اردو کے مخالفین کا المیہ ---اوریا مقبول جان

زیک

مسافر
اگر اوریا ساتویں یا آٹھویں صدی میں ایران میں ہوتا تو اس زمانے کی فارسی کے حق میں اور عربی کے خلاف مضامین لکھتا؟
 

آصف اثر

معطل
اگر اوریا ساتویں یا آٹھویں صدی میں ایران میں ہوتا تو اس زمانے کی فارسی کے حق میں اور عربی کے خلاف مضامین لکھتا؟
اوریا انگریزی کے خلاف نہیں اس کو زبردستی اور منافقانہ طور سے عوام پر تھوپنے کے خلاف ہیں۔ہر بات میں منفی پہلو نکالنا درست فعل نہیں۔
دوسری بات کہ اردو ، عربی، فارسی ، پشتو، سندھی ، پنجابی ، اور دیگر پاکستانی زبانیں عرب خاندان سے تعلق رکھتی ہیں جب کہ انگریزی اور دیگر یورپی زبانیں رومن سے لہذا اُردو اور عربی فارسی کا امتزاج عین فطری ہے اس پراعتراض نہیں کیاجاسکتا ۔ جبکہ انگریزی ”بدیسی“ یا یوں سمجھ لیں کہ ”بد -دیسی“ زبان ہے۔:)
 

سید ذیشان

محفلین
اوریا انگریزی کے خلاف نہیں اس کو زبردستی اور منافقانہ طور سے عوام پر تھوپنے کے خلاف ہیں۔ہر بات میں منفی پہلو نکالنا درست فعل نہیں۔
دوسری بات کہ اردو ، عربی، فارسی ، پشتو، سندھی ، پنجابی ، اور دیگر پاکستانی زبانیں عرب خاندان سے تعلق رکھتی ہیں جب کہ انگریزی اور دیگر یورپی زبانیں رومن سے لہذا اُردو اور عربی فارسی کا امتزاج عین فطری ہے اس پراعتراض نہیں کیاجاسکتا ۔ جبکہ انگریزی ”بدیسی“ یا یوں سمجھ لیں کہ ”بد -دیسی“ زبان ہے۔:)

اردو، پشتو، وغیرہ زبانوں کے انڈو-ایرانی (انڈو-یورپی) خاندان سےتعلق رکھتی ہیں جبکہ عربی سامی خاندان (افرو-ایشیائی) سے تعلق رکھتی ہے۔
 

عثمان

محفلین
اردو، پشتو، وغیرہ زبانوں کے انڈو-ایرانی (انڈو-یورپی) خاندان سےتعلق رکھتی ہیں جبکہ عربی سامی خاندان (افرو-ایشیائی) سے تعلق رکھتی ہے۔
بلکہ اردو اور انگریزی انڈو یورپی خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔ عربی کا تو اس خاندان سے بھی تعلق نہیں۔
 

آصف اثر

معطل
اردو، پشتو، وغیرہ زبانوں کے انڈو-ایرانی (انڈو-یورپی) خاندان سےتعلق رکھتی ہیں جبکہ عربی سامی خاندان (افرو-ایشیائی) سے تعلق رکھتی ہے۔
مزید تفصیل میں جانے کی ضرورت محسوس نہیں کررہا کیوں کہ بتانے کا مقصد صرف یہ تھا اردو اور انگریزی یکسر مختلف زبانیں ہیں لہذا مقامی اور ہم شجرہ زبانوں کو چھوڑ کر انگریزی کی لنگوٹی پکڑنا کسی بھی طور پر صحیح نہیں۔
 

عثمان

محفلین
مزید تفصیل میں جانے کی ضرورت محسوس نہیں کررہا کیوں کہ بتانے کا مقصد صرف یہ تھا اردو اور انگریزی یکسر مختلف زبانیں ہیں لہذا مقامی اور ہم شجرہ زبانوں کو چھوڑ کر انگریزی کی لنگوٹی پکڑنا کسی بھی طور پر صحیح نہیں۔
اوپر مبصر نے آپ کو یہی تفصیل بتائی ہے کہ اردو اپنی لسانی ساخت کے اعتبار سے انگریزی سے قربت رکھتی ہے، عربی سے نہیں۔ اردو اور عربی ہم شجرہ نہیں۔
 
عثمان بھائی اردو کے اندر عربی کے جتنے زیادہ الفاظ ہیں اور رسم الخط جتنا قریب ہے دونوں رشتہ دار لگتی ہیں۔
لیکن یہ درست ہے کہ اردو اور عربی کی گرامر میں کافی فرق ہے۔ اردو کی گرامر فارسی کے قریب ہے۔
 

