ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں

محمداحمد

لائبریرین
ہم نے سوچا کہ اس تحریر کو ایک الگ دھاگے میں شامل کر دیا جائے۔ تاکہ دیگر احباب بھی اپنے تجربے سے اسی قسم کے واقعات و تاثرات شامل کر سکیں۔

یہ واقعات آپ کے اپنے الفاظ میں اور آپ کے اپنے تجربات سے ہونا چاہیے۔

آج صبح میں ایک صاحب کو دیکھ رہا تھا کہ وہ دو سڑکوں کے بیچ فُٹ پاتھ پر کھڑے ہیں اور انتظار کر ر ہے کہ ٹریفک کا زور کچھ کم ہو تو سڑک کراس کریں۔ کچھ دیر اُن کو انتظار کرنا پڑا پھر جیسے تیسے جان پر کھیل کر اُنہوں نے سڑک پار کی۔

اس طرف پہنچے تو ایک خاتون کو کھڑے پایا ۔ خاتون نے غالبا ً اُن سے درخواست کی (دور ہونے کی وجہ سے میں اُن کی گفتگو نہیں سُن سکا) کہ اُنہیں سڑک کے اُس پار جانا ہے سو وہ ( صاحب ) اُنہیں (اُن خاتون کو) سڑک پار کرو ا دیں۔ وہ صاحب کچھ سٹپٹائے۔ ایک آدھ جملوں کا مزید تبادلہ ہوا ۔ اور پھر میں نے دیکھا کہ وہ صاحب اُن خاتون کے ساتھ پھر سڑک کے اُس پار جانے کی کوشش کر رہے تھے جہاں سے وہ بامشکل یہاں پہنچے تھے۔ صبح کا وقت تھا ، اُن صاحب کو جلدی بھی ہوگی۔ لیکن پھر بھی اُنہوں نے انکار نہیں کیا ۔

بہت جی خوش ہوا حالیؔ سے مل کر
ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں​
 
میں تو اس فرد کہ بھی اس کیٹگری میں شامل کرتا ہوں، جس کے ساتھ میرا حادثہ ہوا تھا، اور اسی کی غلطی تھی۔ مگر اس کے باوجود وہ خود مجھے ہسپتال لے کر گیا اور مجھے مکمل ہوش آ جانے تک ہسپتال میں موجود رہا۔ ورنہ ایسے موقع پر کوئی دوسرا بھی ہاتھ نہیں لگاتا کہ یہ پولیس کیس ہے۔
پولیس اس دوران ابو کے پیچھے پڑی رہی کہ کسی طرح اس نوجوان پر کیس کیا جائے۔مگر ابو نے انکار کر دیا کہ اس نے جان کر تھوڑی کیا ہے۔ اس کا تو احسان ہے کہ اس حالت میں بیٹے کو فوراً ہسپتال پہنچایا۔ اور بلاشبہ یہی حقیقت تھی۔
 

محمداحمد

لائبریرین
میں تو اس فرد کہ بھی اس کیٹگری میں شامل کرتا ہوں، جس کے ساتھ میرا حادثہ ہوا تھا، اور اسی کی غلطی تھی۔ مگر اس کے باوجود وہ خود مجھے ہسپتال لے کر گیا اور مجھے مکمل ہوش آ جانے تک ہسپتال میں موجود رہا۔ ورنہ ایسے موقع پر کوئی دوسرا بھی ہاتھ نہیں لگاتا کہ یہ پولیس کیس ہے۔
پولیس اس دوران ابو کے پیچھے پڑی رہی کہ کسی طرح اس نوجوان پر کیس کیا جائے۔مگر ابو نے انکار کر دیا کہ اس نے جان کر تھوڑی کیا ہے۔ اس کا تو احسان ہے کہ اس حالت میں بیٹے کو فوراً ہسپتال پہنچایا۔ اور بلاشبہ یہی حقیقت تھی۔

بالکل درست موقف ہے آپ کا اور آپ کے والدِ محترم کا۔
 

زوجہ اظہر

محفلین
یہ واقعات آپ کے اپنے الفاظ میں اور آپ کے اپنے تجربات سے ہونا چاہیے

مدد کے حوالے سے ایک دلچسپ فینومینا ہے جسکو ڈیفیوژن آف رسپانسیبلٹی یا بائی اسٹینڈر ایفکٹ کہتے ہیں
ایک صورتحال میں بندہ مدد کےلئے پکارتا ہے مگر دیکھنے والے دیکھتے رہتے ہیں
وجہ کہ ہر شخص محسوس کرتا ہے کہ میں کیوں .. دوسرے موجود اشخاص میں سے بھی کوئی مدد کرسکتا ہے
اس ضمن میں کچھ کلاسیکی تجربات ہیں اور ماضی میں ہوئے کچھ تلخ واقعات کی تحقیق پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے
 
