اساتذہ کرام سے اصلاح کی درخواست اور احباب سے خیال آرائی کی اپیل!

شکیل احمد خان23 نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 24, 2020

  1. شکیل احمد خان23

    شکیل احمد خان23 محفلین

    مراسلے:
    235
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    محبت ہوگئی عُنقا کہیں پائی نہیں جاتی
    یہ دل کی چوٹ ایسی ہے کہ بتلائی نہیں جاتی۔۔۔یا۔۔شکایت بھی توخاطر میں یہ اب لائی نہیں جاتی

    طوافِ خانۂ ہستی سے تم نکلو تو میں پوچھوں
    وفا کی رِیت کیوں باہر یہ دہرائی نہیں جاتی

    عمارت بیٹھ جائے گی مسلسل اشک باری سے
    تمھیں تو ہے خبر پھر سے یہ بنوائی نہیں جاتی

    کہیں جامِ شہادت نوشِ جاں کرتے ہی پروانے
    یہ پیاس اِک ساغرِ ہستی سے بہلائی نہیں جاتی

    ہیں بھرتے اور اُبھرتے زخم کیا باغ و بہاراں ہے
    مرے دل سے تری یادوں کی رعنائی نہیں جاتی

    ذرا دیکھو طبیبو تم ذرا بتلاؤ یہ صورت
    کہیں بیماریٔ دل سے تو مرجھائی نہیں جاتی
     
    آخری تدوین: ‏اگست 24, 2020
  2. ارشد چوہدری

    ارشد چوہدری محفلین

    مراسلے:
    1,629
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Brooding
    بہت خوب خان صاحب، مزا آ گیا پڑھ کر۔
     
    • زبردست زبردست × 1
  3. شکیل احمد خان23

    شکیل احمد خان23 محفلین

    مراسلے:
    235
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    آپ کی محبت کا دل سے ممنون ہوں۔عروض ڈاٹ کام کو مگربعض مصارع پر تحفظات
    ہیں ۔ مثلاً ۔۔۔۔۔۔۔یہ پیاس اِک ساغرِ ہستی سے تو بہلائی نہیں جاتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔ہیں بھرتے اور اُبھرتے زخم کیا باغ و بہاراں ہے!
    ۔۔۔ اور میں نے باغ وبہار نامی داستان تو پڑھ رکھی ہے اور کہیں کہیں باغ و بہاراں کی
    بندش بھی اشعار میں نظرسے گزری ہے مگر یہاں یہ ترکیب صحیح ہے یا نادُرست ،اساتذہ
    کی رائے کا انتظار ہے۔۔۔۔اور پیاس کے بہلانے یا بہلائے جانے پر خود مجھے جو تشکیک
    سی ہے ۔اساتذہ کرام سے اس کی بھی تردید یا تصدیق چاہتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگر میں اِس محبت بھری رائےکے لیے ایک بار پھر آپ کا شکریہ اد ا
    کرتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
    آخری تدوین: ‏اگست 25, 2020
  4. شکیل احمد خان23

    شکیل احمد خان23 محفلین

    مراسلے:
    235
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    محبت ہوگئی عنقا کہیں پائی نہیں جاتی
    خلش بھی دل کی یہ خاطر میں اب لائی نہیں جاتی
    طوافِ خانۂ ہستی تھمے تو آپ سے پوچھوں۔۔۔۔۔۔۔۔(آپ سے =اپنے آپ سے )
    وفا کی رِیت کیوں باہر یہ دہرائی نہیں جاتی
     
    آخری تدوین: ‏اگست 28, 2020
  5. محمّد احسن سمیع :راحل:

    محمّد احسن سمیع :راحل: محفلین

    مراسلے:
    995
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Confused
    شکیلؔ بھائی آداب!

    مطلع کی ساری صورتیں مجھے تو دولخت معلوم ہوتی ہیں، دونوں مصرعوں میں ربط کی کمی ہے۔ دوبارہ فکر کر کے دیکھیں۔

    آپ اس اسلوب میں اب اتنا مستعمل نہیں، اس لئے شعر میں ابہام پیدا کرے گا۔ پہلی صورت ہی بہتر ہے ۔۔۔ تاہم دوسرے مصرعے میں ’’تم سے‘‘ کے بغیر بات پوری نہیں ہوتی۔

    کون سی عمارت؟؟؟ دوسرے مصرعے میں مفہوم کی ادائیگی درست نہیں ہو پا رہی ۔۔۔ یہاں پر ’’بنوائی نہیں جاسکتی‘‘ کہا جائے تو مفہوم درست ادا ہوگا۔

    پہلے مصرعے میں کتابت کی غلطی ہے کیا؟
    نوش کرتے ’’ہی‘‘ یا ’’ہیں‘‘؟؟؟
    شعر پھر بھی دولخت ہی لگتا ہے۔

    ٹھیک ہے، تاہم پہلے مصرعے کی بندش مزید چست کی جاسکتی ہے۔

    دعاگو،
    راحلؔ۔
     
    • زبردست زبردست × 1
    • متفق متفق × 1
  6. شکیل احمد خان23

    شکیل احمد خان23 محفلین

    مراسلے:
    235
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    محترم راحیل بھائی!
    میں تو مایوس ہوچلا تھا کہ شایدلڑی کے عنوان میں اصلاح کے ساتھ احباب کے اظہارِ رائے کے تقاضے نے
    آپ حضرات کو ملتفت ہونے سے روک دیا ہے۔۔۔۔۔مگر اب آپ کے اِس جواب سے اور بیش قدر آراء
    سے دل کو تسلی ہوئی ہے۔محترم بھائی ! میں اِس غزل پر آپ کی رائے کی روشنی میں پھر غور کرتا ہوں اور جلد
    دوبارہ حاضر ہوتا ہوں ۔آپ کے اُٹھائے ہوئے نکات حق اعتراضات بر حق ہیں۔۔شکرگزار شکیل احمد خان
     

اس صفحے کی تشہیر