آئیں تیسواں پارہ یاد کریں، سمجھیں اور سمجھائیں۔

یاسر شاہ

محفلین
وَالنَّازِعَاتِ غَرْقًا ﴿١﴾

قسم ہے ان (فرشتوں) کی جو (کافروں کی روح) سختی سے کھینچتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وَالنَّازِعَاتِ ۔۔۔ قسم ہے کھینچ کا نکالنے والوں کی
غَرْقًا۔۔۔ ڈوب کر
۔۔۔۔
پہلی صفت: نازعات کا لفظ “نزع “ سے نکلا ہے جس کے معنی کسی چیز کو کھینچ کر نکالنے کے ہیں اور غرقاً اس کی تاکید ہے جس کا معنی ہے، ڈوب کر یعنی پوری شدت کے ساتھ۔

اس سے وہ فرشتے مراد ہیں جو کافروں کی روح نکالتے ہیں۔ کافر کی روح آخرت کی مصیبتوں سے گھبرا کر اس کے بدن میں چھپنے کی کوشش کرتی ہے، اس لیے فرشتے اس کے بدن میں گُھس کر سختی سے کھینچ کر اس کی روح کو باہر نکالتے ہیں، جس سے اسے شدید تکلیف ہوتی ہے۔
بعض اوقات یوں لگتا ہے کہ کافر کی جان بہت آسانی سے نکل گئی ہے لیکن یہ آسانی صرف ظاہری ہوتی ہیں اس کی روح کو جو تکلیف ہوتی ہے وہ الله تعالی کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔ چنانچہ اس سختی سے روحانی تکلیف اور سختی مراد ہے ، دیکھنے والے اس کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔

وَّالنّٰشِطٰتِ نَشْطًا (2)
اور جو (مومنوں کی روح کی) گرہ نرمی سے کھول دیتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وَّالنّٰشِطٰتِ ۔۔۔ کھولنے والے
نَشْطًا۔۔۔ گرہ کھولنا
۔۔۔۔
دوسری صفت: اس سے وہ فرشتے مراد ہیں جو مؤمن کی جان نکالنے آتے ہیں۔ فرشتے مؤمنوں کی روح کو نہایت آسانی اور سہولت سے نکالتے ہیں، شدت اور سختی نہیں کرتے؛ کیونکہ مؤمن روح کے سامنے برزخ کا انعام اور ثواب ہوتا ہےجسے دیکھ کر وہ جلدی سے ان کی طرف جانا چاہتی ہے۔ اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے ہوا یا پانی، کسی چیز میں بند ہو اور اس کا ڈھکن کھول دیا جائے، وہ نہایت آسانی اور تیزی سے باہر نکل جاتی ہے، اسی طرح مؤمن کی روح نکلتی ہے
جزاک اللہ خیر۔

اس سورت کی پہلی چار آیتوں میں سے ہر آیت اتفاق سے "مستفعلن" کے وزن پہ ہے ۔چنانچہ کافی عرصہ پہلے یہ تفسیر پڑھ کے دو شعر موزوں کیے تھے۔

ہے روح کو نہایت کافر بدن سے الجھن
الجھا ہوا ہو جیسے کانٹوں کے بیچ دامن
وَالنَّازِعَاتِ غَرْقًا ۔۔وَالنَّازِعَاتِ غَرْقًا

دریا ہے جان _مومن ، دریا کا بند ہے تن
جو بند کھل گیا تو دریا کا دیکھو جوبن
وَّالنّٰشِطٰتِ نَشْطًا۔وَّالنّٰشِطٰتِ نَشْطًا
 

ام اویس

محفلین
ربط آیات: 6۔ تا۔ 14
پچھلی آیات میں قیامت کو شروع کرنے والی یعنی موت کا ذکر تھا۔ اب قیامت کا حال بیان کیا جا رہا ہے۔

يَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُ (6)
کہ جس دن بھونچال (ہر چیز کو) ہلا ڈالے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
يَوْمَ ۔۔۔ دن
تَرْجُفُ ۔۔۔ کانپے گی
الرَّاجِفَۃُ ۔۔۔۔ کانپنے والی
۔۔۔۔
یعنی اے کافرو! تم قیامت کا انکار کرتے ہو ہم قسم کھا کر کہتے ہیں تمہیں مرنے کے بعد دوبارہ ضرور زندہ کیا جائے گا۔ ایک ہلا دینے والی چیز سب چیزوں یعنی زمین، پہاڑ ، درخت وغیرہ ہلا دے گی۔ اس وقت یہ حالت ہو گی کہ ہر چیز لرز جائے گی اور آخر کار فنا و برباد ہو جائے گی۔ یہ سب اس وقت ہوگا جب پہلی بار صور پھونکا جائے گا۔

تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ (7)
پھر اس کے بعد ایک اور جھٹکا آئے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
تَتْبَعُهَ۔۔۔پیچھے آئے گی اس کے
ا الرَّادِفَةُ۔۔۔۔ پیچھے آنے والی
۔۔۔
پہلی دفعہ صور پھونکے جانے کے بعد دوبارہ صور پھونکا جائے گا۔ جو پہلے سے متصل زمانہ ہوگا۔ یعنی یہ دونوں زمانے یوم واحد ہوں گے۔ دوبارہ صور پھونکے جانے سے تمام انسان و حیوان دوبارہ زندہ ہو جائیں گے اور عدالت الہی میں حاضر ہوں گے۔
سوال: دو بار صور پھونکنے کے درمیان کتنا زمانہ ہوگا؟
جواب: ابن عباس رضی اللہ عنہ و دیگر مفسرین کا بیان ہے۔ راجفہ سے مراد پہلا نفخہ ہے اور رادفہ سے مراد دوسرا نفخہ ہے اور ان دونوں کے درمیان چالیس برس کی مدت ہوگی۔
 

ام اویس

محفلین
قُلُوْبٌ يَّوْمَئِذٍ وَّاجِفَةٌ۔ (۸)
اس دن بہت سے دل لرز رہے ہوں گے۔
۔۔۔۔
قُلُوْبٌ ۔۔۔ دل
يَّوْمَئِذٍ۔۔۔ اس دن
وَّاجِفَةٌ۔۔۔ خائف ، ڈرے ہوئے
۔۔۔۔۔
اَبْصَارُهَا خَاشِعَةٌ (9)
ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی۔
۔۔۔
اَبْصَارُهَا ۔۔۔ ان کی آنکھیں
خَاشِعَةٌ۔۔۔ جھکی ہوئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب حاضری ہوگی تو دل مارے خوف کے دھڑک رہے ہوں گے۔ نگاہیں ندامت و شرم اور خوف و ہراس کی وجہ سے جھکی ہوں گی۔ جس طرح مجرم عدالت میں پیش کیے جائیں تو ان کے سر اور نگاہیں احساسِ گناہ کی وجہ سے جھکی ہوتی ہیں۔

يَقُوْلُوْنَ ءَاِنَّا لَمَرْدُوْدُوْنَ فِي الْحَافِرَةِ (10)
یہ (کافر لوگ) کہتے ہیں کہ : کیا ہم پہلی والی حالت پر لوٹا دیئے جائیں گے ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
يَقُوْلُوْنَ ۔۔۔ وہ کہیں گے
ءَاِنَّا ۔۔۔ کیا ہم
لَمَرْدُوْدُوْنَ ۔۔۔ لوٹائے جانے والے
فِي ۔۔۔ میں
الْحَافِرَةِ۔۔۔ دوبارہ ، اسی حال میں
۔۔۔۔
قیامت میں ان کفار کا حال بیان کرنے کے بعد ان کی دنیاوی باتوں کا ذکر ہے۔ دنیا میں ان کے غرور ، تکبر اور لاپروائی کا یہ عالم تھا کہ جب ان کو قیامت برپا ہونے کی خبر دی جاتی تھی تو اس کا مذاق بناتے اور حقارت سے کہتے تھے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے،

ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةً۔ (11)
کیا اس وقت جب ہم بوسیدہ ہڈیوں میں تبدیل ہوچکے ہوں گے ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ءَاِذَا ۔۔۔ کیا جب
كُنَّا۔۔۔ ہم ہوں گے
عِظَامًا۔۔۔ ہڈیاں
نَّخِرَةً۔۔۔ بوسیدہ
۔۔۔۔
دنیا میں وہ کہتے تھے، اتنی مدت گزرنے کے بعد اور ہڈیوں کے مٹی میں مل جانے کے بعد اعضا کو کس طرح دوبارہ اکٹھا کیا جائے گا؟ جب جسم گل سڑ جائے گا اور ہڈیاں بوسیدہ ہو کر ریزہ ریزہ ہو جائیں گی تو انہیں پھرسے پہلی حالت پر دوبارہ کیسے لوٹایا جائے گا؟