عثمان

محفلین
عثمان بھائی اردو کے اندر عربی کے جتنے زیادہ الفاظ ہیں اور رسم الخط جتنا قریب ہے دونوں رشتہ دار لگتی ہیں۔
لیکن یہ درست ہے کہ اردو اور عربی کی گرامر میں کافی فرق ہے۔ اردو کی گرامر فارسی کے قریب ہے۔
عربی چونکہ جغرافیائی اور مذہبی اعتبار سے ہم سے قریب ہے اس لیے بادی النظر میں کچھ قربت دیکھائی دینا کوئی ایسی عجیب بات نہیں۔
تاہم ماہرین لسانیات کے ہاں زبانوں کی قربت طے کرنے کا کرائیٹیریا کچھ پیچیدہ ہے۔ اس لیے ایک عام آدمی کو حیرانی ہوتی ہے جب اسے بتایا جائے کہ انگریزی لسانی اعتبار سے اردو کے لیے کوئی ایسی اجنبی نہیں۔
مستند تفصیلات تو آپ کو ماہرین ہی بتا سکتے ہیں:)
 
یہ بحث ہی فضول ہے
زبان وہی چلے گی جس کا سکہ چلتا ہو۔ معاشی طورپر مضبوط قوم کوئی بھی زبان اپنا لیتی ہے حتیٰ کہ مردہ زبان بھی زندہ کرلیتی ہے۔ جیسے عبرانی اور ہندی۔
 
غیر متفق۔
یاد رکھیں ترقی کسی زبان سے مشروط نہیں ہے۔ ترقی کا تعلق محنت، دیانت اور ریاضت سے ہے۔
جو قوم ترقی کرجاتی ہے اسکی کی زبان کا راج ہوجاتا ہے۔
بہتر ہے کہ قوم کے اخلاق، دیانت اور محنت پر توجہ دی جاوے۔ زبان اپے ہی راج کرنے لگے گی۔
بچوں کے پلے کچھ پڑے گا تو محنت کریں گے خصوصا مڈل لیول تک جس بچے کو انگریزی کا ہی نہیں پتا وہ سائنس کیسے سمجھے گا انگریزی میں اور اسی کو بنیاد بنا کر اس نے آگے بھی چلنا ہے۔
محنت سے قطعا انکار نہیں مگر دیہاتی علاقے جو آبادی کا ایک بڑا حصہ ہیں وہاں پاس ہونے کی شرح کافی کم ہوئی ہے جب سے انگلش میڈیم کیا گیا ہے۔
یا تو پھر سب بچوں کے لئے ایچیسن جیسے ادارے اور ماحول ہو یا پھر ایسا نظام کر دیا جائے جس سے اکثریت کو فائدہ پہنچے نہ کہ صرف مخصوص طبقہ کو۔
فرانس چائینا جرمن روس اور سپین وغیرہ کیوں ابھی تک اپنی مادری زبانوں میں تعلیم دے رہے ہیں البتہ کچھ یونیورسٹیز میں مادری قومی زبانوں کیساتھ انگلش میں بھی پروگرام آفر ہوتے ہیں۔

اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی زبان کو اس سطح پر لے کر آئیں اور یہ تبھی ممکن ہوگا جب ایسے اقدامات کئے جائیں گے وگرنہ لکیر کے فقیر تو پہلے ہی ہیں ہم
 

آصف اثر

معطل
عربی چونکہ جغرافیائی اور مذہبی اعتبار سے ہم سے قریب ہے اس لیے بادی النظر میں کچھ قربت دیکھائی دینا کوئی ایسی عجیب بات نہیں۔
تاہم ماہرین لسانیات کے ہاں زبانوں کی قربت طے کرنے کا کرائیٹیریا کچھ پیچیدہ ہے۔ اس لیے ایک عام آدمی کو حیرانی ہوتی ہے جب اسے بتایا جائے کہ انگریزی لسانی اعتبار سے اردو کے لیے کوئی ایسی اجنبی نہیں۔
مستند تفصیلات تو آپ کو ماہرین ہی بتا سکتے ہیں:)
یہی تو مسئلہ ہے کہ اتنا قدیم کہ جب کوئی زبان ابھی موجود ہی نہیں تھی ، کیوں چلا جائے؟ ہمیں اس شجرے سے نہیں پھلوں سے لینا دینا ہے۔
بات دراصل یہ بھی ہے کہ انگریز خود دوسری زبانوں سے دھڑا دھڑ ۔۔۔جی ہاں ، دھڑا دھڑ الفاظ لیکر انگریزی کا حصہ بنا رہے ہیں تو ہم انگریزی ہی پر کیوں اصرار کریں؟ کیا باقی تمام زبانیں مُردہ ہوگئی ہیں؟
آج جب انگریز ”پرنٹر، کمپیوٹر، کیمرہ ، سیٹییلائیٹ، پروسیسر ، روبوٹ اور اس جیسے دیگر “ جدید الفاظ دوسری زبانوں سے لے سکتے ہیں تو ہم ہی انگریزی کے پیچھے کیوں پڑے ہوئے ہیں؟ اور بھی جب دسیوں دیگر قریبی زبانیں صحت مند حالت میں موجود ہوں۔
 
Top