آخری تدوین:
مدد کے حوالے سے ایک دلچسپ فینومینا ہے جسکو ڈیفیوژن آف رسپانسینلٹی یا بائی اسٹینڈر ایفکٹ کہتے ہیں
ایک صورتحال میں بندہ مدد کےلئے پکارتا ہے مگر دیکھنے والے دیکھتے رہتے ہیں
وجہ کہ ہر شخص محسوس کرتا ہے کہ میں کیوں .. دوسرے موجود اشخاص میں سے بھی کوئی مدد کرسکتا ہے
اس ضمن میں کچھ کلاسیکی تجربات ہیں اور ماضی میں ہوئے کچھ تلخ واقعات کی تحقیق پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے
اس لڑی کا مقصد اچھے لوگوں کا اور مثبت تجربات و مشاہدات کا ذکر ہے۔ :)
 

محمداحمد

لائبریرین
مدد کے حوالے سے ایک دلچسپ فینومینا ہے جسکو ڈیفیوژن آف رسپانسینلٹی یا بائی اسٹینڈر ایفکٹ کہتے ہیں
ایک صورتحال میں بندہ مدد کےلئے پکارتا ہے مگر دیکھنے والے دیکھتے رہتے ہیں
وجہ کہ ہر شخص محسوس کرتا ہے کہ میں کیوں .. دوسرے موجود اشخاص میں سے بھی کوئی مدد کرسکتا ہے
اس ضمن میں کچھ کلاسیکی تجربات ہیں اور ماضی میں ہوئے کچھ تلخ واقعات کی تحقیق پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے

دلچسپ بات ہے۔

سنا ہے کہ کسی زمانے میں بادشاہ نے حکم دیا کہ لوگ رات کے اندھیرے میں دودھ کی ایک ایک بالٹی بادشاہ کے بنائے ہوئے تالاب میں ڈالیں ۔ سب نے یہی سوچا کہ اگر میں ایک بالٹی پانی ڈال دوں تو دودھ کے اتنے بڑے تالاب میں کیا پتہ چلے گا۔ صبح تالاب پانی سے بھرا ہوا تھا۔ :)

اس ضمن میں کچھ کلاسیکی تجربات ہیں اور ماضی میں ہوئے کچھ تلخ واقعات کی تحقیق پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے

اگر عام فہم انداز میں سمجھا سکیں تو آپ ایک نئی لڑی شروع کر سکتی ہیں اس سلسلے میں۔
 

فاخر رضا

محفلین
ہمارے معاشرے میں طبیب کو ایک الگ نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور امید کی جاتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو اور اپنے خاندان کو قربان کرکے بھی مریض کی دیکھ بھال کرے گا. ایک ڈاکٹر جو آپریشن سے پہلے پیسوں کا مطالبہ کرتا ہے بہت جلد خبروں میں آجانا ہے جبکہ وہ ہزاروں ڈاکٹر جو کسی کی جان بچانے کے لئے اپنی جان خطرے میں ڈالتے ہیں کسی کھاتے میں نہیں آتے. اس کے برعکس چاہے آپ کا کوئی عزیز ترین شخص آپ کی مدد کے انتظار میں ہو کوئی ایئر لائن اپ کو مفت ٹکٹ نہیں دے گی. چاہے آپ کتنے ہی وعدے کرلیں کہ بعد میں پیسے لوٹا دیں گے
ڈاکٹروں سے یہ توقع ناصرف ایک طرف اس شعبے کے تقدس کو ظاہر کرتی ہے بلکہ ڈاکٹروں کی مزید ذمے دار بھی بناتی ہے
کتنی ہی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ خاندان کی بہت ضروری تقریب میں نہیں جا پاتے. جنازوں میں شرکت تو تقریباً ختم ہی ہوگئی ہے. جب تک والد صاحب زندہ تھے تب تک ہم نے کام باٹے ہوئے تھے. اسپتال تک میری ذمہ داری اور اسکے بعد بابو کی. مگر اب لوگ اتنے سمجھدار ہیں کہ وہ شکایت نہیں کرتے. بلکہ شکریہ ادا کرتے ہیں کہ آپ نے زندگی میں بہت خیال رکھا
 

