آباد مومنوں سے سارا جہاں ہے پھر بھی ------برائے اصلاح

الف عین
محمد خلیل الرحمٰن
محمّد احسن سمیع؛راحل؛
-------------
آباد مومنوں سے سارا جہاں ہے پھر بھی
سارے جہاں میں پھیلی ان کی فغاں ہے پھر بھی
-------------
ظالم کا ساتھ دینا شیوہ نہیں ہمارا
دنیا مگر یہ ہم سے کیوں بد گماں ہے پھر بھی
-----------------
ہم چاہتے ہیں سب کو اپنا بنا کے جینا
نیّت مگر ہماری زیرِ بیاں ہے پھر بھی
-----------
ہم نے جہاں کی خاطر کیا کچھ کیا نہیں ہے
رہتی دراز ہم پر سب کی زباں ہے پھر بھی
------------
بدلیں گے دن ہمارے ، اس پر یقیں ہے ہم کو
ہیں مشکلیں بھی حائل ، جذبہ جواں ہے پھر بھی
---------------------
بھولی نہیں ہیں قومیں ہم بھی تھے ان پہ غالب
اب کھو چکی ہے عظمت باقی نشاں ہے پھر بھی
-------------
ہو گا یہ دین غالب ارشد یقین رکھنا
جس قدر بھی یہ چاہے کارِ گراں ہے پھر بھی
-------------
 

یاسر علی

محفلین
باقی تو اساتذہ بہتر جانتے ہیں ۔
کئی جگہ پہ لفظی تعقید کا مسئلہ ہے ۔
میں وہ نشاندہی کردیتا ہوں۔

ہم چاہتے ہیں سب کو اپنا بنا کے جینا
نیّت مگر ہماری زیرِ بیاں ہے پھر بھی

ہم سب کو چاہتے ہیں۔۔۔۔۔۔

ہم نے جہاں کی خاطر کیا کچھ کیا نہیں ہے۔
اس کو ایسے کر کے دیکھیں۔
ہم نے جہاں کی خاطر کیا کچھ نہیں کیا ہے۔۔


ہیں مشکلیں بھی حائل ،جذبہ جواں ہے پھر بھی
مرے خیال میں یوں بہتر ہو گا۔
حائل ہیں مشکلیں بھی۔۔۔

چھٹا شعر
بھولی نہیں ہیں قومیں ہم بھی تھے ان پہ غالب
اب کھو چکی ہے عظمت باقی نشاں ہے پھر بھی

قومیں نہیں ہیں بھولیں ان پر تھے ہم بھی غالب
کن پر غالب؟؟؟؟؟
یہ شعر مجھے عجیب سا لگ رہا ہے۔۔


ہو گا یہ دین غالب ارشد یقین رکھنا
جس قدر بھی یہ چاہے کارِ گراں ہے پھر بھی
-----------

غالب یہ دین ہوگا۔۔۔۔
چاہے یہ جس قدر بھی۔۔۔۔۔
اساتذہ سے گزارش ہے اگر میں غلط ہو تو راہنمائی فرمانا۔۔
 

الف عین

لائبریرین
یاسر میاں نے مناسب مشورے دئے ہیں مگر 'ہم چاہتے ہیں سب کو....' ہی بہتر ہے۔ لیکن یاسر نے قدر کا غلط تلفظ درست پکر لیا ہے۔ یہ قدر و قیمت والا قدر نہیں، جس قدر، کس قدر میں دال مفتوح ہوتی ہے۔
آباد مومنوں سے سارا جہاں ہے پھر بھی
سارے جہاں میں پھیلی ان کی فغاں ہے پھر بھی
------------- درست

ظالم کا ساتھ دینا شیوہ نہیں ہمارا
دنیا مگر یہ ہم سے کیوں بد گماں ہے پھر بھی
----------------- درست

ہم چاہتے ہیں سب کو اپنا بنا کے جینا
نیّت مگر ہماری زیرِ بیاں ہے پھر بھی
----------- پہلا مصرع تو ٹھیک ہے لیکن دوسرے میں زیر بیاں کی ترکیب عجیب سی ہے، کچھ اور مصرع کہیں

ہم نے جہاں کی خاطر کیا کچھ کیا نہیں ہے
رہتی دراز ہم پر سب کی زباں ہے پھر بھی
------------ زبان کا دراز رہنا محاورہ نہیں، زبان درازی کی جاتی ہے۔

بدلیں گے دن ہمارے ، اس پر یقیں ہے ہم کو
ہیں مشکلیں بھی حائل ، جذبہ جواں ہے پھر بھی
--------------------- یاسر کی اصلاح قبول کر لو، ٹھیک ہو جائے گا

بھولی نہیں ہیں قومیں ہم بھی تھے ان پہ غالب
اب کھو چکی ہے عظمت باقی نشاں ہے پھر بھی
------------- 'ہماری عظمت کھو چکی ہے مگر اس کا نشاں باقی ہے' کہنا تھا نا؟ بغیر ضمیروں کے واضح نہیں ہوتا۔ پہلا مصرع بھی روانی چاہتا ہے

ہو گا یہ دین غالب ارشد یقین رکھنا
جس قدر بھی یہ چاہے کارِ گراں ہے پھر بھی
... یہ چاہے؟ یہ کون؟ شعر واضح نہیں، قدر کی درستی کے بعد بھی۔
 
