اتوار بازار کراچی

تلمیذ نے 'مطالعہ کتب' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ستمبر 8, 2012

  1. تلمیذ

    تلمیذ لائبریرین

    مراسلے:
    3,914
    موڈ:
    Cool
    کچھ عرصہ ہوا جناب راشداشرف صاحب نے اتوار بازار کراچیمین اپنے ہفتہ وار دوروںکی روئداد اور حاصل کردہ کتابوں پر اپنے انداز میں تبصرہ کے ساتھ ایک نہایت دلچسپ سلسلہ شروع کیا تھا جوعمدہ کتابوں کے شائقین کے علم میں کافی اضافے کا باعث تھا۔اور ہر ہفتے اس کا انتظار رہتا تھا۔ بعد میں جناب خلیل الرحمن بھی شال ہو گئے اور ان کی ایک دو تحریں بھی پڑھنے کو ملیں۔

    لیکن اب یہ دونوں کرم فرما ایسے غائب ہوئے ہیں کہ کئی ہفتے ہو گئے ہیں اور اتوار بازار کے بارے میں پڑھنے کو آنکھیں "ترستیاں" ہیں۔

    کیا دونوں صاحبان از راہ کرم اپنے پرستاروں کی خواہش کے پیش نظر توجہ فرمائیں گے؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • معلوماتی معلوماتی × 2
    • متفق متفق × 2
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  2. انیس الرحمن

    انیس الرحمن محفلین

    مراسلے:
    8,315
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    راشد بھائی کے تبصرے فیس بک پر پڑھنے کو مل جاتے ہیں۔
     
  3. تلمیذ

    تلمیذ لائبریرین

    مراسلے:
    3,914
    موڈ:
    Cool
    اطلاع دینے کا شکریہ جناب،

    لیکن جو فیس بک کے ارکان نہیں، وہ کیا کریں؟
    شاید راشدصاحب اسے پڑھ لیں۔
     
  4. انیس الرحمن

    انیس الرحمن محفلین

    مراسلے:
    8,315
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    میں انہیں آپ کا پیغام پہنچا دوں گا۔
     
  5. تلمیذ

    تلمیذ لائبریرین

    مراسلے:
    3,914
    موڈ:
    Cool
    ایک مرتبہ پھر شکریہ جناب!!
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  6. Rashid Ashraf

    Rashid Ashraf محفلین

    مراسلے:
    355
    بہت شکریہ کہ آپ نے یاد رکھا
    اتوار بازار گزشتہ تین برس سے تواتر کے ساتھ جانا ہوتا ہے۔ اس معمول میں کوئی تعطل نہیں آیا ہے، اس وقت جبکہ یہ سطور رقم کررہا ہوں، موسم غیر یقینی ہے لیکن بہرحال وہاں جانا طے ہے۔
    کئی رودادیں قلم بند کیں اور شاید یہ تمام کتاب کی شکل میں شائع بھی ہوں ---- لیکن اس وقت آپ کے سوال کے جواب میں عرض کروں کہ ابن صفی پر اپنی کتاب کے سلسلے میں مصروفیت نے اس رودار کو قلم بند کرنے سے روکے رکھا۔ کتاب شائع ہوئی تودہلی سے 500 صفحات پر مشتمل ضخیم ابن صفی نبمر کے لیے خالص تحقیق نوعیت کے چند مضامین لکھنے کا حکم ہوا۔ ادھر ایک کام اور شروع کردیا ہے اور وہ ہے "ابن صفی-فن اور شخصیت" ،،،،، المیہ ہے کہ جو آج تک نہ لکھی گئی۔ اکادمی آف لیٹرز کے تحت 85 شعرا و ادباء پر فن اور شخصیت لکھی گئی ہے لیکن ان میں ابن صفی نہیں ہیں۔ اور ان میں سے اکثر جس طرح لکھی گئی ہیں، ہرگز ہرگز اس طرح لکھنا نہیں چاہتا ہوں، لہذا یہ بھی اتوار بازار کے معاملے کی ایک بنیادی وجہ ہے۔

    فیس بک پر باقاعدگی سے چیزیں شامل کرتا رہتا ہوں۔ ان میں ادب سے دلچپسی رکھنے والوں کے لیے تنوع ہے، مواد ایسا ہوتا ہے کہ بے اختیار پڑھنے کو جی چاہے۔ آسانی یہ ہے کہ اسکین کیا اور شامل کردیا۔ خودنوشتوں کے ریکارڈ کے مرتب کیے جانے کے بعد بہت عرصے سے ایک پراجکٹ ذہن میں تھا کہ خاکوں کے سرورق بھی شامل کیے جائیں سو چند روز قبل یہ کام بھی فیس بک پر کردیا۔ راقم نے اپنے پاس موجود خاکوں کے ذخیرے کے سرورق ایک فولڈر کی شکل میں شامل کردیے۔ احباب سے درخواست بھی کردی کہ اس سلسلے میں مدد فرمائیں۔