جاسمن

مدیر
ہمارے معاشرے میں طبیب کو ایک الگ نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور امید کی جاتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو اور اپنے خاندان کو قربان کرکے بھی مریض کی دیکھ بھال کرے گا. ایک ڈاکٹر جو آپریشن سے پہلے پیسوں کا مطالبہ کرتا ہے بہت جلد خبروں میں آجانا ہے جبکہ وہ ہزاروں ڈاکٹر جو کسی کی جان بچانے کے لئے اپنی جان خطرے میں ڈالتے ہیں کسی کھاتے میں نہیں آتے. اس کے برعکس چاہے آپ کا کوئی عزیز ترین شخص آپ کی مدد کے انتظار میں ہو کوئی ایئر لائن اپ کو مفت ٹکٹ نہیں دے گی. چاہے آپ کتنے ہی وعدے کرلیں کہ بعد میں پیسے لوٹا دیں گے
ڈاکٹروں سے یہ توقع ناصرف ایک طرف اس شعبے کے تقدس کو ظاہر کرتی ہے بلکہ ڈاکٹروں کی مزید ذمے دار بھی بناتی ہے
کتنی ہی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ خاندان کی بہت ضروری تقریب میں نہیں جا پاتے. جنازوں میں شرکت تو تقریباً ختم ہی ہوگئی ہے. جب تک والد صاحب زندہ تھے تب تک ہم نے کام باٹے ہوئے تھے. اسپتال تک میری ذمہ داری اور اسکے بعد بابو کی. مگر اب لوگ اتنے سمجھدار ہیں کہ وہ شکایت نہیں کرتے. بلکہ شکریہ ادا کرتے ہیں کہ آپ نے زندگی میں بہت خیال رکھا
اللہ آسانیاں عطا فرمائے، وقت اور وسائل میں برکتیں دے۔ آمین!
 

فاخر رضا

محفلین
مدد کے حوالے سے ایک دلچسپ فینومینا ہے جسکو ڈیفیوژن آف رسپانسیبلٹی یا بائی اسٹینڈر ایفکٹ کہتے ہیں
ایک صورتحال میں بندہ مدد کےلئے پکارتا ہے مگر دیکھنے والے دیکھتے رہتے ہیں
وجہ کہ ہر شخص محسوس کرتا ہے کہ میں کیوں .. دوسرے موجود اشخاص میں سے بھی کوئی مدد کرسکتا ہے
اس ضمن میں کچھ کلاسیکی تجربات ہیں اور ماضی میں ہوئے کچھ تلخ واقعات کی تحقیق پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے
سلام
برائے مہربانی اس پر مزید لکھئے چاہے نئی لڑی شروع کرنی پڑے
 

زوجہ اظہر

محفلین
قصہ کچھ یوں ہے
شاپنگ کے لئے بازار جانا ہوا
دکان میں مول تول کرتے ہوئے سر میں دھماکے (آدھے سر کا درد) شروع ہوگئے
بیٹی نے کہا چلیں گھر چلیں مگر جوڑا پسند آگیا تھا لہذا پیمنٹ کردی اس اثنا میں دکاندار نے شیشی نکال کردی..
کہا یہ بام لگالیں شکریے کے ساتھ تھوڑی لیکر ماتھے اور کنپٹیوں پر لگائی ...
اور ناقابل یقین طور پر فوری آرام آیا
شیشی دیکھی کونسی بام ہے تو وہ
Karachi Adventist Hospital
(Seventh-Day)
کی بام تھی
دکاندار کو بڑی دعائیں دیں -

دوسری دلچسپ بات یہ ہوئی آج جب ہاسپٹل پہنچی تو چوکیدار سے گاڑی اندر لے جانے کا پوچھا اور اسکو کہا کہ بس فارمیسی سے کام ہے ..
کہنے لگا اچھا آپ بام لینے آئی ہیں
یا حیرت ..
کہا ... آپکو کیسے پتا
اسنے کہا میں چھبیس سال سے یہاں ہوں اور لوگ دور دور سے بام کے لئے آتے ہیں-
 
کل ایک ہسپتال میں ایک مشین کی خرابی تلاش کررہے تھے۔ ابھی ابھی کھانا کھاکر آئے تھے۔ ساتھی نے کہا خلیل صاحب آپ مطالعہ جاری رکھیے میں دونوں کے لیے چائے پارسل کرواکر لے آتا ہوں۔

