ابو حنیفہ - جمع و ترتیب عبدالباسط قاسمی

الف عین

لائبریرین
درس کی وسعت

اول اول حمادؒ کے پرانے شاگرد درس میں شریک ہوتے تھے۔ لیکن چند روز میں وہ شہرت ہو ئی کہ کو فہ کی درسگاہیں ٹوٹ کر ان کے حلقہ میں آ ملیں ، نوبت یہاں تک پہنچی کہ خود ان کے اساتذہ مثلاً مسعربن کدامؒ ، امام اعمشؒ وغیرہ ان سے استفادہ کر تے تھے اور دوسروں کو ترغیب دلاتے تھے۔
ابن ابی لیلی ، شریک ،ابن شبرمہ آپ کی مخالفت کرنے لگے اور آپ کی عیب جوئی میں لگ گئے معاملہ اس طرح چلتا رہا مگر امام صاحبؒ کی بات مضبوط ہوتی گئی ۔ امراء کو آپ کی ضرورت پڑنے لگی اور خلفاء نے آپ کو یاد کرنا اور شرفاء نے اکرام کرنا شروع کر دیا۔ آپ کا مرتبہ بڑھتا چلا گیا شاگردوں کی زیادتی ہوتی گئی۔ یہا ں تک کہ مسجد میں سب سے بڑا حلقہ آپ کا ہوتا اور سوالوں کے جواب میں بڑی وسعت ہوتی۔ لوگوں کی توجہ آپ کی طرف ہوتی گئی۔ امام صاحبؒ لوگوں کے مصائب میں ہاتھ بٹانے لگے، لوگوں کا بو جھ اٹھانے لگے اور ایسے ایسے کام کرنے لگے جن کو کرنے سے دوسرے لوگ عاجز تھے ۔ اس سے آپ کو بڑی قوت ملی الغرض تقدیرِ خداوندی نے آپ کو سعیدوکامیاب کیا۔
اسلامی دنیاکا کوئی حصہ نہ تھا جو ان کی شاگردی کے تعلق سے آزاد رہا ہو۔ جن جن مقامات کے رہنے والے ان کی خدمت میں پہنچے ان سب کا شمار ممکن نہیں لیکن جن اضلاع وممالک کا نام خصوصیت کے ساتھ لیاگیاہے وہ یہ ہیں: مکہ، مدینہ، دمشق، بصرہ، مصر، یمن، یمامہ، بغداد، اصفہان،استرآباد، ہمدان، طبرستان، مرجان، نیشاپور، سرخس، بخارا، سمرقند، کس، صعانیاں، ترمذ، ہرات، خوازم، سبستان، مدائن، حمص وغیرہ۔ مختصر یہ کہ ان کی استادی کے حدود خلیفۂ وقت کی حدودِ حکومت سے کہیں زیادہ تھے۔
پھر تو آپؒ کے شاگردوں میں بڑے بڑے امام ہوئے ، بڑے بڑے علماء آپ کی صحبت میں حاضر ہوئے۔ یحی بن سعیدؒ ، عبداللہ بن مبارکؒ ، یحی بن زکریاؒ، وکیع بن جراحؒ، یزید بن ہارونؒ،حفص بن غیاصؒ، ابو عاصمؒ عبد الرزاق بن ہمامؒ ، داوٗد الطائیؒ جیسے محدثین اور قاضی ابو یوسفؒ ، محمد بن حسن الشیبانیؒ ، زفرؒ، حسن بن زیادؒ جیسے فقہاء پیدا ہوئے۔
امام ابو حنیفہؒ ان لوگوں کو علمِ حدیث و فقہ کی تعلیم دیتے تھے۔ ان کا بڑا خیال رکھتے تھے اور ان کے ساتھ حسنِسلوک کا معاملہ فرماتے تھے۔آپ کے نامور شاگردوں کا ذکر آئندہ باب میں’’تلامذہ و تصنیفات‘‘ کے عنوان سے آ رہا ہے۔
 

الف عین

لائبریرین
عہدۂ قضا سے انکار

خطیب بغدادی نے روایت کی ہے کہ یزید بن عمر بن ہیبر، والی عراق نے امام ابو حنیفہؒ کو حکم دیا کہ کوفہ کے قاضی بن جائیں لیکن امام صاحب نے قبول نہیں کیا تو اس نے ایک سو دس کوڑے لگوائے ۔ روزانہ دس کوڑے لگواتا جب بہت کوڑے لگ چکے اور امام صاحب اپنی بات یعنی قاضی نہ بننے پر اڑے رہے تو اس نے مجبور ہو کر چھوڑ دیا۔
ایک دوسرا واقعہ یہ ہے کہ جب قاضی ابن لیلیٰ کا انتقال ہو گیا اور خلیفہ منصو ر کو اطلاع ملی تو اس نے امام صاحب کیلئے قضا کا عہدہ تجویز کیا امام صاحب نے صاف انکار کیا اور کہا کہ ’’ میں اس کی قابلیت نہیں رکھتا ‘‘ منصور نے غصہ میں آ کر کہا’’ تم جھو ٹے ہو ‘‘ امام صاحب نے کہا کہ اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ دعویٰ ضرور سچا ہے کہ میں عہدۂ قضاء کے قابل نہیں کیونکہ جھوٹا شخص کبھی قاضی نہیں مقرر ہو سکتا۔
 

الف عین

لائبریرین
ایک سازش

خلیفہ ابوجعفر منصور نے دارالخلافہ کے لئے بغداد کا انتخاب کیا اور امام اعظمؒ کو قتل کرنے کے لئے کوفہ سے بغداد بلوایا تھا کیونکہ حضرت حسنؓ کی اولاد میں سے ابرہیم بن عبداللہ بن حسن بن حسن بن علیؓ نے خلیفہ منصور کے خلاف بصرہ میں علم بغاوت بلند کر دیا تھا امام صاحب ابرہیم کے علانیہ طرفدار تھے ادھر منصور کو خبر دی گئی کہ امام ابو حنیفہ ان کے حامی ہیں اور انہوں نے زرِکثیر دے کر ابراہیم کی مد د بھی کی ہے ۔
خلیفہ منصور کو امام صاحب سے خوف ہو ا۔ لہٰذا ان کو کوفہ سے بغداد بلا کر قتل کر نا چاہا مگر بلا سبب قتل کر نے کی ہمت نہ ہوئی اس لئے ایک سازش کرکے قضا کی پیشکش کی۔ امام صاحب نے قاضی القضاۃ کا عہدہ قبول کر نے سے انکار کر دیا اور معذرت کر دی کہ مجھ کو اپنی طبیعت پر اطمینان نہیں ، میں عربی النسل نہیں ہوں ، اس لئے اہل عرب کو میری حکومت ناگوار ہو گی ، درباریوں کی تعظیم کرنی پڑے گی اور یہ مجھ سے نہیں ہوسکتا‘‘۔
 
Top