آب حیات - مولانا محمد حسین آزاد (مرحوم)

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

شمشاد

لائبریرین
صفحہ ۱۶۲

ا س عہد میں استمراری جمع مؤنث میں دونوں فعل جمع لاتے تھے، مثلاً عورتیں آئیاں تھیں اور گاتیاں تھیں، اب پہلے فعل کو واحد لاتے ہیں، مثلاً عورتیں آتی تھیں اور گاتی بجاتی تھیں۔

بارہو وعدوں کی راتیں آئیاں
طالعوں نے صبح کر دکھلائیاں

جنوں میرے کی باتیں دشتِ گلشن میں جہاں چلیاں
نہ چوبِ گِل نے دم مارا نہ چھڑیاں پرند کی ہلیاں​

اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت ہلنا بالفتح بولتے تھے، چنانچہ سودا بھی ایک غزل میں کہتے ہیں جس کا قافیہ ردیف ہے چلتے دیکھا، نکلتے دیکھا :

تیغ تیرے کا سدا شُکر ادا کرتے ہیں
لبوں کو زخم کے دن رات میں بنتے دیکھا​

اسی طرح اکثر اشعار مرزا رفیع کے ہیں باجود محاورہ قدیمانہ، آج کل کے ہزار محاورے اِن پر قربان ہیں، چنانچہ فرماتے ہیں :

آ خدا کے واسطے اس بانکپن سے درگزر
کل میں سودا یوں کہا دامان کھگریار کا

بیوفائی کیا کہوں دل ساتھ تجھکو محبوب کی
تیری نسبت تو میاں بلبل سے گل نے خوب کی

جسکے دلکو تری زلفوں سے یہاں لاگ لگے
اس کی آنکھوں میں جو رسی بھی ہو تو ناگ لگے

تجھ عشق میں پیارے وہ زیرِ چوب گل ہیں
نے پھول کی کسی نے جن کو چھڑی لگائی

خبر شتاب لے سودا کے حال کی پیارے
نہیں ہے وقت مری جان یہ تامل کا

نجانے حال کس ساقی کو یاد آتا ہے شیشہ کا
کہ لے لے ہچکیاں جیوڑا نکل جاتا ہے شیشہ کا

نہ جانے یاد کر روتا ہے کس کے دلکے صدمہ کو
کہیں ٹکڑا جو سودا کو نظرا آتا ہے شیشہ کا

بیہودہ اس قدر نہیں آتا ہے کم نا
مکھ پر خط آ چکا نہ کرو صبح و شام ناز

عالم کو مار رکھا ہے تیں باقدووتا
زاہد یہ کاٹ ہے تری تیغِ دونیم کا​
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ ۱۶۳

سوداؔ کہے تھا یار سے ایک مو نہیں غرض
اودھر کھلی جو زلف ادھر دل بکھر چلا

سوداؔ نکل نہ گھر سے کہ اب تجھ کو ڈھونڈتے
لڑکے پھریں ہیں پتھروں سے دامن بھرے ہوئے

تسلی اس دوا نے کی نہ ہو جھولی کے پتھروں سے
اگر سوداؔ کو چھیڑا ہے تو لڑکو مول لو پھڑیاں

نگر آباد ہیں بَسے، ہیں گانوں
تجھ بِن اُجڑے پڑے ہیں اپنے بھالؤں

قیس و فرہاد کا نہیں کچھ ذکر
ابے تو سودا کا باجتا ہے نالؤں

جاتے ہیں لوگ قافلے کے پیش و پس چلے
ہے یہ عجب سَرا کہ جہاں آئے بَس چلے​

اس غزل میں قفس چلے اور بس چلے قافیہ ہے، اسی میں کہتے ہیں۔

صیاد اب تو کر دے قفس سے ہمیں رِہا
ظالم پھڑک پھڑک کے پر و بال گھس چلے
(پنجاب میں اب تک گھسنا بالفتح بولتے ہیں)

صبا سے ہر گھڑی مجھ کو لہو کی باس آتی ہے
چمن میں آہ گلچیں نے یہ کس بلبل کا دل توڑا

موجب مری رنجش کا جو پوچھے ہے تو اے جان
موندوں گا نہ میں کھول کے جوں غنچہ دہاں کو

داغ تجھ عشق کا جھمکے ہے مرے دل کے بیچ
مہر ذرہ میں دُرخشاں نہ ہوا تھا سو ہوا

وے صورتیں الٰہی کس ملک بستیاں ہیں
اب جن کے دیکھنے کو آنکھیں ترستیاں ہیں

بل بے ساقی تیری بے پروائیاں
جانیں مشتاقوں کی لب تک آئیاں​

اِسی طرح ہندی صفت میں اب جمع نہیں لاتے :

ملائم ہو گئیں دل پریت کی ساعتیں کڑیاں
یہ انکھیاں کیوں مرے جی کے گلے کی ہار ہو پڑیاں

چیز کیا ہوں جو کریں قتل وہ انکھیاں مجھکو
پھر گئے دیکھ کے منھ خنجرِ براں مجھ کو

خیال اِن انکھڑیوں کا چھوڑ مت مرنے کے بعد بھی ۔۔۔
ولا آیا جو تو اس میکدہ میں جام لیتا تھا​
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ ۱۶۴

ناتوانی بھی عجب شے ہے کہ گلشن میں نسیم
نت لئے پھرتی ہے دوش اوپر برنگ بُو مجھے​

فارسی کی جمع کو اس وقت سب فصحا عموماً بولتے تھے، اب بغیر حالت صفت یا اضافت کے نہیں بولتے، سودا کہتے ہیں :

سودا غزل چمن میں تو ایسی ہی کہہ کے لا
گل پھاڑیں سن کے جیب کو دیں بلبلاں صدا

ہاتھ سے جاتا رہا دِل
دیکھ محبوباں کی چال

اور ایک جگہ کہتے ہیں :

یا الہی میں کہوں کسی سیتی اپنا احوال
زلف کوباں کی ہوئی ہے مرے جی کو جنجال​

خوباں اور محبوباں مرزا کی زبان پر بہت چڑھے ہوئے ہیں۔

اور خواجہ میر درد علیہ الرحمتہ فرماتے ہیں :