ہم نے کہا،"دونوں چلتے ہیں۔ ذرا کی ذرا میں کینٹین سے چائے پی کر آجائیں گے۔" یوں دونوں نیچے کینٹین میں پہنچ گئے۔ ساتھی نے چائے کا آرڈر دیا۔ گرم گرم چائے کے ڈسپوزیبل کپ تھامے دونوں نثر سے ہٹے تو دیکھا کہ تمام کرسیاں پُر ہیں۔ ہٹ کر ایک طرف کو کھڑے ہوگئے اور چائے کی چسکیاں لینے لگے۔

برابر ایک میز کے گرد چار کرسیوں پر چار خواتین بیٹھی تھیں۔ اچانک ان میں سے ایک برقع پوش لڑکی اٹھی، اپنی کرسی سنبھالی اور ہماری طرف بڑھی۔ اس نے اطمینان کے ساتھ کرسی ہمارے سامنے رکھ دی۔

"انکل! بیٹھیے۔،"

ہم نے شکریہ ادا کیا اور کرسی پر براجمان ہوگئے۔

ہم کرسی پر بیٹھ کر چائے پینے کے ساتھ ساتھ اپنے ساتھی کے ساتھ " ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں" کے موضوع پر گفتگو کرنے لگے۔
 
اپنی نصف بہتر اور بچوں کے ہمراہ طارق روڈ جاتے ہیں تو واپسی پر ایک ٹھیلے والے سے بن کباب ضرور کھاتے ہیں۔ ہمیں "انڈے والا برگر" پسند ہے اور باقیوں کو کباب والا۔ اس مرتبہ بھی گئے۔ بیوی بچے مختف بوتیکس کی جانب گئے تو ہم لبرٹی بکس میں گھس گئے۔ خریداری وغیرہ سے فارغ ہوکر ہم سب واپس نکلے اور بن کباب کے ٹھیلے پر جاکر کرسیوں اور اسٹولوں پر بیٹھ گئے۔ جب سارے برگر بن چکے تو ہم نے دل ہی دل میں حساب کیا ۔ تقریباً پانچ سو چالیس روپے بنتے تھے۔ پوچھا تو برگر والے نے کچھ حساب کیا اور چھ سو روپے بتلائے۔ ہم نے حیران ہوتے ہوئے پیسے اداکردئیے اور واپس گاڑی کی جانب چل پڑے۔ سڑک پار کرنے ہی والے تھے کہ پیچھے سے کسی کے دوڑنے کی آواز سن کر رک گئے۔

پیچھے مڑکر دیکھا۔ برگر والے نے پھولتی سانسوں کے ساتھ رک کر کچھ روپے واپس کیے اور بولا۔

"حساب میں غلطی ہوئی تھی صاحب۔"

اور واپس چلا گیا۔ ہم بھی یہ سوچتے ہوئے سڑک پار کرنے لگے کہ "ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں۔"
 

شمشاد

لائبریرین
میں نے آج دکان سے (دکان کیا ہے اچھا خاصا بڑا سٹور ہے اور 24 گھنٹے کھلا رہتا ہے۔) تو میں بتا رہا تھا کہ میں نے دس عدد evaporated milk کے ٹن خریدے۔ کاؤنٹر سے اٹھاتے ہوئے ایک ٹن وہیں گر گیا، لیکن مجھے اس کا علم نہ ہوا۔ جب میں باہر آ کر گاڑی میں بیٹھ رہا تھا، تو دکاندار کا نمائندہ بھاگتا ہوا آیا اور وہ ٹن مجھے واپس کر گیا۔

"ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں۔"
 

زوجہ اظہر

محفلین
ایک دفعہ راستے میں سبزی والے نظر آئے گاڑی کھڑی کرکے ٹھیلے والے کے پاس جاکر سبزی کی قیمت پوچھنے لگی دفعتا نظر گاڑی کی طرف گئی تو گاڑی غائب..