    اسی طرح حال ہی میں اے حمید صاحب کی موت کا تعاقب کے تمام ناولوں کے سرورق شامل کیے۔ بارہ کے قریب موجود نہ تھے، مدد آئی بھی تو کہاں سے -- پشاور کے ایک ایسے دوست نے انہیں بھیجا جو رومن اردو لکھتے ہیں تو خاصی دقت کے بعد تھوڑا کچھ سمجھ میں آتا ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
    • زبردست زبردست × 2
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  7. زبیر مرزا

    زبیر مرزا محفلین

    مراسلے:
    5,997
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    ان شاءاللہ جلدی ہم بھی ریگل اورفرئیرہال والے اتوارکُتب بازار تک پہنچ جائیں گے :)
    اور راشد صاحب سے ملاقات کی شدید خواہش بھی ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  8. تلمیذ

    تلمیذ لائبریرین

    مراسلے:
    3,914
    موڈ:
    Cool
    جان کر خوشی ہوئی مرزا صاحب، اور زیادہ راشد صاحب سے ملاقات کا پڑھ کر۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  9. تلمیذ

    تلمیذ لائبریرین

    مراسلے:
    3,914
    موڈ:
    Cool
    [
    جواب دینے کا شکریہ، کیا ہی اچھا ہو اگرآپ تھوڑی سی زحمت کرکے 'وادیٔ اردو' پر بھی یہ چیزیں پوسٹ کر دیا کریں تاکہ ہم بھی پڑھ سکیں یا اگر کہیں پوسٹ کرتے ہوں تو بتائیں (فیس بک کے بارے میں میرے کچھ تحفظات ہیں) ۔ پیشگی نوازش!!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  10. محمد امین

    محمد امین لائبریرین

    مراسلے:
    9,454
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Flirty
  11. Rashid Ashraf

    Rashid Ashraf محفلین

    مراسلے:
    355
    جی ہاں! درست کہا آپ نے۔ قریبی جاننے والوں میں ایسے لوگ ہیں جو بوجوہ فیس بک چھوڑ چکے ہیں۔
    وادی اردو بنیادی طور پر ابن صفی سے متعلق معلومات پر منبی سائٹ ہے جہاں موضوع سے ہٹ کر محض دو ایسے لنکس ہیں جن پر اردو خودنوشتوں کے ریکارڈ پر مشتمل ایک بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ بہرکیف فیس بک پر میری وال پر اتنا کچھ پڑھنے کو ہے کہ ایک صاحب کے بقول وہ چھ ماہ سے اسے دھیرے دھیرے پڑھ رہے ہیں۔ تمام نایاب چیزیں شامل کی جاتی ہیں۔

    تصاویر کی بات کریں تو عموما انہیں شامل کرنے سے گریز ہی کرتا ہوں لیکن کبھی کبھی کوئی اچھا چیز آجائے تو حرج نہیں ہوتا۔ پرسوں دلی سے منٹو کی تینوں صاحبزادیوں کی ایک عمدہ تصویر آئی جسے وہاں شامل کردیا تھا۔ یہ تینوں خواتین ان دنوں دلی میں موجود ہیں۔



     
    • زبردست زبردست × 2
  12. Rashid Ashraf

    Rashid Ashraf محفلین

    مراسلے:
    355
    کہیں اور پوسٹ کرنے کا وقت نہیں ملتا۔ دن منسٹری آف پیٹرولیم کی نوکری کرتے گزرتا ہے، سرشام فیس بک دیکھ لی جاتی ہے کہ احباب منتظر ہوتے ہیں، تبصرے، پیغامات وغیرہ۔ کچھ فرمائشیں موجود رہتی ہیں۔ جممعے کی شام اور اتوار کی صبح لوگوں سے ملاقات کی نذر ہوتی ہے۔ ان دنوں شاہ محلی الحق فاروقی (بلبلیں نواب کی' کے مترجم) کی خودنوشت کی اشاعت کے لیے بھاگ دوڑ ہورہی ہے۔ 12 برس سے لکھی رکھی تھی، زندگی میں شائع نہ ہوسکی، انتقال کے تیسرے دن ایک ناشر کو لے کر پہنچا تو ان کے صاحبزادے نے کہا کہ بسم اللہ کیجیے۔