پرورش غم کی ترے یاں تئیں تو کی دیکھا
کوئی بھی داغ تھا سینہ میں کہ ناسور نہ تھا

تو کب تئیں مجھ سات مری جان ملے گا
ایسا بھی کبھی ہو گا کہ پھر آن ملے گا

گو نالہ نارسا ہو نہ ہو آہ میں اثر
میں نے تو درگزر نہ کی جو مجھ سے ہو سکا

ساتی مرے بھی دل کی طرف ٹک نگاہ کر
لب تشنہ تیری بزم میں یہ جام رہ گیا

اے آنسوو نہ آوے، کچھ دل کی بات منھ پر
لڑکے ہو تم کہیں مت افشائے راز کرنا

ہم جانتے نہیں ہیں اے درد کیا ہے کعبہ
جیدھر ملے وہ ابرو اودھر نماز کرنا

کہا میں مرا حال تم تک بھی پہنچا
کہا تب اچٹتا سا کچھ میں سُنا تھا

مرے دل کو جو ہر دم تو بھلا اتنا ٹٹولے ہے
تصور کے سوا تیرے بتا تو اس میں کیا نکلا؟

جائیے کس واسطے اے درد میخانے کے بیچ
اور ہی ہستی ہے اپنے دل کے پیمانے کے بیچ

سو (۱۰۰) بار دیکھیاں ہیں تیری بے وفائیاں
تسپر بھی نت غرور ہے دل میں گناہ کا​
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ ۱۶۵

جگ میں کوئی نہ ٹک ہنسا ہو گا
کہ نہ ہنستے ہی رو دیا ہو گا

درد کے ملنے سے اے یار بُرا کیوں مانے
اس کو کچھ اور سِوا دید کے منظور نہ تھا

اے شانہ تو نہ ہو جو دشمن ہمارے جی کا
کہیں دیکھیو نہ ہووے زلفوں کا بال بیکا

اگر تجھ کو چلنا ہے چل ساتھ میرے
یہ کب تک تو باتیں بناتا رہے گا

بعد مدت کے درد کل مجھ سے
مِل گیا راہ میں وہ غنچہ دہن

میری اس کی جو لڑ گئی نظریں
ہو گئے آنکھوں میں ہی دود و بچن​

اِن کے عہد میں زبان میں کچھ کچھ اصلاح ہو گئی۔ مگر رسم الخط میں بہت کچھ بزرگوں کی میراث باقی تھی، ایک مجموعہ میرے ہاتھ آیا کہ 1170؁ھ کی تحریر ہے۔ وہ کسی فہمیدہ شخص نے بڑے شوق سے لکھا ہے، اس میں میر سوزؔ، تاباںؔ، فغاںؔ، سوداؔ، خواجہ میر دردؔ، انعام اللہ خاںؔ، خواجہ آبروؔ، میر محمد باقر حزیںؔ، میر کمال الدین شاعرؔ، خواجہ احسن اللہ خاں بیانؔ، قائم الدین قائمؔ کے دیوانوں کی انتخاب غزلیں ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس عہد میں کو علامت مفعول کوں لکھا جاتا ہے۔ چنانچہ شاہ آبروؔ اور کمال الدین شاعرؔ وغیرہ نے جن غزلوں میں کو ردیف ہے اُنھیں ردیف ن ہی میں لکھا ہے۔ متاخرین نے ن کو دُور کیا۔ مگر معلوم ہوتا ہے واؤ معروف ہی بولتے تھے، چنانچہ میر اثر نے کہ خواجہ میر دردؔ کے بھائی تھے، ایک بے ردیف غزل میں مو، رد، قافیہ رکھا ہے اور کو، استفہامیہ باندھا ہے۔ مرزا رفیع نے بھی ایک جگہ ایسا کہا ہے، ان کی ایک غزل ہے، قفس کو، جرس کو، نفس کو، اس کا مقطع یہ ہے :

ترغیب نہ کر سیرِ چمن کی ہمیں سوداؔ
ہر چند ہوا خوب ہے واں لیک ہوس کو​
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ ۱۶۶

ایک غزل ہے ابرو نہیں، گیسو نہیں، اس میں کہتے ہیں :

خطِ سبز اُس کی سیہ، کچھ رد ہوا میرا سفید
خواہش ترکِ نیا زد و ناز دونوں کو نہیں

سُن کے ترکِ عشق میرا ہنس کے کہتا ہے وہ شوخ
نیل بگڑا ہے کہیں یارو یقیں مجھ کو نہیں​

الفاظ مفصلہ ذیل کی رسم الخط اس عہد میں اس طرح تھی :

تو۔۔۔ توں
مجھے ۔۔۔ مجھ سیں
اُس نے ۔۔۔ اُنے
تجھ ۔۔۔ تجھ کوں
سے ۔۔۔ سیں
تو نے ۔۔۔ تو نیں
جس نے ۔۔۔ جِنے
کسے ۔۔۔ کسو
اس سے ۔۔۔ اس سین
جوں ۔۔۔ جیوں
جی ۔۔۔ جیو

اشعار مذکورہ بالا جو کہ حقیقت میں ایک محاورہ مرحوم کے نقشِ مزار ہیں، میں نہیں جانتا کہ نئے ہونہار یا اگلے وقتوں کی جو یادگار باقی ہیں انھیں پڑھ کر کہانتک خیالات کو وسعت دیں گے۔ مجھے اس لکھنے سے فقط یہی مطلب نہیں کہ اس عہد تک زبان پر اس قدر قدامت کا اثر باقی تھا بلکہ ایک بڑی بات کا افسوس ظاہر کرنا منظور ہے وہ یہ ہے کہ سوداؔ کی ۷۵ برس کی اپنی عمر اور تخمیناً ۵۵، ۶۰ برس ان کی شاعری کی عمر، میرؔ کی ۱۰۰ برس کی عمر، شاعری کی ۸۰، ۸۵ برس کی عمر اور اس بات سے کسی کو انکار نہ ہو گا کہ جو زبان دلی کی اُن کے اوائل کلام میں تھی وہی اوسط میں نہ تھی، پھر وہی اواخر میں نہ تھی، یقیناً تینوں زبانوں میں ظاہر اور واضح امتیاز ہوئے ہوں گے مگر چونکہ رسمِ ملک نے دیوانوں کی ترکیب حروفِ تہجی پر رکھی ہے، اس لئے آج ہم معلوم نہیں کر سکتے کہ ان کے عہدوں میں وقت بوقت ملکی زبانوں میں کیا کیا انقلاب ہوئے یا مختلف وقتوں میں خود اُن کی طبیعت کے میلان اور زورِ کلام کے اُتار چڑھاؤ کس کس درجہ پر تھے۔
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ ۱۶۷

