آج تک میری چاہت نہیں ہوسکا برائے اصلاح

عائد

محفلین
غزل
آج تک میری چاہت نہیں ہوسکا
کوئی بھی شخص عادت نہیں ہو سکا

حِرْص کے دشت میں کھو گئی مخلصی
وہ تَعَلُّق محبّت نہیں ہو سکا

میں رہا عمر بھر خواہشوں کا اسیر
عشق میرا عبادت نہیں ہو سکا

اشک جو آنکھ میں تھا بچھڑتے سمے
آج تک مجھ سے رخصت نہیں ہو سکا

میرے باطن تُو ظاہر پہ حاوی رہا
میں کبھی خوبصورت نہیں ہو سکا

عائد​
 

عائد

محفلین
تکنیکی طور پر درست ہے غزل ۔ مطلع البتہ اوپر سے نکل گیا
آج تک میری چاہت نہیں ہوسکا
کوئی بھی شخص عادت نہیں ہو سکا

میں چاہت کے معاملے میں کبھی قناعت پسند نہیں رہا کسی ایک انسان پہ میرا دل نے اکتفا نہیں کیا میں محبت میں توحید کا قائل نہیں رہا کچھ ایسا کہنے کی کوشش کی تھی
باقی آپ بہتر رہنمائی کر دیں ۔۔۔مطلع تبدیل کر لوں یاں پھر ٹھیک ہے
 

الف عین

لائبریرین
آج تک میری چاہت نہیں ہوسکا
کوئی بھی شخص عادت نہیں ہو سکا

میں چاہت کے معاملے میں کبھی قناعت پسند نہیں رہا کسی ایک انسان پہ میرا دل نے اکتفا نہیں کیا میں محبت میں توحید کا قائل نہیں رہا کچھ ایسا کہنے کی کوشش کی تھی
باقی آپ بہتر رہنمائی کر دیں ۔۔۔مطلع تبدیل کر لوں یاں پھر ٹھیک ہے
آج تک میری چاہت نہیں ہوسکا
کوئی بھی شخص عادت نہیں ہو سکا

میں چاہت کے معاملے میں کبھی قناعت پسند نہیں رہا کسی ایک انسان پہ میرا دل نے اکتفا نہیں کیا میں محبت میں توحید کا قائل نہیں رہا کچھ ایسا کہنے کی کوشش کی تھی
باقی آپ بہتر رہنمائی کر دیں ۔۔۔مطلع تبدیل کر لوں یاں پھر ٹھیک ہے
تبدیل کر دو تو بہتر ہے۔
 
Top