    ایک اچھی خودنوشت پڑھنے کو ملے گی
    (یہ سب فی سبیل اللہ ہے)
     
    • زبردست زبردست × 2
  13. Rashid Ashraf

    Rashid Ashraf محفلین

    مراسلے:
    355
    • زبردست زبردست × 1
  14. محمد امین

    محمد امین لائبریرین

    مراسلے:
    9,454
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Flirty
    شکریہ راشد بھائی
     
  15. تلمیذ

    تلمیذ لائبریرین

    مراسلے:
    3,914
    موڈ:
    Cool
    تفصیلاً لکھنے کا شکریہ جناب راشد صاحب، مجھے بھی انہی احباب میں شمار کیجئے جو فیس بک کو پسند نہیں کرتے۔ جس میں شامل نہ ہونے کی وجہ سےآپ کی تحاریر سے محرومی کا قلق ہے۔ چلئے یوں ہی ادھر ادھر سے ڈھونڈھ کر گذارہ کریں گے۔وادیٔ اردو کے ابن صفی مرحوم کے لئے مخصوص ہونے کا علم نہ تھا۔ ویسے اس صورت میں اس کے نام میں ان کے نام کا اشارہ ہونا چاہئے تھا۔
    متوقع سوانح کا انتظار رہے گا۔بندے آپ ڈھونڈھ کر نکالتے ہیں صاحب!

    دونوں ربط میرے پاس پہلےسے ہی محفوظ ہیں اور میں کبھی کبھی کھول کر انہیں دیکھتا ہوں ، اگر تویہ سب کتابیں آپ کے پاس موجود ہیں تو میرے خیال میں اردو خود نوشتوں اور سوانح کا اتنا برا ذخیرہ شاید ہی کسی اور کے پاس ہو۔ اور اگر آپ ان سب کو پڑھ بھی چکے ہیں تو پھر آپ کہیں قریب ہوتے تو آپ کے ہاتھ چوم کر آنکھوں سے لگاتا ،کہ اللہ پاک ہمین بھی یہ توفیق دے۔

    اتوار بازار کا ذکر آپ پھر گول کر کئے!! ;)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
  16. Rashid Ashraf

    Rashid Ashraf محفلین

    مراسلے:
    355
    اتوار بازار جانا فرض ہے۔ اس مرتبہ بھی گئے تھے، کتابیں بھی ملیں لیکن جیسا کہ عرض کیا تھا کہ اپنی دوسری کتاب کی مصروفیت کی وجہ سے دوداد قلم بند کرنا مشکل ہورہا ہے۔
    فیس بک پر لکھنے کا سلسلہ نہیں ہے، محض مختلف النوع قسم کا ادبی مواد شامل کرتا ہوں۔ تحریروں کے لیے پہلی ترجیع ہماری ویب اس لیے ہوتی ہے کہ وہاں یہ محفوظ ہوتی رہیں اور کتاب کی اشاعت کے وقت آسانی سے رسائی ممکن ہوسکے۔ وہسے ان پیج فائلز کا ریکارڈ بھی محفوظ ہے۔

    پاک و ہند کے مختلف ادبی جرائد میں شائع ہونےو الے مضامین وادی اردو پر شامل کیے جاتے رہے تھے لیکن بدقسمتی سے اس لنک میں کوئی ایسا مسئلہ ہوا کہ مجبورا اسے حذف کرنا پڑا۔

    وادی اردو میں ابن صفی کا نام آنا چاہیے تھا، آپ درست کہتے ہیں۔ یہ نام تجویز کرتے وقت یہی بات ذہن میں تھی اس پر خودنوشتوں او خاکوں کا ریکارڈ بھی شامل کیا جائے گا، سو یہ نام رکھا۔

    اردو خودنوشتوں کی تعداد 500 سے تجاوز کرگئی ہے۔ 80 فیصد پڑھ چکا ہوں۔ چونکہ ان میں مستقل اضآفہ ہوتا رہتا ہے اس لیے مطالعے میں بھی اسی تناسب سے وقت صرف ہوتا ہے۔ ایک برس سے ہندوستان سے خؤدنوشتوں کی آمد کا سلسلہ بھی جاری ہے جنہیں کو پڑھنے میں ترجیع دیتا ہوں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  17. تلمیذ

    تلمیذ لائبریرین

    مراسلے:
    3,914
    موڈ:
    Cool
    مفصل جواب کا شکریہ راشد ساحب، ہم تو اب ہمہ وقت آپ کی فرصت کے لئے دعائیں کرتے رہیں گے۔
    دریں اثنا، خلیل الرحمن صاحب ہی کچھ توجہ فرمائیں۔
     