اس اندھیرے میں فقط دو شاعر ہمارے لئے چراغ رکھ گئے ہیں کہ حسب تفصیل ذیل چند قسموں میں اپنے کلام کو تقسیم کیا :

اوائلِ عمر
عہدِ جوانی
سن کہولۃ
پیرانہ سالی

(۱) امیر خسرو : تحفتہ الصغر، غرۃ الکمال، وسط الحیٰوۃ، بقیہ نقیۃ

(۲) جامیؔ : فاتحۃ الشباب، واسطتہ العقد، خاتمتہ الحیٰوۃ

خیر یہ سمجھ لو کہ جن الفاظ پر ہم لوگوں کے بہت کان کھڑے ہوتے ہیں، یہی اُن کے اوائلِ عمر یا جوانی کے کلام ہیں، منشی احمدؔ حسن خاں صاحب میر تقی مرحوم کے شاگرد رشید تھے۔ اِن کی زبانی ڈپٹی کلب حسین خاں صاحب مرحوم فرماتے تھے کہ اکثر الفاظ جو میر صاحب پہلے دوسرے دیوان میں کہہ گئے ہیں وہ چوتھے پانچویں میں نہیں ہیں، جو دوسرے تیسرے میں ہیں وہ پانچویں چھٹے میں نہیں۔ بہر حال اخیر عمر میں ان کی زبان کا اندازہ ہو گا جو کہ سید انشاؔء، مصحفیؔ، جرات کی زبان ہے۔ واللہ اعلم بحقیقتۃ الحال۔

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

مرزا جانِ جاناں مظہرؔ

اگرچہ نظم کے جوش و خروش اور کثرتِ کلام کے لحاظ سے میرؔ اور سوداؔ کے ساتھ نام لیتے ہوئے تامل ہوتا ہے لیکن چونکہ صانع قدرت نے طبیعت کی لطافت اور اصلی نفاست اور ہر بات میں انداز کی خوبی اور خوب صورتی اُن کے مزاج میں رکھی تھی اور زمانہ بھی سب کا ایک تھا، اس کے علاوہ پُرانے
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ ۱۶۸

تذکرہ نویس لکھتے ہیں بلکہ بزرگوں کی زبان سے بھی یہی سُنا کہ زبان کی اصلاح اور اندازِ سخن اور طرز کے ایجاد میں انھیں ویسا ہی حق ہے جیسا کہ سوداؔ اور میرؔ کو، اسی واسطے ان کا حال بھی اس سلسلہ میں لکھنا واجب ہے، ان کے والد عالمگیر کے دربار میں صاحبِ منصب تھے، نسب اِن کا باپ کی طرف سے محمد ابن حنیفہ سے ملتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ کے بیٹے تھے، ماں بیجاپور کے شریف گھرانہ سے تھیں، دادا بھی دربارِ شاہی میں صاحبِ منصب تھے، دادی اسد خاں وزیر عالمگیر کی خالہ زاد بہن تھیں۔ پردادا سے اکبر بادشاہ کی بیٹی منسوب ہوئی تھیں۔ اِن رشتوں سے تیموری خاندان کے نواسے تھے، 1111؁ھ میں جبکہ عالمگیر دکن پر فوج لئے پڑا تھا، ان کے والد نوکری چھوڑ کر دلی کو پھرے، یہ کالا باغ علاقہ مالوہ میں 11 رمضان کو جمعہ کے دن پیدا ہوئے۔ عالمگیر کو خبر ہوئی، آئینِ سلطنت تھا کہ امراء کے ہاں اولاد ہو تو حضور میں عرض کریں، بادشاہ خود نام رکھیں یا پیش کئے ہوئے ناموں میں سے پسند کر دیں، کسی کو خود بھی بیٹا یا بیٹی کر لیتے۔ یہ امور طرفین کے دلوں میں اتحاد اور محبت پیدا کرتے تھے، اِن کے لئے ایک وقت پر سندِ ترقی ہوتے تھے اور بادشاہوں کو ان سے وفاداری اور جاں نثاری کی امیدیں ہوتی تھیں، شادی بھی اجازت سے ہوتی تھی، کبھی ماں باپ کی تجویز کو پسند کرتے تھے، کبھی خود تجویز کر دیتے تھے۔ غرض عالمگیر نے کہا کہ بیٹا باپ کی جان ہوتا ہے، باپ مرزا جان ہے، اس کا نام ہم نے جانِ جاناں رکھا، پھر اگرچہ باپ نے شمس الدین نام رکھا، مگر عالمگیری نام کے سامنے نہ چمکا (تذکرہ گلزارِ ابراہیمی میں لکھا ہے کہ ان کا وطن اکبر آباد تھا دلی میں آ رہے تھے۔) مظہر تخلص انھوں نے آپ کیا کہ جان
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ ۱۶۹

