آنند نرائن مُلّا ؔ :::::جنُوں کا دَور ہے، کِس کِس کو جائیں سمجھانے :::::ANAND- NARAYAN-MULLA

طارق شاہ نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏نومبر 8, 2018

  1. طارق شاہ

    طارق شاہ محفلین

    مراسلے:
    10,642
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    غزل
    جنُوں کا دَور ہے، کِس کِس کو جائیں سمجھانے
    اِدھر بھی ہوش کے دُشمن، اُدھر بھی دیوانے

    کَرَم کَرَم ہے تو، ہے فیضِ عام اُس کا شعار
    یہ دشت ہے وہ گُلِستاں، سحاب کیا جانے

    کسی میں دَم نہیں اہلِ سِتم سے کُچھ بھی کہے !
    سِتم زدوں کو، ہر اک آ رہا ہے سمجھانے

    بشر کے ذَوقِ پَرِستِش نے خود کیے تخلیق
    خُدا‌ و کعبہ کہیں، اور کہیں صنم خانے

    اُلجھ کے رہ گئی حُسنِ‌ نقاب میں جونظر
    وہ حُسنِ جلوۂ زیرِ نقاب کیا جانے

    اِس ارتقائے تمّدن کو کیا کہوُں مُلّاؔ
    ہیں شمعیں شوخ تر، آوارہ تر ہیں پروانے

    آنند نرائن مُلّا ؔ
     

اس صفحے کی تشہیر