یہ کیا .. سب چھوڑ چھاڑ بھاگی

دیکھا ایک آدمی جس نے بچی( جسکی عمر یہی کوئی ایک ڈیڑھ سال ہوگی)
کو اپنے ساتھ ڈرائیونگ سیٹ کے برابر میں بٹھایا ہوا ہے ریورس کرنے کے بعد آگے بڑھنے کو تیار ہے بھاگم بھاگ پہنچی اور بچی کی طرف والی کھڑکی پر جھک کر کہا
"کہاں لے جا رہا ہے میری گاڑی"
یہ سننا تھا کہ اس نے زن کرکے اسپیڈ سے گاڑی نکالی اسی وقت برابر میں بائیک والے نے بھی یہی کیا ...
(واضح ہو کہ یہ بالکل مین روڈ کہ جہاں ہر وقت ٹریفک رواں دواں رہتا ہے )
اسطرح کرنے سے میرے ہاتھ جو کھڑی پر تھا جھٹکا لگا ساتھ ہی چیخی کہ کہاں جاتا ہے

مگر اس کو کہاں رکنا تھا پیچھے چونکہ ٹریفک آرہا تھا تو دو تین رکشے والے بھی تھے ایک نے پوچھا
"باجی کیا ہوا"
"گاڑی لیکر بھاگ رہا ہے وہ میری گاڑی لیکر بھاگ رہا ہے"
"اچھا باجی ... بیٹھو بیٹھو"

اور جناب تعاقب شروع ....

مزید اللہ کی مدد یوں ہوئی کہ آگے جمعہ بازار لگا ہوا تھا اور ٹریفک تھوڑا جام ... چور کو اندازہ ہوگیا کہ اب میں نہیں نکل سکتا تو دفعتا بیچ سڑک گاڑی روک کر بچی کو اٹھا کر بھاگ نکلااور بازار کی بھیڑ میں گم...
پیچھے سے میں بھی پہنچ گئی
لوگوں کو اندازہ نہیں ہوا کہ کیا ماجرا ہے اسکے پیچھے چلنے والے ٹھٹھکے ضرور ...
میں رکشے سے اتر کر تیزی سے گاڑی کی طرف گئی وہ اسٹارٹ حالت میں تھی اور اس میں چابی لگی ہوئی تھی ..
بھیڑ جمع تھی ان کو بتایا اور گاڑی لیکر نکل آئی

آج بھی اس رکشے والے کے لئے دعائیں ہیں اس کی وجہ سے بروقت تعاقب کرکے گاڑی بچا پائی
ابھی کچھ لوگ باقی ہیں...
 

سیما علی

لائبریرین
ایک دفعہ راستے میں سبزی والے نظر آئے گاڑی کھڑی کرکے ٹھیلے والے کے پاس جاکر سبزی کی قیمت پوچھنے لگی دفعتا نظر گاڑی کی طرف گئی تو گاڑی غائب..

یہ کیا .. سب چھوڑ چھاڑ بھاگی

دیکھا ایک آدمی جس نے بچی( جسکی عمر یہی کوئی ایک ڈیڑھ سال ہوگی)
کو اپنے ساتھ ڈرائیونگ سیٹ کے برابر میں بٹھایا ہوا ہے ریورس کرنے کے بعد آگے بڑھنے کو تیار ہے بھاگم بھاگ پہنچی اور بچی کی طرف والی کھڑکی پر جھک کر کہا
"کہاں لے جا رہا ہے میری گاڑی"
یہ سننا تھا کہ اس نے زن کرکے اسپیڈ سے گاڑی نکالی اسی وقت برابر میں بائیک والے نے بھی یہی کیا ...
(واضح ہو کہ یہ بالکل مین روڈ کہ جہاں ہر وقت ٹریفک رواں دواں رہتا ہے )
اسطرح کرنے سے میرے ہاتھ جو کھڑی پر تھا جھٹکا لگا ساتھ ہی چیخی کہ کہاں جاتا ہے

مگر اس کو کہاں رکنا تھا پیچھے چونکہ ٹریفک آرہا تھا تو دو تین رکشے والے بھی تھے ایک نے پوچھا
"باجی کیا ہوا"
"گاڑی لیکر بھاگ رہا ہے وہ میری گاڑی لیکر بھاگ رہا ہے"
"اچھا باجی ... بیٹھو بیٹھو"

اور جناب تعاقب شروع ....