جاناں کے ساتھ مشہور چلا آتا ہے، مرزا جان بھی شاعر تھے اور جانی تخلص کرتے تھے۔

۱۶ برس کی عمر تھی کہ باپ مر گئے، اسی وقت سے مشتِ خاک کو بزرگوں کے گوشہ دامن میں باندھ دیا۔ ۳۰ برس کی عمر تک مدرسوں اور کانقاہوں میں جھاڑو دی، اور جو دن بہارِ زندگی کے پھول ہوتے ہیں انھیں بزرگوں کے روضوں پر چڑھا دیا۔ اس عہد میں تصوف کے خیالات اَبر کی طرح ہندوستان پر چھائے ہوئے تھے، چنانچہ قطع نظر کمالِ شاعری کے ہزارہا مسلمان بلکہ ہندو بھی اُن کے مرید تھے اور دل سے اعتقاد رکھتے تھے۔ اُن کے باب میں بہت سے لطائف ایسے مشہور ہیں کہ اگر آج کسی میں پائے جائیں تو زمانہ کے لوگ اچھا نہ سمجھیں، لیکن وہ ایک زمانہ تھا کہ صفاتِ مذکورہ داخلِ فضائل تھیں، کچھ تو اس اعتقاد سے کہ مصرعہ : "خطائے بزرگاں گرفتن خطا است۔" اور کچھ اس وجہ سے کہ اگر ایک لطیف اور شفاف سطح پر کوئی داغ ہو اور وہ ایک عمدہ نظرگاہ میں جلوہ گر ہو تو وہاں وہ دھبہ بدنما نہیں بلکہ گلکاری معلوم ہوتا ہے، اور جسے بُرا معلوم ہو وہ خوش عقیدہ نہیں، میں روسیاہ بزرگوں کی ہر بات کو چشمِ عقیدت کا سُرمہ سمجھتا ہوں، مگر مقتضائے زمانہ پر نظر کر کے نمونہ پر اکتفا کرنا چاہیے۔

وہ خود بیان کرتے تھے کہ حسنِ صورت اور لطف معنی کا عشق ابتداء سے میرے دل میں تھا، چھوٹے سن میں بھی مصرعے موزوں زبان سے نکلتے تھے۔ شیر خوارگی کے عالم میں حُسن کی طرف اس قدر میلان تھا کہ بدصورت کو گود میں نہ جاتا تھا، کوئی خوب صورت لیتا تھا تو ہمک کر جاتا تھا، اس پھر اس سے لیتے
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ ۱۷۰

تھے تو بمشکل آتا تھا۔
*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

میر عبدالحیی تاباںؔ

ان کے عہد میں میر عبدالحیی تاباں تخلص ایک شریف زادہ حُسن و کوبی میں اس قدر شہرہ آفاق تھا کہ خاص و عام اس کو یوسف ثانی کہتے تھے، گوری رنگت پر کالے کالے کپڑے بہت زیب دیتے تھے، اس لئے ہمیشہ سیاہ پوش رہتا تھا۔ اس کے حُسن کی یہاں تک شہرت پھیلی کہ بادشاہ کو بھی دیکھنے کا اشتیاق ہوا۔ معلوم ہوا کہ مکان حبش خاں کے پھاٹک میں ہے اور وہ بڑا دروازہ جو کوچہ مذکور سے بازار لاہوری دروازہ میں نکلتا ہے، اس کے کوٹھے پر نشست ہے۔ زمانہ کی تاثیر اور وقت کے خیالات کو دیکھنا چاہیے کہ بادشاہ خود سوار ہو کر اس راہ سے نکلے، انھیں بھی خبر ہو گئی تھی، بنے سنورے اور بازار کی طرف موڈھا بچھا کر آ بیٹھے۔ بادشاہ جب اس مقام پر پہنچے تو اس لئے ٹھہرنے کا ایک بہانہ ہو وہاں آبحیات (شاہانِ دہلی کے کاروبار کے لئے الفاظ خاص مستعمل تھے، مثلاً پانی کو آبحیات، کھانے کو خاصہ، سونے کو سکھ فرمانا، شہزادوں کا پانی آبِ خاصہ اور اسی طرح ہزاروں اصلاحی الفاظ تھے۔) مانگا، اور پانی پی کر دیکھتے ہوئے چلے گئے، الغرض تاباں خود صاحبِ دیوان تھے، شاہ حاتم اور میر محمد علی حشمت کے شاگرد تھے اور مرزا صاحب
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ ۱۷۱

کے مُرید تھے، مرزا صاحب بھی چشمِ محبت اور نگاہِ شفقت سے دیکھتے تھے چنانچہ اکثر ایسا ہوتا تھا کہ مرزا صاحب بیٹھے ہیں اور اُن کی صحبت میں کہ جہاں کبھی وعظ و ارشاد اور کبھی نظم و اشعار کا جلسہ رہتا تھا :- تاباںؔ بھی حاضر ہیں اور با ادب اپنے مرشد کی خدمت میں بیٹھے ہیں۔ حضرت اگرچہ محفل ارشاد کے آداب سے گرمجوشی ظاہر نہ کرتے تھے، مگر معلوم ہوتا تھا کہ دیکھتے ہیں اور مارے خوشی کے باغ باغ ہوئے جاتے ہیں، تاباںؔ بھی مزاج داں تھے، اشعار اور لطائف نمکین کہتے، حضرت سُن سُن کر خوش ہوتے، کوئی بات سب کے سامنے کہنی خلافِ ادب ہوتی تو جو اہلِ عقیدت میں ادب کا طریقہ ہے اسی طرح دست بستہ عرض کرتے کہ کچھ اور بھی عرض کیا چاہتا ہوں، حضرت مسکرا کر اجازت دیتے، وہ کان کے پاس منھ لے جاتے اور چند کلمے چپکے چپکے ایسے گستاخانہ کہتے کہ سوا اس پیارے عزیز کے کوئی نہیں کہہ سکتا۔ جسے بزرگوں کی محبت نے گستاخ کیا ہو، پس حضرت مسکراتے اور فرماتے کہ درست ہے پھر وہ اسی قسم کی کچھ اور باتیں کہتے، پھر آپ فرماتے کہ یہ بالکل درست ہے۔ جب تاباں اپنی جگہ پر آ بیٹھتے تو حضرت خود کہتے کہ ایک بات کا تمھیں خیال نہیں رہا۔ تاباں پھر کان کے پاس منھ لے جاتے، اُس وقت سے بھی تیز تر کوئی لطیفہ آپ اپنے حق میں کہتے (ان باتوں پر اور خصوصاً اِن کے شعر مندرجہ صفحہ ۱۲۷ پر تہذیب آنکھ دکھاتی مگر کیا کیجیے ایشیا کی شاعری کہتی ہے کہ یہ میری صفائی زبان اور طراری کا نمک ہے۔ پس یہ رُخ اگر خصوصیت زبان کو نہ ظاہر کرے تو اپنے فرض میں قاصر ہے یا بے خبر ہے۔) اور اپنے پیارے عزیز کی ہم زبانی کا لُطف
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ ۱۷۲

