منصوبہ بندی کے نام پرمسلمانوں کی آبادی کم سے کم کی جارہی ہے

ہاہاہا، جتنا زیادہ صیہونی اسلامی تاریخ کے بار ہ میں‌جانتے ہیں، اتنا شاید کوئی موجودہ اسلامی عالم جاتا ہوگا!
 

arifkarim

معطل
کیا کسی کو ایسٹ انڈیا کمپنی کا قصہ یاد ہے؟ اسکو بلیک واٹر کمپنی سے موازنہ کر لیں۔
 
Top