اردو کی معروف افسانہ نگار صفیہ صدیقی انتقال کرگئیں

راشد اشرف

محفلین
اردو کی معروف افسانہ نگار صفیہ صدیقی 28 نومبر، 2012 کی شام لندن میں 77 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں۔ وہ کافی عرصے عارضہ قلب میں مبتلا تھیں۔
انا للہ وانا الیہ راجعون
راقم الحروف کو صفیہ صدیقی کے انتقال کی خبر فرزند ابن صفی جناب احمد صفی نے دی۔ یاد رہے کہ صفیہ صاحبہ، احمد صفی کی سگی خالہ اور جناب ابن صفی کی سالی تھیں۔ احمد صفی صاحب کے دکھ بھرے پیغام میں لکھا تھا کہ "آج میں نے اپنی ماں کو دوبارہ کھویا ہے"۔ ہم ان کے دکھ میں برابر کر شریک ہیں اور ان کی خالہ صاحبہ کے درجات کی بلندی کے لیے دعاگو ہیں۔

راقم نے ابن صفی پر تین ماہ قبل مرتب کردہ اپنی کتاب "کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا" میں مندرجہ ذیل سطور درج کی تھیں:

"صفیہ صدیقی۔ابن صفی کی سالی، معروف افسانہ و ناول نگار۔آبائی تعلق قصبہ نگرام ضلع لکھنو سے ہے۔گزشتہ کئی دہائیوں سے لندن میں مقیم ہیں۔روزنامہ جنگ لندن سے وابستہ رہیں، 1982 میں خرابی صحت کے باعث جنگ کی ملازمت ترک کردی۔ تادم تحریر افسانوں کے چار مجموعے اور ایک ناول (وادی غربت میں) شائع ہوچکا ہے۔ "

صفیہ صدیقی کے حالات زندگی، ان کی انتہائی مختصر مگر اہم خودنوشت، افسانے و دیگر مواد راقم الحروف کے پاس محفوظ ہے۔ کوشش ہوگی کہ اسے ایک مضمون کی شکل دی جاسکے۔

محترم سید معراج جامی نے اپنے جریدوں پرواز اور سفیر اردو کے صفی صدیقی نمبر شائع کیے تھے۔ سفیر اردو میں شائع ہوئی صفیہ صدیقی کی ایک تصویر منسلک ہے جس کا عنوان خود ان کے ہاتھ کا تحریر کردہ ہے۔ مذکورہ تصویر میں وہ انتہائی بائیں جانب براجمان ہیں:
www.flickr.com/photos/rashid_ashraf/8228861020/

صفیہ صدیقی سے راقم الحروف کا رابطہ بذریعہ ای میل کافی عرصے رہا، وہ بزم قلم پر راقم کی شامل کردہ چیزیں انہماک سے پڑھا کرتی تھیں، ان کے کئی پیغامات آج بھی محفوظ ہیں۔ 24 نومبر 2011 کو بھیجا گیا ایسا ہی ایک پیغام پیش خدمت ہے:
"عزیزم را شد۔ بہت سی دعائیں

ابھی آپ کی بھیجی ہوئی میل دیکھی اور پڑھی، اور ان تصویروں میں میرے بھائی جان کی بھی ایک تصویر تھی کافی پرانی، بہت خوشی ہوئی، آ پ کو شائد معلوم نہیں کہ مکین احسن کلیم میرے بڑے بھائی تھے، وہ لا ہور میں تھے جب ان کا انتقال ہوا۔ قیصر تمکین صاحب نے خبر گیر میں ان کا تزکرہ کیا ہے، یہ کتاب میرے پاس ہے، جب انھیں معلوم ہوا کہ میں ان کی بہن ہوں تو تمکین صاحب میرا بہت خیال کرنے لگے تھے، وہ کوئی 14 یا 15 برس کے رہے ہوںگے جب وہ قومی آواز میں پارٹ ٹائم کام کیا کرتے تھے وہیں بھائی جان سے ملا قا ت ہوئی تھی۔ یہ کوئی 80 کی دھائی ہوگی جب ساقی فاروقی کے افتخار عارف کے نام خط کا بہت شہرہ ہوا تھا مگر یہ شائد ہی کسی کو معلوم ہو کہ اسمیں کیا تھا، یہ بھی مشہور تھا کہ 24 صفحوں کا خط تھا۔
دعاؤ ں کے ساتھ
صفیہ

جیسا کہ مکتوب سے ظاہر ہے، مکین احس کلیم مرحوم، صفیہ صدیقی کے بھائی تھے۔ راقم الحروف نے " کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا" میں صفیہ صدیقی کا ایک اہم مضمون " بوئے گل سو گئی" بھی خصوصی طور پر شامل کیا تھا۔
 
اِنّا للہِ و اِنّا اِلیہِ راجِعون
اللہ مرحومہ کو جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائیں اور لواحقین کو صبر ِ جمیل عطا فرمائیں۔ آمین
 
Top