اساتذہ کرام ! براہ کرم اصلاح فرما دیجے

طاہر

محفلین
کیوں اتنا درد بھرا ہے تیری آہ و فغاں میں
غنچہِ گُل بھی اُداس ہوا ہے گلستاں میں

اک روز تو چمکے گا تیرے نور کا سورج
اندھیروں نے مچا رکھا ہے شور شبستاں میں

قافلِہ امید بار بار بھٹک جاتا ہے راہ سے
نہ جانے کس چیز کی کمی ہے میرِ کارواں میں

لوگ مسکراتے چہروں کو لگا لیتے ہیں گلے
تو بھی ہنس لے کیا رکھا ہے آہ وفغاں میں

وہ دوستی کو کچھ بھی نام دے دے طاہر
ہم اُسے کہتے ہیں محبت اپنی زباں میں
 
Top