آخری سازش (کالم از حامد میر)

عاطف بٹ

محفلین
10_07.gif
 

قیصرانی

لائبریرین
حامد میر کے منہ سے وہی کچھ نکلتا ہے جس کی اسے قیمت دی جاتی ہے :)
طالبان سے ایک دھمکی ملتے اس نے جس طرح منتیں ترلے کر کے طالبان کے لئے اپنی خدمات گنوائی تھیں، اس کا مطالعہ کافی اچھا رہے گا
 
چاہے کچھ بھی ہوجائے حامد میر نے سارا ملبہ پاکستانی ایجنسیوں پر ہی ڈالنا ہوتا ہے۔۔۔ایک طرف وہ کہہ رہا ہے کہ ہزارہ برادری پر حملوں کے پیچھے فرقہ وارانہ ذہنیت نہیں بلکہ لینڈ مافیا اور سرکاری اہلکار ہیں اور دوسری طرف یہ بھی کہہ رہا ہے کہ لشکرِ جھنگوی نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی ہے ۔۔۔بہت خوب ۔۔اور پھر کہتا ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسیاں ہزارہ برادری اور شیعوں کے خلاف کفر کے فتوے لگانے والوں کو کیوں نہیں روکتے۔۔۔۔بہت خوب ۔۔۔جب ان کفر کے فتوے لگانے والے مدرسوں کے خلاف کارروائی کی کوشش کی جاتی ہے تو یہ شخص کہنا شروع ہوجاتا ہے کہ جی یہ لوگ فساد نہیں کر رہے بلکہ بلیک واٹر کے بندے پاکستان میں فساد پھیلا رہے ہیں۔۔۔:rolleyes:
 

زین

لائبریرین
پنجابی اور اردو بولنے والوں کے گھروں میں دستی بم پھینکنے کے واقعات میں لینڈ اور پراپرٹی مافیا کے لوگوں کے ملوث ہونے کی باتیں تو صوبے کے سیکورٹی حکام بھی کرچکے ہیں لیکن ہزارہ قبیلے کے افراد کے قتل کا تعلق پراپرٹی اور لینڈ مافیا سے جوڑنا درست نہیں۔ پراپرٹی اور لینڈ کبھی خودکش حملے نہیں کراسکتی

پنجابی اور اردو بولنے والوں کی منتشر آبادیاں تھیں اور وہ نہ صرف کوئٹہ بلکہ صوبے کے مختلف علاقے میں رہتے تھے ، ان کی جائیداد کی اچھی قیمت تھی ، انہیں ڈرا یا دھمکایا گیا یا جس کی بناء پر لاکھوں کی تعداد میں اپنی جائیدادیں اونے پونے دام فروخت کرکے بلوچستان چھوڑ گئے یا پھر انہوں نے صوبے کے نسبتاً محفوظ علاقوں کا رخ کیا۔

ہزارہ قبیلےکی بات کی جائے تو وہ صرف کوئٹہ ، مچھ (ضلع بولان ) اور لورالائی کے مخصوص علاقوں میں رہتے ہیں اور وہاں محصور ہوکر رہ گئے ہیں۔ سب سے بڑی آبادی ان کی کوئٹہ میں ہے اور یہاں بھی یہ لوگ دو بڑے حصوں ( شہر کے مشرق کی طرف کوہ مردار کے دامن میں واقع علمدار روڈ مری آباد اور شہر کے مغرب کی طرف پہاڑی دامن میں ہزارہ ٹاؤن کرانی روڈکے علاقوں) میں رہ رہے ہیں ، ان کے علاقوں میں چند ہی گھر غیر ہزارہ یا غیر شیعہ کے ہوں گے۔ موجودہ حالات کے پیش نظر کوئی ناسمجھ ہی ہزارہ قبیلے کے علاقوں میں جائیداد خریدے گا۔
 
ش

شہزاد احمد

مہمان
وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اس معاملے پر خصوصی توجہ دے ۔۔۔ اٹھارہویں ترمیم سے مراد یہ لے لی گئی ہے کہ جیسے اب وفاقی حکومت کا صوبائی معاملات سے کوئی تعلق ہی نہیں رہ گیا ۔۔۔ کوئٹہ بہت بڑا شہر نہیں ہے ۔۔۔ اگر ہماری حکومت ایک شہر کے معاملات کو درست نہیں کر سکتی تو اسے کوئی حق نہیں کہ وہ مرکز میں بیٹھ کر حکومت کرے ۔۔۔ ویسے لگتا نہیں ہے کہ اس قتل و غارت کے بعد عام انتخابات ملتوی ہو جائیں گے ۔۔۔
 