    • زبردست زبردست × 1
  18. Rashid Ashraf

    Rashid Ashraf محفلین

    مراسلے:
    355
  19. تلمیذ

    تلمیذ لائبریرین

    مراسلے:
    3,914
    موڈ:
    Cool
    آپ کی ایک گزشتہ پوسٹ کے حوالے سے گمان غالب ہے کہ آپ اب بھی اتوار بازار جاتے ہوں گے۔تو پھر صاحب ، ہم نے کون سا قصور کیا ہے کہ آپ نے یک بیک ہمیں وہاں کی 'فتوحات' کی تفصیل سے محروم کر دیا اور اپنے فیس بُک کے ناظرین کو نوازتے رہتے ہیں (حسد کے جذبات)۔ اب ہم جو فیس بک کے رکن نہیں بننا چاہتے تو ہمارااتنا حق تو بنتا ہے کہ آپ کی تحاریرسے کسی طور استفادہ حاصل کر سکیں۔ اور اس کا ذریعہ اردومحفل یا پھر ای میل ہی ہے۔

    جناب خلیل الرحمن بھی اس میدان میں تشریف تو لائے تھے لیکن دو ایک (عمدہ) پوسٹوں کے بعد وہ بھی ہتھیار ڈال گئے اگریہ یہ عرضداشت ان کی نظر سے بھی گذرے توبراہ کرم توجہ فرمائیں۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  20. راشد اشرف

    راشد اشرف محفلین

    مراسلے:
    1,443
    محمود شام صاحب کی زیر ادارت شائع ہونے والے کراچی کے نووارد اخبار جہان پاکستان میں کالم نوسی کا آغاز کرچکا ہوں۔ وہاں مجھے لے جانے والے شام صاحب ہی ہیں جنہوں نے اتوار بازار کی یہ رودادیں پڑھنے کے بعد یہ پیشکش کی تھی اور میں نے بازار کے احوال سے زیادہ نئی کتابوں کے تعارف پر مبنی کالم لکھنے کی تجویز پیش کی جو منظور کرلی گئی۔ سو اب یہی وجہ ہے کہ اس جانب سے ہاتھ روک رکھا ہے۔ فیس بک پر بھی یہ احوال شامل نہیں کررہا ہوں، جو کچھ ہے وہ پرانا موجود ہے۔ آپ جانتے ہی ہیں کہ گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے "ابن صفی-فن اور شخصیت" میں حد درجے مصروف رہا تھا، ایک وجہ یہ بھی تھی۔
    ادھر چند ماہ سے کچھ ادبی جریدوں کے مدیران کے نرغے میں بھی آیا ہوا ہوں جو متفرق موضوعات پر مضامین کے متمنی رہے ہیں۔ اجراء کے تازہ شمارے میں دو طویل مضامین شائع ہوئے ہیں، ایک جاوید صدیقی کے خاکوں کی کتاب روشندان پر ہے اور دوسرا جون ایلیا کے انشائیوں کی کتاب فرنود پر۔ یہ دونوں فیس بک پر شامل کیے ہیں۔ آپ کو ای میل کردیتا ہوں۔

    شاہ محی الحق فاروقی کی خودنوشت چند روز قبل شائع ہوئی ہے لیکن تمام نسخے ان کے صاحبزادے نے اپنی تحویل میں لے لیے تھے، چند مجھے ملے۔ عنقریب وہ اسے آئن لائن کرنے والے ہیں، پی ڈی ایف کی شکل میں۔ میں آپ کو لنک بھیجوں گا جہاں سے اسے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ صفحات 464 ہیں۔ یہ خودنوشت میں ممبئی سے شائع کروارہا ہوں تمام معاملات و مراحل کے طے کیے جانے کا مکمل اختیار مجھے فاروقی صاحب کے صاحبزادے نے دے دیا ہے، کوشش تھی کہ ڈاؤن لوڈنگ کے لنک کی تشہیر اس وقت تک نہ کروں جب تک ممبئی سے یہ شائع نہ ہوجائے۔