حاصل کرتے۔نہایت افسوس ہے کہ وہ پھول اپنی بہار میں لہلہاتا گر پڑا (ہائے میری دلی تیری جو بات ہے جہاں سے نرالی ہے) جب اس یوسف ثانی نے عین جوانی میں دلوں پر داغ دیا تو تمام شہر نے اس کا سوگ رکھا۔ میر تقی میر نے بھی اپنی ایک غزل کے مقطع میں کہا ہے :

داغ ہے تاباں علیہ الرحمتہ کا چھاتی پہ میرؔ
ہو نجات اس کو بچارا ہم سے بھی تھا آشنا​

مرزا صاحب کی تحصیل عالمانہ نہ تھی مگر علمِ حدیث کو بااُصول پڑھا تھا۔ حنفی مذہب کے ساتھ نقشبندی طریقہ کے پابند تھے اور احکامِ شریعت کو صدق دل سے ادا کرتے تھے اور صناع و اطوار اور ادب آداب نہایت سنجیدہ اور برجستہ تھے کہ جو شخص ان کی صحبت میں بیٹھتا تھا ہوشیار ہو کر بیٹھتا تھا، لطافت مزاج اور سلامتی طبع کی نقلیں ایسی ہیں کہ آج سُن کر تعجب آتا ہے، خلافِ وضع اور بے اسلوب حالت کو دیکھ نہ سکتے تھے۔

نقل : ایک دن درزی ٹوپی سی کر لایا، اس کی تراش ٹیڑھی تھی۔ اس وقت دوسری ٹوپی موجود نہ تھی، اس لئے اسی کو پہنا مگر سر میں درد ہونے لگا۔

نقل : جس چارپائی میں کان ہو اس پر بیٹھا نہ جاتا تھا۔ گھبرا کر اُٹھ کھڑے ہوتے تھے، چنانچہ دلی دروازہ کے پاس ایک دن ہوادار میں سوار چلے جاتے تھے۔ راہ میں ایک بنیئے کی چارپائی کے کان پر نظر جا پڑی۔ وہیں ٹھہر گئے اور جب تک اس کا کان نہ نکلوایا آگے نہ بڑھے۔

نقل : ایک دن نواب صاحب کہ اِن کے خاندان کے مرید تھے ملاقات کو آئے اور خود صراحی لے کر پانی پیا، اتفاقاً آبخورا جو رکھا تو ٹیڑھا، مرزا کا مزاج اس قدر برہم ہوا کہ ہرگز ضبط نہ ہو سکا اور بگڑ کر کہا، عجب بے وقوف احمق تھا جس نے تمھیں نواب
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ ۱۷۳

بنا دیا، آبخورا بھی صراحی پر رکھنا نہیں آتا۔

مولوی غلام یحیٰی فاضل جلیل، جنھوں نے میر زاہد پر حاشیہ لکھا ہے، کہ بہدایت غیبی مرزا ے مُرید ہونے کو دلی میں آئے، ان کی ڈاڑھی بہت بڑی اور گھن کی تھی، جمعہ کے دن جامع مسجد میں ملے اور ارادہ ظاہر کیا، مرزا نے ان کی صورت کو غور سے دیکھا اور کہا کہ اگر مجھ سے آپ بیعت کیا چاہتے ہیں تو پہلے ڈاڑھی ترشوا کر صورت بھلے آدمیوں کی بنائیے پھر تشریف لائیے۔ اللہُ جَمیلٌ و یُحِبُ الجَلٌ و یُحِبُ الجَمَال۔ بھلا یہ ریچ کی صورت مجھ کو اچھی نہیں معلوم ہوتی تو خدا کو کب پسند آئے گی۔ ملا متشرع آدمی تھے، گھر میں بیٹھ رہے، تین دن تک برابر خواب میں دیکھا کہ بغیر مرزا کے تمھارا عقدہ دل نہ کھلے گا، آخر بیچارے نے ڈاڑھی حجام کے سپرد کی اور جیسا خشخاسی خط مرزا صاحب کا تھا ویسا ہی رکھ کر مریدوں میں ڈاخل ہوئے۔

اسی لطافت مزاج اور نزاکت طبع کا نتیجہ ہے کہ زبان کی طرف توجہ کی اور اسے تراشا کہ جو شعر پہلے گزرے تھے، انھیں پیچھے ہی چھوڑ کر اپنے عہد کا طبقہ الگ کر دیا اور اہل زبان کو نیا نمونہ تراش کر دیا، جس سے پرانہ رستہ ایہام گوئی کا زمین شعر سے مٹ گیا۔ ان کے کلام میں مضامین عاشقانہ عجب تڑپ دکھاتے ہیں اور یہ مقامِ تعجب نہیں، کیوں کہ وہ قدرتی عاشق مزاج تھے، اوروں کے کلام میں یہ مضامین خیال ہیں، ان کے اصل حال (افسوس ہے اہل وطن کے خیالات پر جنھوں نے ایسی ایسی لطافت طبع کی باتیں دیکھ کر ازروئے اعتقاد آخر میں ایک طرہ اور بڑھایا یعنی قاتل ہم جوانے صبیح و ملیح بود کہ بدستش جان سپروند یا شاید ایسا ہی، عالم الغیب خدا ہے۔) زبان ان کی نہایت صاف و شستہ و شفاف
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ ۱۷۴

ہے، اس وقت کے محاورہ کی کیفیت کچھ ان کے اشعار سے اور کچھ اُس گفتگو سے معلوم ہو گی جو ایک دفعہ بروقتِ ملاقات ان سے اور سید انشاء سے ہوئی، چنانچہ اصل عبارت دریائے لطافت سے نقل کی جاتی ہے۔