زرقا مفتی

محفلین
کوئٹہ میں دوسرے دھماکے کے بعد دل و دماغ صدمے کے اثر سے باہر نہیں نکلے۔
میں زین صاحب سے متفق ہوں کہ اس دھماکے کے پیچھے لینڈ مافیا کا ہاتھ نہیں ہوسکتا۔
پاکستان میں امریکہ کے ساتھ ساتھ سعودی عرب اور ایران بھی اپنے مفادات کی نگرانی کرتے ہیں اور ان مفادات کے لئے مدرسوں اور مذہبی عسکریت پسند تنظیموں کی مالی سرپرستی کرتے ہیں۔ اب یہ ہماری حکومت کی ناکامی ہے کہ وہ ان تنظیموں کے مالی معاملات کی نگرانی نہیں کرتی۔
حکومت کی دوسری بڑی ناکامی غیر قانونی اسلحے کی نقل و حمل روکنے سے متعلق ہے۔ اتنی بڑی مقدار میں بارود ایک حساس علاقے میں کیسے پہنچا۔ اس ناکامی پر وزیرِ اعظم نے آئی جی بلوچستان کو معطل کر دیا ہے۔
اصولا علمدار روڈ اور ہزارہ ٹاؤن کی سیکیورٹی اسلام آباد کے ریڈ زون کی طرح فول پروف بنانے کی ضرورت تھی۔ مگر وہاں کوئی وزیر یا سفیر نہیں رہتا تو عام انسان کی حفاظت کے لئے بے حس حکومت کیوں تردد کرتی
پنجاب حکومت پر بڑے شد و مد کے ساتھ لشکرِ جھنگوی کے سرکردہ افراد کی مالی معاونت کا الزام سامنے آیا ہے ۔ ملک اسحاق کا ۴۴ مقدموں کے باوجود جیل سے رہا ہونا بھی باعثِ تشویش ہے۔ یہ الزام بھی سامنے آیا ہے کہ کالعدم تنظیموں کے سنگین جرائم میں ملوث ارکان جو متعدد مقدمات میں مطلوب ہیں اُنہیں دوسرے صوبوں میں محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں۔
میرے خیال میں پاکستان میں غیر قانونی اسلحے کی بھر مار کی بڑی وجہ نیٹو سپلائی لائن ، افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اور پاک افغان بارڈر پر موجود چور راستے ہیں۔
اگر حکومت کوئٹہ اور باقی ملک میں ایسے سانحات کو روکنے میں سنجیدہ ہے تو اُسے درج ذیل اقدامات اُٹھانے ہونگے
ہزارہ کمیونٹی کے رہائشہی علاقوں کی سیکیورٹی کو فول پروف بنانا
مذہبی شدت پسند تنظیموں کے مالی معاملات اور اسلحہ لائسنسوں کی کڑی نگرانی
سنگین جرائم میں ملوث کالعدم تنظیموں کے مفرور ارکان کی گرفتاری کے لئے بین الصوبائی رابطہ کمیٹی تشکیل دی جائے
افغان ٹرانزٹ ٹریڈ بند کی جائے یا اسکی کڑی نگرانی کی جائے
پاک افغان بارڈر کو سیل کیا جائے
نیٹو سپلائی لائن بند کی جائے
 

ساجد

محفلین
پاکستان میں امریکہ کے ساتھ ساتھ سعودی عرب اور ایران بھی اپنے مفادات کی نگرانی کرتے ہیں اور ان مفادات کے لئے مدرسوں اور مذہبی عسکریت پسند تنظیموں کی مالی سرپرستی کرتے ہیں۔ اب یہ ہماری حکومت کی ناکامی ہے کہ وہ ان تنظیموں کے مالی معاملات کی نگرانی نہیں کرتی۔
بالکل درست بات ہے اور مسئلے کی بنیاد بھی۔
 
Top