مزید اللہ کی مدد یوں ہوئی کہ آگے جمعہ بازار لگا ہوا تھا اور ٹریفک تھوڑا جام ... چور کو اندازہ ہوگیا کہ اب میں نہیں نکل سکتا تو دفعتا بیچ سڑک گاڑی روک کر بچی کو اٹھا کر بھاگ نکلااور بازار کی بھیڑ میں گم...
پیچھے سے میں بھی پہنچ گئی
لوگوں کو اندازہ نہیں ہوا کہ کیا ماجرا ہے اسکے پیچھے چلنے والے ٹھٹھکے ضرور ...
میں رکشے سے اتر کر تیزی سے گاڑی کی طرف گئی وہ اسٹارٹ حالت میں تھی اور اس میں چابی لگی ہوئی تھی ..
بھیڑ جمع تھی ان کو بتایا اور گاڑی لیکر نکل آئی

آج بھی اس رکشے والے کے لئے دعائیں ہیں اس کی وجہ سے بروقت تعاقب کرکے گاڑی بچا پائی
ابھی کچھ لوگ باقی ہیں...
اللّہ اپنی حفظ و امان میں رکھے ۔۔۔۔///
 

محمداحمد

لائبریرین
ایک دفعہ راستے میں سبزی والے نظر آئے گاڑی کھڑی کرکے ٹھیلے والے کے پاس جاکر سبزی کی قیمت پوچھنے لگی دفعتا نظر گاڑی کی طرف گئی تو گاڑی غائب..

یہ کیا .. سب چھوڑ چھاڑ بھاگی

دیکھا ایک آدمی جس نے بچی( جسکی عمر یہی کوئی ایک ڈیڑھ سال ہوگی)
کو اپنے ساتھ ڈرائیونگ سیٹ کے برابر میں بٹھایا ہوا ہے ریورس کرنے کے بعد آگے بڑھنے کو تیار ہے بھاگم بھاگ پہنچی اور بچی کی طرف والی کھڑکی پر جھک کر کہا
"کہاں لے جا رہا ہے میری گاڑی"
یہ سننا تھا کہ اس نے زن کرکے اسپیڈ سے گاڑی نکالی اسی وقت برابر میں بائیک والے نے بھی یہی کیا ...
(واضح ہو کہ یہ بالکل مین روڈ کہ جہاں ہر وقت ٹریفک رواں دواں رہتا ہے )
اسطرح کرنے سے میرے ہاتھ جو کھڑی پر تھا جھٹکا لگا ساتھ ہی چیخی کہ کہاں جاتا ہے

مگر اس کو کہاں رکنا تھا پیچھے چونکہ ٹریفک آرہا تھا تو دو تین رکشے والے بھی تھے ایک نے پوچھا
"باجی کیا ہوا"
"گاڑی لیکر بھاگ رہا ہے وہ میری گاڑی لیکر بھاگ رہا ہے"
"اچھا باجی ... بیٹھو بیٹھو"

اور جناب تعاقب شروع ....

مزید اللہ کی مدد یوں ہوئی کہ آگے جمعہ بازار لگا ہوا تھا اور ٹریفک تھوڑا جام ... چور کو اندازہ ہوگیا کہ اب میں نہیں نکل سکتا تو دفعتا بیچ سڑک گاڑی روک کر بچی کو اٹھا کر بھاگ نکلااور بازار کی بھیڑ میں گم...
پیچھے سے میں بھی پہنچ گئی
لوگوں کو اندازہ نہیں ہوا کہ کیا ماجرا ہے اسکے پیچھے چلنے والے ٹھٹھکے ضرور ...
میں رکشے سے اتر کر تیزی سے گاڑی کی طرف گئی وہ اسٹارٹ حالت میں تھی اور اس میں چابی لگی ہوئی تھی ..
بھیڑ جمع تھی ان کو بتایا اور گاڑی لیکر نکل آئی

آج بھی اس رکشے والے کے لئے دعائیں ہیں اس کی وجہ سے بروقت تعاقب کرکے گاڑی بچا پائی
ابھی کچھ لوگ باقی ہیں...

اس کے ساتھ بچی کیوں تھی، یہ بھی ایک معمہ ہے۔
 

سید عمران

محفلین
کئی بار ایسا ہوا کہ ہم نے دوکاندار کو پانچ سو کا نوٹ دیا۔۔۔
رش کے باعث اس سے حساب میں غلطی ہوتی، وہ سمجھتا ہزار کا نوٹ دیا ہے۔۔۔
سامان اور پانچ سو کے نوٹ ساتھ مزید ریزگاری واپس کرتا۔۔۔
ہم اسے پانچ سو کا نوٹ واپس کردیتے، وہ خوش ہوجاتا، شکریہ ادا کرتا۔۔۔
ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں۔۔۔
اپنی اپنی بتانے کی بھی ہورہی ہے ناں؟؟؟
:nerd2::nerd2::nerd2:
 
Top