سید انشاء اللہ خاں اور مرزا جانجاناں مظہرؔ کی ملاقات

درزمانیکہ راقم مذنب ہمراہ والد مرحوم مغفور وارد دار الخلافہ بود، ازبسکہ آوازہ فصحاحت و بلاغت جناب فیض مآب مرزا جانجاناں مظہرؔ علیہ الرحمتہ گوش راقم را مقرر خود داشت دل بادیدہ مستعد سکیزہ شد کہ چرا از دیدارِ مرزا صاحب خودرا ایں ہمہ محروم مے پسندی و مرا از لذتِ جاودانی و عیش روحانی کہ در کلامِ معجز نظام آنحضرت است، باز میداری چار و ناچار خط تراش واوہ جامہ ململ ڈھاکہ پوشیدہ و ستارِ سُرخ، برسرگزاشتم و دیگر لباس ہم ازیں قبیل و از سلاح انچہ باخود گرفتم کٹار بسیار خو بے بود کہ بکمرزدہ بودم، بایں ہئیت بسواری فیل روانہ خدمت سراپا افادت ایشاں شدم، چوں بالائے بام کہ کیول رام بانیہ متصل جامع مسجد ساختہ پیش کش مرزا صاحب کردہ بود برآمدم، دیدم کہ جناب معری الیہ با پیرہن و کلاہِ سفید دو دوپٹہ ناشپاتی رنگ بصورت سموسہ بردوش گزاشتہ نشستہ اندبکمالِ ادب سلامے برایشاں کردم، از فرطِ عنایت و کثرتِ مکارمِ اخلاق کہ شیوہ ستودہ بزرگانِ خدا پرست است بجواب سلام ملتفت شدہ برخاستند دوسرِایں بے لیاقت رادر کنار گرفتہ بہ پہلوئے خود جا داوند۔ (اس صحبت میں جو گفتگو ہوئی صفحہ ۳۵ میں لکھی گئی ہے۔)
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ ۱۷۵

مرزا صاحب کا ایک دیوان فارسی ہے کہ خود ۶۰ برس کی عمر ۱۱۷۰ھ میں بیس (۲۰) ہزار شعر میں سے ایک ہزار شعر انتخاب کیا تھا۔ اسی واسطے اکثر غزلیں ناتمام اور بے ترتیب ہیں، اس کو انتہائی درجہ کی منصفی اور سلامتی طبع سمجھنا چاہیے ورنہ اپنے اشعار کہ اولادِ معنوی ہوتے ہیں، کس کا جگر ہے کہ اپنے ہاتھ سے کاٹے، فارسی بھی بہت شُستہ ہے اور مضامینِ عاشقانہ ایک انداز کے ساتھ بندھے ہیں۔

مراچہ جرم کہ ہر نالہ ام رموز دنی
غلط کنند عزیزاں بمصرعہ اُستاد​

اُردو میں بھی پورا دیوان نہیں، غزلیں اور اشعار ہیں جو سوداؔ اور میرؔ کی زبان ہے وہی اُن کی زبان ہے لیکن سوداؔ بھلا کسے خاطر میں لاتے تھے، چنانچہ سب آداب اور رعایتوں کو بالائے طاق رکھ کر فرماتے ہیں :

مظہرؔ کا شعر فارسی اور ریختہ کے بیچ
سوداؔ یقین جان کہ روڑا ہے باٹ کا

آگاہِ فارسی تو کہیں اِس کو ریختہ
واقف جو ریختہ کے ذرا ہووے ٹھاٹھ کا

سُن کر وہ یہ کہے کہ نہیں ریختہ ہے یہ
اور ریختہ بھی ہے تو فیروز شہ (فیروز شاہ) کی لاٹھ کا

القصہ اس کا حال یہی ہے جو سچ کہوں
کتا ہے دھوبی کا کہ نہ گھر کا نہ گھاٹ کا
(نقطہ اس میں یہ ہے کہ مرزا صاحب نے ایک دھوبن گھر میں ڈال لی تھی)​

خریطہ جواہر : ایک مختصر انتخاب اساتذہ فارس کے اشعار کا ہے کہ اپنی پسند کے بموجب لکھے گئے تھے، وہ حقیقت میں خریطہ جواہر ہے۔

جب (اکثر حالات اور سال تاریخ وغیرہ معمولات مظہری سے لیے گئے۔) کہ صحرائے فنا میں ۷۹ منزلیں عمر کی طے کر ۸۰ میں قدم رکھا تو دل کو آگاہی
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ ۱۷۶

ہونے لگی کہ اب روح کا مسافر بدن کا بوجھ پھینکا چاہتا ہے، چنانچہ خود اکثر تحریروں اور تقریروں میں صاف صاف اظہار کرتے تھے۔

ایک معتقد کا بیٹا حسن اعتقاد سے غزل لے کر آیا کہ شاد ہو اور اصلاح لے۔ انھوں نے کہا کہ اصلاح کے ہوش و حواس کسے ہیں اب عالم کچھ اور ہے۔ عرض کی کہ میں بطور تبرک سعادت حاصل کرنی چاہتے ہوں، فرمایا کہ اس وقت ایک شعر خیال میں آیا ہے، اسی کو تبرک اور اسی کو اصلاح سمجھ لو۔

لوگ کہتے ہیں مر گیا مظہرؔ
فی الحقیقت میں گھر گیا مظہرؔ​

غرض ساتویں محرم کی تھی کہ رات کے وقت ایک شخص مٹھائی کی ٹوکری ہاتھ میں لئے آیا، دروازہ بند تھا، آواز دی اور ظاہر کیا کہ مُرید ہوں، نذر لے کر آیا ہوں۔ وہ باہر نکلے تو قرابین (استاد مرحوم فرمایا کرتے تھے کہ گاڑے کا نشان ہم نے بھی دیکھا ہے۔ کیول رام کے کوٹھے پر ڈیوڑھی کی دیوار میں اب تک موجود تھا۔) ماری کہ گولی سینہ کے پار ہو گئی، وہ بھاگ گیا۔ مگر انھیں زخم کاری ایا، تین دن تک زندہ رہے۔ اس عالمِ اضطراب میں لوٹتے تھے اور اپنا ہی شعر پڑھتے تھے۔