الف عین
یاسر علی
---------
(اصلاح کے بعد ایک بار پھر)
----------
آباد مومنوں سے سارا جہاں ہے پھر بھی
سارے جہاں میں پھیلی ان کی فغاں ہے پھر بھی
------------
ظالم کا ساتھ دینا شیوہ نہیں ہمارا
دنیا مگر یہ ہم سے کیوں بد گماں ہے پھر بھی
---------------
دنیا میں امن لائیں ، نیّت ہے یہ ہماری
الزام پھر بھی ہم پر ، کوشش عیاں ہے پھر بھی
----------------
ہم نے جہاں کی خاطر کیا کچھ کیا نہیں ہے
مشکوک پھر بھی ہم ہیں ، جھیلا زیاں ہے پھر بھی
-------------
آدھے جہاں پہ غالب کل تک رہے ہیں مومن
عظمت وہ کھو چکی ہے ، باقی نشاں ہے پھر بھی
--------------
کرتے رہیں گے کوشش ، دنیا سنے ہماری
اب تک جو کی ہے محنت سب رائگاں ہے پھر بھی
-------------
بدلیں گے دن ہمارے اس پر یقیں ہے ہم کو
ہیں مشکلیں بھی حائل ، جذبہ جواں ہے پھر بھی
-------------
پھولوں کا پھر سے کھلنا آتا ہے نظر ہم کو
چاہے چمن کا مالی کچھ ناتواں ہے پھر بھی
------------
غالب یہ دین ہو گا ارشد کو یہ یقیں ہے
چاہے یہ جس قدر بھی کارِ گراں ہے پھر بھی
-----------------
 

یاسر علی

محفلین
پھولوں کا پھر سے کھلنا آتا ہے نظر ہم کو
یہ مصرع بحر از خارج ہے۔۔۔

کرتے رہیں گے کوشش دنیا سنے ہماری
اب تک جو کی ہے محنت سب رائگاں ہے پھر بھی
۔
کس چیز کی کوشش کرتے رہو گے دنیا میں ؟؟؟؟؟
یہ واضح نہیں۔
اس طرح سوچ کے دیکھیں ۔۔
کرتے رہیں گے کوشش دنیا میں امن کی ہم۔
 
آخری تدوین:
شکریہ یاسر بھائی ، بہت مناسب مشورے ہوتے ہیں آپ کے ،پھولوں والے مصرعے میں لکھنے میں تھوڑی ترتیب بدل گئ اس لئے بحر سے خارج ہو گیا ، صحیح ترتیب یہ ہے جس سے بحر میں آ جائے گا (پھولوں کا پھر سے کھلنا آتا نظر ہے ہم کو) مشوروں سے نوازتے رہئے بہت بہت شکریہ
 

یاسر علی

محفلین
شکریہ یاسر بھائی ، بہت مناسب مشورے ہوتے ہیں آپ کے ،پھولوں والے مصرعے میں لکھنے میں تھوڑی ترتیب بدل گئ اس لئے بحر سے خارج ہو گیا ، صحیح ترتیب یہ ہے جس سے بحر میں آ جائے گا (پھولوں کا پھر سے کھلنا آتا نظر ہے ہم کو) مشوروں سے نوازتے رہئے بہت بہت شکریہ

شکریہ جناب!
مجھے تو ابھی ایک سال ہی ہوا ہے ۔شاعری کرتے ہوئے۔
اور تین ماہ سے اردو ویب پہ آیا ہوں ۔
اس ویب سے جو کچھ سیکھا ہے۔
اس کو مد نظر رکھتے ہوئے ۔
جو آپ کے کلام میں خامیاں نظر آتی ہیں۔بتا دیتا ہوں۔
اگر مرے کلام کوئی خامی نظر آئے ۔آپ بھی بلا تکلف بتا دیا کریں۔
کیونکہ ابھی میں بھی ابتدائی سٹیج سے گزر رہا ہوں ۔
 

الف عین

لائبریرین
پہلے دونوں شعر تو درست کہہ چکا ہوں
دنیا میں امن لائیں ، نیّت ہے یہ ہماری
الزام پھر بھی ہم پر ، کوشش عیاں ہے پھر بھی
---------------- عجز بیان ہے، بات بنی نہیں

ہم نے جہاں کی خاطر کیا کچھ کیا نہیں ہے
مشکوک پھر بھی ہم ہیں ، جھیلا زیاں ہے پھر بھی
------------- زیاں جھیلنا محاورہ نہیں، زیاں کس کا اور کیوں ہوا ہے، یہ بھی تو بتایا جائے

آدھے جہاں پہ غالب کل تک رہے ہیں مومن
عظمت وہ کھو چکی ہے ، باقی نشاں ہے پھر بھی
-------------- گو کھو چکی ہے عظمت... بہتر رہے گا، باقی درست

کرتے رہیں گے کوشش ، دنیا سنے ہماری
اب تک جو کی ہے محنت سب رائگاں ہے پھر بھی
------------- یاسر کے مجوزہ مصرعے کے ساتھ درست

بدلیں گے دن ہمارے اس پر یقیں ہے ہم کو
ہیں مشکلیں بھی حائل ، جذبہ جواں ہے پھر بھی
------------- مشکلیں بھی حائل ایک سٹیٹمنٹ لگتا ہے، کہنا یہ چاہتے ہیں نا کہ چاہے لاکھ مشکلیں حائل ہوں، الفاظ بدل کر کہو

پھولوں کا پھر سے کھلنا آتا ہے نظر ہم کو
چاہے چمن کا مالی کچھ ناتواں ہے پھر بھی
------------ پہلے مصرع کی ترتیب درست کی بھی جائے تو زبردستی کا مزاحیہ شعر لگتا ہے، نکال ہی دیں

غالب یہ دین ہو گا ارشد کو یہ یقیں ہے
چاہے یہ جس قدر بھی کارِ گراں ہے پھر بھی
----------------- 'چاہے یہ'... 'یہ' کون؟ ارشد؟
دوسرا مصرع ردیف کے ساتھ درست بندش نہیں لگ رہی
 
Top