آغاز بتاتا ہے کہ کچھ ہو کے رہے گا

میاں وقاص نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 29, 2015

  1. میاں وقاص

    میاں وقاص محفلین

    مراسلے:
    102
    موڈ:
    Relaxed
    آغاز بتاتا ہے کہ کچھ ہو کے رہے گا
    انجام سے پہلے ہی کوئی رو کے رہے گا

    اندر کا بشر تنگ ہے آلائش_جاں سے
    ہستی کے سبھی داغ کبھی دھو کے رہے گا

    بیدار رہے گا، تو یہ روتا ہی رہے گا
    خاموش یقیناً یہ ذرا سو کے رہے گا

    دہقاں ذرا سا بھی تو مایوس نہیں ہے
    اس بانجھ اراضی میں بھی کچھ بو کے رہے گا

    حالات کی جھولی میں ہی کیوں بیٹھ نہ جایں؟
    جب حال ہمارا یہی رو دھو کے رہے گا

    اب دل کو بھروسہ نہ رہا خود پہ بھی شاہین
    یادوں کا خزانہ بھی کہیں کھو کے رہے گا

    حافظ اقبال شاہین
     

اس صفحے کی تشہیر