بنا کردند خوش رسمے بخون و خاک غلطیاں
خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را​

یہ تین دن نہایت استقلال اور ثابت قدمی سے گزارے بلکہ جب شاہ عالم بادشاہ کو خبر پہنچی تو بعد تحقیقات کے کہلا بھیجا کہ قاتل نہیں ملتا، نشان بتائیے تو ہم اسے سزا دیں۔ جواب میں کہا کہ فقیر کشتہ راہِ خدا ہیں اور مردہ کا مارنا قتل نہیں ۔
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ ۱۷۷

قاتل ملے تو آپ سزا نہ دیں، یہاں بھیج دیں، آخر دسویں کو شام کے وقت دنیا سے انتقال کیا، بہت لوگوں نے تاریخیں کہیں، مگر درجہ اول پر میر قمر الدین منتؔ کی تاریخ ہے جس کا مادہ خاص الفاظِ حدیث ہیں اور اتفاق یہ کہ موزوں ہیں عاش حمیدا، مات شھیدًا۔ اِس قتل کا سبب دلی کے خاص و عام میں مشہور تھا کہ بموجب رسم کے ساتویں کو علم اُٹھے تھے یہ سرِراہ اپنے بالا خانہ پر خاص خاص مریدوں کو لئے بیٹھے تھے جیسا کہ عوام جہلا کی عادت ہے شاید طرفین سے کچھ کچھ طعن و تعریض ہوئے ہوں، وہ کسی جاہل کو ناگوار ہوئے اُن میں کوئی سنگ دل قول و خال نام سخت جاہل تھا، اُس نے یہ حرکت کی، لیکن حکیم قدرت اللہ قاسمؔ اپنے تذکرہ میں فرماتے ہیں کہ مرزا صاحب اپنے کلام میں اکثر اشعار حضرت علی کی مدح میں کہا کرتے تھے، اس پر بگڑ کر کسی سُنی نے یہ حرکت کی۔

نہ کرمظہرِ باطاعتے و رفت بخاک
نجات خود بہ تو لائے بوتراب گذاشت​

(عجب مشکل ہے حکیم صاحب بھی ایک خوش اعتقاد سنت جماعت تھے۔ وہ کہتے ہیں سُنی نے مارا، لوگ کہتے ہیں شیعہ نے مارا۔ خیر شیعہ سُنی آپس میں سمجھ لیں۔ میرا کام اتنا ہی تھا جو کچھ پایا کاغذ کے حوالہ کیا۔)

جدمرسوم ایک اُردو کا شعر اُن کے نام سے پڑھا کرتے تھے۔

ہوں تو سُنی پہ علی کا صدق دل سے ہوں غُلام
خواہ ایرانی کہو تم خواہ تورانی مجھے​

دلی میں پتلی قبر کے پاس گھر ہی میں دفن کر دیا تھا کہ اب خانقاہ کہلاتی ہے۔ قبر پر انہی کا شعر لکھا ہے :
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ ۱۷۸

بلوحِ تُربت من یافتند از غیب تحریر ہے
کہ ایں مقتول راجز بیگناہی نیست تقصیرے​

تاریخ مرزا رفیع سودا نے بھی کہی :

مرزا کا ہوا جو قاتل ایک مرتدِ شوم
اور اِن کی ہوئی خبر شہادت کی عموم

تاریخ ازروئے، درد، یہ سن کے کہی
سوداؔ نے کہ ہائے جانِ جاناں (۱۱۹۵) مظلوم​

اس لکھنے سے مجھے اظہار اس امر کا منظور ہے کہ ہجو ہمارے نظم کی ایک خاردار شاخ ہے جس کے پھل سے پھول تک بے لطفی بھری ہے اور اپنی زمین اور دہقان دونوں کی کثافتِ طبع پر دلالت کرتی ہے۔ چنانچہ اس میں بھی مرزا رفیع مرحوم سب سے زیادہ بدنام ہیں، لیکن حق یہ ہے کہ ان کی زبان سے جو کچھ نکلتا تھا باعث اُس کا یا فقط شوخی طبع یا کوئی عارضی جوش ناراضی کا ہوتا تھا اور مادہ کثافت فقط اتنا ہوتا تھا کہ جب الفاظ کاغذ پر آ جاتے تھے تو دل صاف ہو جاتا تھا۔ (دیکھو سوداؔ کے حال میں ان کا اور مرزا فاخر یکینؔ کا جھگڑا صفحہ 201 اور سید انشاء کے حال میں مشاعرہ دلی کا معرکہ۔) چنانچہ تاریخ مذکور کے الفاظ دل کی صفائی کا حال ظاہر کرتے ہیں۔ ہمارا زمانہ ایسے مہذب اور شائستہ لوگوں سے آراستہ ہے کہ لفظ ہجو کو گالی سمجھتے ہیں مگر دلوں کا مالک اللہ ہے۔

اِن کے شاگردوں میں میر محمد باقر حزیں، بساون لال بیدارؔ، کواجہ احسن اللہ خاں بیانؔ، انعام اللہ خاں یقینؔ، مشہور صاحبِ دیوان اور اچھے شاعر ہوئے، ان کی غزلیں تمام و کمال نہ ملیں، جو کچھ سرِ دست حاضر تھا درج کیا۔
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ ۱۷۹

چلی اب گل کے ہاتھوں سے لُٹا کر کارواں اپنا
نہ چھوڑا ہائے بلبل نے چمن میں کچھ نشاں اپنا

یہ حسرت رہ گئی کیا کیا مزے کی زندگی کٹتی
اگر ہوتا چمن اپنا، گل اپنا، باغباں اپنا

الم سے یاں تلک روئیں کہ آخر ہو گئیں رسوا
ڈوبایا ہائے آنکھوں نے مژہ کا خاندان اپنا

رقیباں کی نہ کچھ تقصیر ثابت ہے نہ خوباں کی
مجھے ناحق ستاتا ہے یہ عشقِ بدگماں اپنا

