آخری خط نہ پڑھ سکا میں بھی : شہزاد قیس

راجہ صاحب

محفلین
آخری خط نہ پڑھ سکا میں بھی​
آس کیا دیتا رو دیا میں بھی​
​
صرف سننے کی تاب تھی شاید​
وہ بھی خاموش ، چپ رہا میں بھی​
​
ہجر کی سخت سرد راتوں میں​
وہ بھی جلتا رہا ، جلا میں بھی​
​
آج وہ ’’آپ‘‘ پر ہی ٹھہرا رہا​
فاصلہ رکھ کے ہی ملا میں بھی​
​
اوڑھ لی اُس نے چہرے پر رونق​
سامنے سب کے خوش رہا میں بھی​
​
غلطی سے آنکھیں چار ہوتے ہی​
سخت محتاط تر ہوا میں بھی​
​
وہ بھی اُلٹی کتاب پڑھنے لگا​
کل کے اخبار میں چھُپا میں بھی​
​
گڑیا ، گڈے کا کھیل تھا شاید!​
مطمئن ہو کے سو گیا میں بھی​
​
عمر بھر اُس کو عشق ہو نہ سکا​
اور اِک روز جل بجھا میں بھی​
​
ہر طرف لیلیٰ لیلیٰ ہوتے دیکھ​
بن گیا قیس بے وفا میں بھی!​
​
شہزاد قیس​
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top