ابھی سے کاسے پلٹ گےء ہیں ابھی سے ساغر بہک گیا ہے

زویا شیخ

محفلین
خدا جو کرتا وہ خیر کرتا مجھے کچھ اس سے گلا نہیں ہے
وہ میرے لائق رہا نہ ہوگا تبھی تو مجھکو ملا نہیں ہے
عجیب باتیں عجب ادائیں عجیب رکھتا مزاج ہے وہ
ہے مجھسے روٹھا ہوا وہ لیکن بتا رہا ہے خفا نہیں ہے
یہ ڈولی میری مرا جنازہ لباسِ شادی کفن ہے میرا
ہے ہاتھوں میں یہ لہو کہ لالی حنا نہ سمجھو حنا نہیں ہے
یہ عشق کا ہے اصول جانی جو اس میں آےء وہ جاں سے جاےء
مجھے تو لگتا ہے اس سے بڑھکر جہاں میں کوئ سزا نہیں ہے
ابھی سے کاسے پلٹ گےء ہیں ابھی سے ساغر بہک گیا ہے
ابھی تو خالی دکھیں ہیں آنکھیں کہ رخ سے پردہ ہٹا نہیں ہے
حوادثوں نے تو ویسے زویا کو گھیر رکھا ہے ہر طرف سے
جدا جو سانسیں بدن سے کردے وہ حادثہ بس ہوا نہیں ہے
 
Top