مرا جی جلتا ہے اِس بلبلِ بیکس کی غُربت پر
کہ جن نے آسرے پر گل کے چھوڑا آشیاں اپنا

جو تو نے کی سو دشمن بھی نہیں دشمن سے کرتا ہے
غلط تھا جانتے تھے تجھ کو جو ہم مہرباں اپنا

کوکئی آزردہ کرتا ہے سجن اپنے کو ہے ظالم
کہ دولت خواہ اپنا مظہر اپنا جانجاں اپنا
*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

گرچہ الطاف کے قابل یہ دلِ زار نہ تھا
لیکن اِس جور و جفا کا بھی سزا وار نہ تھا

لوگ کہتے ہیں ہوا مظہرِ بے کس افسوس
کیا ہوا اس کو وہ اتنا بھی تو بیمار نہ تھا

جواں مارا گیا خوباں کے بدلے میرزا مظہرؔ
بھلا تھا یا بُرا تھا، زور کچھ تھا خوب کام آیا

ہم نے کی ہے توبہ اور دھومیں مچاتی ہے بہار
ہائے بس چلتا نہیں کیا مفت جاتی ہے بہار

لالہ و گل نے ہماری خاک پر ڈالا ہے شور
کیا قیامت ہے موؤں کو بھی ستاتی ہے بہار

شاخ گل ہلتی نہیں یہ بلبلوں کو باغ میں
ہاتھ اپنے کے اشارہ سے بلاتی ہے بہار

ہم گرفتاروں کو اب کیا کیام ہے گلشن سے لیک
جی نکل جاتا ہے جب سُنتے ہیں آتی ہے بہار

یہ دل کب عشق کے قابل رہا ہے
کہاں اِس کو دماغ و دل رہا ہے

خدا کے واسطے اِس کو نہ ٹوکو
یہی اک شہر میں قاتل رہا ہے

نہیں آتا اسے تکیہ پہ آرام
یہ سر پاؤں سے تیرے ہل رہا ہے​
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ ۱۸۰

اگر ملئے تو خفت ہی دگر دوری قیامت ہے
غرض نازک دماغوں کو محبت سخت آفت ہے

کوئی لیوے دل اپنے کی خبر یا دلبر اپنے کی
کسی کا یار جب عاشق کہیں ہو کیا قیامت ہے

توفیق دے کہ شور سے اکدم تو چپ رہے
آخر مرا یہ دل ہے الٰہی جرس نہیں

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

غزلہائے تاباںؔ

نہیں ہے دوست اپنا یار اپنا مہرباں اپنا
سُناؤں کس کو غم اپنا الم اپنا بیاں اپنا

بہت چاہا کہ آوے یار یا اس دل کو صبر آوے
نہ یار آیا نہ صبر آیا دیا جی میں نداں اپنا

قفس میں تڑپے ہے یہ عندلیباں سخت بے بس ہیں
نہ گلشن دیکھ سکتے ہیں نہ یہ اب آشیاں اپنا

مجھے آتا ہے رونا ایسی تنہائی پہ اے تاباںؔ
نہ یار اپنا، نہ دل اپنا، نہ تن اپنا نہ جاں اپنا

رہتا ہوں خاک و خوں میں سدا لوٹتا ہوا
میرے غریب دل کو الٰہی یہ کیا ہوا؟

میں اپنے دل کو غنچہ تصویر کی طرح
یارب کبھو خوشی سے نہ دیکھا کھلا ہوا

ناصح عبث نصیحت بیہودہ تو نہ کر
ممکن نہیں کہ چھوٹ سکے دل لگا ہوا

ہم بے کسی پہ اپنی نہ رو دیں تو کیا کریں
دل سا رفیق ہائے ہمارا جُدا ہوا

جفا سے اپنی پشیماں نہ ہو، ہوا سو ہوا
تری بلا سے مرے جی پہ جو ہوا سو ہوا

سبب جو میری شہادت کا یار سے پوچھا
کہا کہ اب تو اسے گاڑ دو ہوا سو ہوا

یہ دردِ عشق میرا نہیں علاج طبیب
ہزار میری دوائیں کرو ہوا سو ہوا​
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ ۱۸۱

بھلے بُرے کی تری عشق میں اُڑا دی شرم
ہمارے حق میں کوئی کچھ کہو ہوا سو ہوا

نہ پائی خاک بھی تاباں کی ہم نے پھر ظالم
وہ ایک دم ی ترے روبرو ہوا سو ہوا

سُن فصلِ گل خوشی ہو گلشن میں آئیاں ہیں
کیا بلبلوں نے دیکھ دھومیں مچائیاں ہیں

بیمار ہے، زمیں سے اُٹھتی نہیں عصا بِن
نرگس کو تم نے شاید آنکھیں دکھائیں ہیں

آئینہ روبرو رکھ اور اپنی چھب دکھانا
کیا خود پسندیاں ہیں کیا خود نمائیاں ہیں

دیکھے سے آئینہ بھی حیران ہے ترا رُو
چہرہ کے بیچ تیرے کیا کیا صفائیاں ہیں

خورشید گر کہوں میں تو جان ہے وہ پیلا
جو مہہ کہوں ترا رُو اُس پر تو جھائیاں ہیں

جب پان کھا کے پیارا گلشن میں جا ہنسا ہے
بے اختیار کلیاں تب کھل کھلائیاں ہیں

کہتے تھے ہم کسی سے تم بِن نہیں ملیں گے
اب کس کے ساتھ پیارے وے دلربئیاں ہیں

عاشق سے گرم ملنا پھر بات بھی نہ کہنا
کیا بے مروتی ہے کیا بے وفائیاں ہیں

افسوس اے صنم تم ایسے ہوئے ہو ابتر
ملتے تو غیر سے جا ہم سے روکھائیاں ہیں

قسمت میں دیکھیں کیا ہے جیتے رہیں کہ مر جائیں
قاتل سے ہم نے یارو آنکھیں لڑائیاں ہیں

اب مہرباں ہوا ہے تاباںؔ ترا ستمگر
آہیں تری کسی نے شاید سُنائیاں ہیں
*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*​
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top