اردو کمپیوٹنگ کے مستقبل میں آنے والے مسائل

دوست

محفلین
بات یہ بھی پتے کی ہے کہ فونٹ میں‌ ایسے گلائف کیوں نہیں ڈالے جاتے جو ے کے بعد لفظ آنے کی صورت میں‌ اسے ی جیسا کردیں۔
 
آپ لوگ اعجاز صاحب کا موقف نہیں سمجھ پا رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ فانٹ تو ایسا ہو ہی جو درمیانی ے کو بھی ی جیسا دکھائے۔ پر ہمارے لکھنے کا طرز ایسا ہو کہ ہم اس میں صوتی لحاظ سے کیریکٹر استعمال کریں (جہاں تک ممکن ہو) اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ ٹرانسلٹریشن میں ایک عدد آسانی ہو جائے گی۔
 

الف عین

لائبریرین
نون غنے کی حد تک کرلپ نے مسئلہ حل کر لیا ہے۔ نئے نفیس ویب نسخ اور نفیس نستعلیق ورژن 1۔2 میں پاںچ میں استعمال کریں تب بھی درست شکل برامد ہوتی ہے، لیکن یونی کوڈ انجن اسے پڑھے گا تو ’ں‘ ہی، اس کو نون میں کنورٹ کرنا غلط ہے۔ یونی کوڈ قوانین کی بات اس لئے کر رہا ہوں کہ اگر یہ قانون بنا دیا جائے تو درمیاں میں بڑی ے ٹائپ کی جائے تو اس کے بعد اس قسم کا نشان سامنے آئے جیسا لفظ میں پہلے ہی اعراب لگانے سے نظر آتا ہے کہ سب کو علم ہو جائے کہ کچھ غلطی ہے، تو اس عادت کو بدلنے کی کوشش کی جائے گی۔
سعود میرا موقف درست سمجھے ہیں۔ اسی لئے کہہ رہا ہوں کہ پورا انڈک سیٹ اردو کتابت/کمپوزگ/ٹائپپنگ کی اغلاط کی وجہ سے غلط ٹرانسلٹریشن کا شکار ہو جائے گا۔
 

الف عین

لائبریرین
شاید یہ لکھا تھا کہیں کہ رحمت بھائی یعنیہ رحمت یوسف زئی اس پروجیکٹ میں ’اے‘ کے تلفظ والی ی کو ’ے‘ کا ٹرانسلٹریشن ہی کر رہے ہیں، چاہے دیکھنے میں شکل بگڑ جائے۔
 

arifkarim

معطل
شاید یہ لکھا تھا کہیں کہ رحمت بھائی یعنیہ رحمت یوسف زئی اس پروجیکٹ میں ’اے‘ کے تلفظ والی ی کو ’ے‘ کا ٹرانسلٹریشن ہی کر رہے ہیں، چاہے دیکھنے میں شکل بگڑ جائے۔

اردو کی مشینی ٹرانسلیشن حرف با حرف شاید صرف ہندی/ اردو میں ہی ہوتی ہے۔ کیا اسکے علاوہ بھی کہیں مشینی ٹرانسلیشن کی ضرورت پڑتی ہے؟ یعنی کسی اور زبان میں؟
 

الف عین

لائبریرین
ایم مبین کی کسی سائٹ کو دیکھیں۔ انہوں نے اپنی کہانیوں کو کئی انڈک زبانوں میں ٹرانسلٹریٹ کر کے لگا رکھا ہے۔
یہی کام بھومیو بھی کرتا ہے۔ بلکہ مبین نے بھی ان کے ہی آن لائن انجن سے مدد لی ہے۔
ایم مبین کی ایک سائٹ:
http://indianstarwar.tripod.com/
بھومیو:
http://bhomiyo.wordpress.com/
 
Top