    آپ کی محبت کا بہت شکریہ۔ مجھے یہاں اپنی مصروفیت کی تفصیل درج کرتے ہوئے بہت اچھا لگتا ہے لیکن یہ احساس بھی دامن گیر ہوتا ہے کہ اس سے لوگوں کو بھلا کیا دلچسپی ہوسکتی ہے، بہرحال کوشش ہوتی ہے کہ پی ڈی ایف کی شکل میں کچھ ایسا پیش بھی کرتا رہوں جس میں احباب دلچسپی لیں مثلا اے حمید صاحب کا ناول ڈربے جسے حال ہی میں احباب کی نذر کیا تھا۔ ان دنوں امرتسر کی یادیں (1991) ایک مرتبہ پھر زیر مطالعہ ہے، کل "امرتسر کا ایک درویش" پڑھ کر رات آنکھیں بھیگتی رہیں۔۔۔حافظ شفیع کا بیان تھا جو بعد ازاں گلستان ادب کی سنہری یادیں (2008 میں بھی شامل ہوا تھا۔ فیس بک پر شامل کیا، ایک صاحب آبدیدہ ہوئے، کہنے لگے اب وہ سانچے ہی توڑ دیے گئے ہیں۔ حافظ شفیع کہ ایک درویش صفت انسان تھے اور اے حمید کے دوست تھے، کچھ طبابت کا کام بھی جانتے تھے، مسجد کی صفائی کرتے تھے، رہائش کے لیے ایک کوٹھری تھی، روز کا کھانا دال روٹی اور اس کی لاگت تین پیسے۔ سن 46 کا زمانہ تھا، ایک ہندو سیٹھ کا اکلوتا بیٹا پیٹ کی تکلیف میں مبتلا ہوا، ڈاکٹروں نے جواب دیا، کسی نے حافظ صاحب کا بتایا، یہ لوگ وہاں پہنچے۔ حافظ صاحب نے نبض دیکھی، مسکرائے اور جیب سے چھ پڑیاں نکال کر دیں، کہا دو دو کرکے پانی کے ساتھ دیتے جائیں۔ اگلے روز تک وہ بچہ ٹھیک ہوگیا، تین روز بعد باپ کی دکان پر بیٹھا تھا۔ باپ پانچویں روز اسے حافظ صاحب کی کوٹھری میں لایا، وہاں اے حمید بھی موجود تھے۔ دو ہزار کے نوٹ نکال کر حافظ صاحب کے قدموں میں رکھے۔ وہ بولے مگر میری فیس تو تین پیسے ہے ۔ ادھر اصرار اور ادھر سے یہی تکرار کہ تین پیسے رکھ دیجیے۔ سیٹھ بھی ششدر تھا کہ یہ بندہ خدا آخر کیا ہے، کون ہے، کس مٹی کا بنا ہے۔ اے حمید ساری زندگی وہ منظر نہیں بھولے۔سن 46 کے دو ہزار روپے۔۔۔۔۔ آخر سیٹھ مجبور ہوا اور تین پیسے پیش کیے، وہ اسے دروازے تک چھوڑنے گئے اور واپسی پر خوشی سے چہرہ سرخ کیے اے حمید سے کہتے رہے: ’ بٹ صیب! سبحان اللہ ۔ ۔ اللہ میاں نے آج کی روٹی کا بندوبست کردیا‘ ۔۔۔۔ آج کی روٹی کا مطلب تین پیسے کی دال اور روٹی۔

    پھر یہی حافظ صیب جو ہر بات پر زیر لب سبحان اللہ کہتے کے عادی تھے، تقسیم کے وقت لاہور جانے والی ٹرین کے باہر کھڑے تھے، کوئی انہیں اندر ہی نہیں آنے دے رہا تھا۔ اے حًمید نے آواز لگائی، انہوں نے کمزور سی کوشش کی لیکن کسی نے ان کا ہاتھ جھٹک دیا، قیامت کا سماں تھا۔
    اے حمید کو آخری منظر یاد رہا۔ حافظ شفیع ایک کونے میں چپ چاپ کھڑے رہ گئے۔ ٹرین چل دی۔ مضمون یہاں ختم ہوا۔ اور میں سوچتا رہا کہ اکثر "امبرسری" لاہور آگئے تھے اور اے حمید سے کئیوں کی ملاقات بھی ہوئی لیکن حافظ شفیع ? وہ یقینا شہید کردیے گئے ہوں گے، مگر کیسے ? کس نے جنازہ پڑھایا ہوگا، کہاں تدفین ہوئی ہوگی اور کن کے ہاتھوں۔
    ان لوگوں کی قربانیوں کی وجہ سے یہ ملک وجود میں آیا۔ ایک ہم ہیں کہ ہر نعمت، ہر آسائش کے ملنے پر یہ سمجھتے ہیں کہ گویا یہ ہمارا حق تھا اور جو ملا وہ کم ہے۔

    سچ کہوں تو اس وقت بھی یہ ٹائپ کرتے وقت کمپیوٹر اسکرین بار بار دھندلا رہی ہے۔ تو ایسا اثر ہوتا ہے کتابوں کا مجھ پر۔
    آپ بور ہوگئے ہوں گے۔
     
    • زبردست زبردست × 4
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر