آج قاصد پیام لایا ہے

الف عین
الف نظامی
عظیم
شکیل احمد خان23
مقبول
-------
آج قاصد پیام لایا ہے
ہم کو محبوب نے بلایا ہے
----------
آ کے ٹھہرو گے پاس میرے تم
گھر تمہارے لئے سجایا ہے
------
اس نے الفت کی بات کی مجھ سے
میرے جذبات کو جگایا ہے
-----
اب نکلنا مرا ہوا مشکل
جال الفت کا یوں بچھایا ہے
------
جس کو اپنا بنا لیا ہم نے
اس نے ہم کو بہت ستایا ہے
------
دل میں آتا ہے جو بھی کہتا ہوں
کیا کبھی تم سے کچھ چھپایا ہے
-------
مجھ پہ طاری ہوا نشہ جیسے
اس نے سینے سے جب لگایا ہے
---------
دل میں تیرے وہ روشنی کر دے
دیپ الفت کا جو جلایا ہے
--------
پاس میرے تری وفائیں ہیں
زندگی میں یہی کمایا ہے
----------
تجھ سے محبوب ہے خفا ارشد
دل جو اس کا بہت دکھایا ہے
------------
 

عظیم

محفلین
آج قاصد پیام لایا ہے
ہم کو محبوب نے بلایا ہے
---------- قابل قبول تو یوں بھی لگتا ہے مگر میرا خیال ہے کہ محبوب کس کا ہے یہ واضح کر دیا جائے تو بہتر رہے گا، مثلاً
//میرے محبوب ..

آ کے ٹھہرو گے پاس میرے تم
گھر تمہارے لئے سجایا ہے
------کچھ ربط کی کمی لگ رہی ہے۔ پہلے کو سوالیہ صورت دے دی جائے تو کیسا رہے گا؟
یعنی
// آ کے ٹھہرو گے پاس میرے کیا؟
یا
// آ کے ٹھہرو کبھی تو پاس مرے، وغیرہ

اس نے الفت کی بات کی مجھ سے
میرے جذبات کو جگایا ہے
----- اس میں بھی ہلکا سا دو لختی کا احساس ہے
// اس نے الفت کی بات جب بھی کی
سے کچھ ربط مضبوط ہوتا ہے دونوں مصرعوں کا آپس میں

اب نکلنا مرا ہوا مشکل
جال الفت کا یوں بچھایا ہے
------ محض نکلنا وہ معنی پیدا نہیں کر رہا جو آپ کی مراد ہے، بچ نکلنا لائیں کسی طرح اور دوسرے مصرع میں الفت کا جال بچھانے والا کون ہے اس کی بھی وضاحت کریں
ایک ترکیب یہ ذہن میں آ رہی ہے
//بچ نکلنا ہوا محال اس نے
باقی وہی دوسرا مصرع آپ والا، مزید بھی فکر کر لیں پہلے مصرع کے بارے میں تو اور اچھا کہا جا سکتا ہے

جس کو اپنا بنا لیا ہم نے
اس نے ہم کو بہت ستایا ہے
------ پچھلے تین چار اشعار میں پہلے مصرعوں میں ہی کمزوری نظر آئی ہے، اس میں بھی 'بھی' کی کمی محسوس ہوتی ہے
الفاظ کی نشست وغیرہ بدل کر دیکھی جائے تو کوئی بہتر صورت نکل سکتی ہے، جیسے
جس کو بھی اپنا مان لیں اس نے
جس کو بھی اپنا ہم بنا لیں، ہمیں
اس نے ہر طرح سے ستایا ہے

دل میں آتا ہے جو بھی کہتا ہوں
کیا کبھی تم سے کچھ چھپایا ہے
-------ٹھیک

مجھ پہ طاری ہوا نشہ جیسے
اس نے سینے سے جب لگایا ہے
--------- نشہ کا درست تلفظ ش پر جزم کے ساتھ ہے، الفاظ کی ترتیب بدل کر درست تلفظ کے ساتھ باندھا جا سکتا ہے، ورنہ اس تلفظ کے ساتھ بھی قبول کر لیا جاتا ہے

دل میں تیرے وہ روشنی کر دے
دیپ الفت کا جو جلایا ہے
--------'وہ' اور 'جو' کی جگہیں آپس میں بدل دیں

پاس میرے تری وفائیں ہیں
زندگی میں یہی کمایا ہے
---------- تھوڑی جان پیدا کریں
// بس یہی عمر بھر کمایا ہے

تجھ سے محبوب ہے خفا ارشد
دل جو اس کا بہت دکھایا ہے
------------ٹھیک
 
عظیم
(اصلاح)
--------
آ کے قاصد نے یہ بتایا ہے
میرے محبوب نے بلایا ہے
----------
کیا مرے پاس آ کے ٹھہرو گے
گھر تمہارے لئے سجایا ہے
------
اس نے الفت کی بات جب بھی کی
----------یا
کر کے الفت کی بات سدا اس نے
میرے جذبات کو جگایا ہے
-----
اب نکلنا ہوا محال ، اس نے
جال الفت کا یوں بچھایا ہے
------
جس کو اپنا سمجھ لیا ہم نے
اس نے ہم کو بہت ستایا ہے
------
دل میں آتا ہے جو بھی کہتا ہوں
کیا کبھی تم سے کچھ چھپایا ہے
-------
مجھ پہ اک کیف سا ہوا طاری
اس نے سینے سے جب لگایا ہے
---------
دل میں تیرے وہ روشنی کر دے
دیپ الفت کا جو جلایا ہے
--------
پاس میرے تری وفائیں ہیں
بس یہی عمر بھر کمایا ہے
----------
تجھ سے محبوب ہے خفا ارشد
دل جو اس کا بہت دکھایا ہے
------------
 

عظیم

محفلین
مطلع کا ایطا تو دور ہو گیا ہے مگر پہلا مصرع اپنے مقام سے تھوڑا نیچے جا پڑا ہے، 'آج قاصد' کے ساتھ ہی بہتر لگتا ہے
یا، مجھ کو قاصد... زیادہ بہتر رہے گا

دوسرے شعر کا پہلا مصرع مجھے اپنا تجویز کردہ روانی کے اعتبار سے بھی اور ربط کے لحاظ سے بھی بہتر لگتا ہے، یعنی 'آ کے ٹھہرو گے پاس میرے کیا؟'

تیسرا شعر.. 'سدا' کے ساتھ اچھا ہے، مگر وزن میں کیسے گڑبڑ کر گئے؟ 'سدا' کو مصرع کے آخر میں لے آئیں

اپنا سمجھنے والے شعر میں گرامر کی کوئی غلطی معلوم ہوتی ہے، یعنی زمانے ( ماضی، حال) میں کچھ گڑبڑ ہے، اس کو بھی میرے مجوزہ مصرع کے ساتھ رکھ لیں تو ٹھیک رہے گا۔ 'جس کو بھی اپنا ہم بنا لیں، ہمیں'

مجھ پہ اک کیف سا ہوا طاری
اس نے سینے سے جب لگایا ہے
// اس میں بھی مجھے وہی زمانوں میں گڑبڑ محسوس ہوتی ہے، نشہ ہی بہتر تھا کیف کے مقابلے میں۔۔۔ مجھ پر اک نشہ سا ہوا طاری
مگر وہی گڑبڑ برقرار رہتی ہے گرامر کی!شاید 'لگایا ہے' کی جگہ 'لگایا تھا' کا محل ہے، مگر ظاہر ہے کہ ردیف میں ہے 'ہے' اس لیے پہلے میں ہی کوئی مناسب تبدیلی کرنا ہو گی

دل میں تیرے وہ روشنی کر دے
دیپ الفت کا جو جلایا ہے
-------- 'جو جلایا' اچھا نہیں لگ رہا تھا، اس لیے 'جو' پہلے مصرع میں لانے کا مشورہ تھا اور 'وہ' دوسرا میں! شعر میں بھی خوبصورتی پیدا ہوتی ہے اس طرح میرے نزدیک!


پاس میرے تری وفائیں ہیں
بس یہی عمر بھر کمایا ہے
---------- وفائیں جمع کے ساتھ یہی کمایا ٹھیک نہیں لگ رہا، کل بھی اس طرف دھیان گیا تھا مگر کہنے سے رہ گیا تھا، کسی دوسرے انداز سے فکر کر کے دیکھ لیں، مثلاً
ہے جو پونجی تری وفاؤں کی
زندگی میں یہی کمایا ہے

یہ غزل کچھ بہتر ہے بہر حال آپ کی گزشتہ کاوشوں سے
 
عظیم
(اصلاح)
------------
آج قاصد نے یہ بتایا ہے
ہم کو محبوب نے بلایا ہے
----------
آ کے ٹھہرو گے پاس میرے کیا؟
گھر تمہارے لئے سجایا ہے
------
اس نے الفت کی بات کی مجھ سے
میرے جذبات کو جگایا ہے
-----
اب نکلنا مرا ہوا مشکل
جال الفت کا یوں بچھایا ہے
------
جس کو بھی اپنا بنا لیں ، ہمیں
اس نے ہم کو بہت ستایا ہے
------
دل میں آتا ہے جو بھی کہتا ہوں
کیا کبھی تم سے کچھ چھپایا ہے
-------
مجھ پہ اک نشہ سا ہوا طاری
اس نے سینے سے جب لگایا ہے
---------
دل میں تیرے جو روشنی کر دے
دیپ الفت وہ جو جلایا ہے
--------
پاس میرے تری وفائیں ہیں
بس یہی عمر بھر کمایا ہے
----------
تجھ سے محبوب ہے خفا ارشد
دل جو اس کا بہت دکھایا ہے
------------
 

عظیم

محفلین
اس نے الفت کی بات کی مجھ سے
میرے جذبات کو جگایا ہے
اس میں اب بھی دو لختی ہے ارشد بھائی، 'اس نے الفت کی بات جب بھی کی' کو قبول کرنے میں کیا چیز مانع ہے؟

اب نکلنا مرا ہوا مشکل
جال الفت کا یوں بچھایا ہے
اس میں بھی کوئی اصلاح نہیں کی گئی


جس کو بھی اپنا بنا لیں ، ہمیں
اس نے ہم کو بہت ستایا ہے
پہلے مصرع میں 'ہم' شاید ٹائپو ہی ہے جو لکھنے سے رہ گیا ہے، اوہ، تو آپ دوسرے میں 'ہم' لے آئے ہیں، لیکن پہلا بحر میں کیسے رہے گا؟ اگر 'اس نے ہر طرح سے ستایا ہے' پسند نہیں تو اس طرح کا کوئی اور مصرع کہہ لیں، مگر پہلے میں 'ہم' لازمی ہے


مجھ پہ اک نشہ سا ہوا طاری
اس نے سینے سے جب لگایا ہے
---------
دل میں تیرے جو روشنی کر دے
دیپ الفت وہ جو جلایا ہے
--------
پاس میرے تری وفائیں ہیں
بس یہی عمر بھر کمایا ہے
ان تینوں میں بھی کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، ہاں، 'وہ' اور 'جو' کی نشست بدل دی گئی ہے مگر دو اشعار میں تو کوئی اصلاح نظر نہیں آ رہی
 
عظیم
(اصلاح)
-----------
اس نے الفت کی بات جب بھی کی
میرے جذبات کو جگایا ہے
----------
بچ نکلنا ہوا محال اس نے
جال الفت کا یوں بچھایا ہے
---------
جس کو بھی اپنا ہم بنا لیں، ہمیں
اس نے ہر طرح سے ستایا ہے
-------------
مجھ پہ اک نشہ سا ہوا طاری
اس نے سینے سے جب لگایا ہے
---------
 

عظیم

محفلین
پہلے تین اشعار تو درست ہو گئے ہیں مگر آخری شعر میں ابھی بھی وہی گڑبڑ برقرار ہے، نشہ طاری ہو چکا ہے یعنی یہ کام انجام پا چکا ہے اور جس کی وجہ سے یہ کام ہوا ہے یعنی سینے سے لگانے کا عمل وہ بعد میں ہو رہا ہے، اس لیے ٹھیک نہیں لگتا مجھے یہ شعر!

یوں شاید درست ہو جائے

مجھ پر اک نشہ سا چڑھا ہے ابھی
اس نے سینے..

'پہ' کی جگہ 'پر' مجھے بہتر لگتا ہے یہاں
 

عظیم

محفلین
پہلے تین اشعار تو درست ہو گئے ہیں مگر آخری شعر میں ابھی بھی وہی گڑبڑ برقرار ہے، نشہ طاری ہو چکا ہے یعنی یہ کام انجام پا چکا ہے اور جس کی وجہ سے یہ کام ہوا ہے یعنی سینے سے لگانے کا عمل وہ بعد میں ہو رہا ہے، اس لیے ٹھیک نہیں لگتا مجھے یہ شعر!

یوں شاید درست ہو جائے

مجھ پر اک نشہ سا چڑھا ہے ابھی
اس نے سینے..

'پہ' کی جگہ 'پر' مجھے بہتر لگتا ہے یہاں
اصل پرابلم دوسرا مصرع پیدا کر رہا ہے، ایک سوال یہ بھی پیدا ہو رہا ہے کہ سینے سے لگنے کا عمل تو 'ہے' کی وجہ سے ابھی جاری ہے تو شعر کس کو سنایا جا رہا ہے اور کیسے کہا جا رہا ہے؟
ایک بات ابھی ذہن میں آئی کہ اگر دوسرے مصرع میں 'تم نے سینے سے جب لگایا ہے ' ہو تو پہلا مصرع 'مجھ پر اک نشہ سا ہوا طاری' بھی درست رہے گا!
یعنی
مجھ پر اک نشہ سا ..
تم نے سینے سے جب..
 
Top