قَالُوا تِلْكَ إِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ (12)
کہتے ہیں کہ : اگر ایسا ہوا تو یہ بڑے گھاٹے کی واپسی ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قَالُوا۔۔۔ وہ کہیں گے
تِلْكَ ۔۔۔ یہ
إِذًا ۔۔۔ اس وقت
كَرَّةٌ ۔۔۔لوٹنا
خَاسِرَةٌ۔۔۔ گھاٹے والا
۔۔۔۔۔
دنیا کی زندگی میں یہ بات ان کی ناقص عقل سے باہر تھی، وہ اسے الله کی قدرت سے خارج سمجھتے تھے، اسی لیے ناممکن سمجھ کر کہتے تھے اگر ایسا ہوا، پھر تو ہم بہت گھاٹے میں رہیں گے کیونکہ ہم نے تو اس کے لیے کوئی تیاری ہی نہیں کی۔
 

ام اویس

محفلین
فَاِنَّمَا ھِيَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌ۔ (13)
حقیقت تو یہ ہے کہ وہ بس ایک زور کی آواز ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فَاِنَّمَا ۔۔ پس بے شک
ھِيَ۔۔۔ وہ
زَجْرَةٌ ۔۔۔ ڈانٹ
وَّاحِدَةٌ۔۔۔ ایک
۔۔۔۔۔
اس سب کے جواب میں اللہ تعالی قیامت کا حال بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ دوبارہ زندہ کرنا کوئی مشکل کام نہیں۔ صرف ایک ڈانٹ، ہیبت ناک آواز یا ایک چیخ سنائی دے گی اور سب کے تمام اجزا اکھٹے ہوکر بدن تیار ہو جائیں گے، پھر اسی وقت ان کی روحوں کا تعلق ان کے جسموں سے جوڑ دیا جائے گا۔

فَاِذَا هُمْ بِالسَّاهِرَةِ (14)
جس کے بعد وہ اچانک ایک کھلے میدان میں ہوں گے۔
۔۔۔۔۔۔
فَاِذَا ۔۔ پس جب
هُمْ ۔۔۔ وہ
بِالسَّاهِرَةِ۔۔۔ ساہرہ میں
۔۔۔۔
وہ اس طرح سطح زمین پر زندہ کھڑے ہوں گے گویا سوئے ہوؤں کو جگا دیا گیا ہو اور خود ہی میدانِ حشر میں اللہ تعالی کے سامنے حساب کتاب کے لیے جمع ہو جائیں گے۔
ساھرہ کے دو معنی ہیں۔
۱- لوگ قیامت کے دن فوراً جاگ اٹھیں گے۔ اس میں موت کو نیند سے تشبیہ دی گئی ہے۔ جیسے حدیث مبارکہ میں نیند کو موت جیسا قرار دیا گیا۔ اس صورت میں یہ لفظ لیلۃ الساھرہ سے ماخوذ ہوگا یعنی “رتجگے کی رات “۔ جس طرح نیند کے عالم میں اچھے برے خواب آتے ہیں اسی طرح موت کے عالم میں راحت وعذابِ قبر کی آپس میں مناسبت ہے۔
۲- پھر ایک دم وہ میدان میں حاضر ہو جائیں گے۔

سوال: “ ساھرہ” کیسی جگہ ہو گی اور کہاں ہوگی؟
جواب: اس میں مفسرین کرام کے مختلف اقوال ہیں۔
اس سے مراد زمین ، روئے زمین ، کھلا میدان ، سفید اور ہموار زمین جس میں گھاس پھونس ، پیڑ پودے، عمارت وغیرہ کچھ نہ ہو، ارض القیامہ اور میدانِ حشر وغیرہ ہے۔
یہ بیت المقدس کے قریب والی جگہ ہے یا مکہ ہے یا سر زمینِ شام ہے جس کو اللہ تعالی اتنا وسیع کر دیں گے کہ ساری مخلوق اس پر آ جائے گی۔
 

ام اویس

محفلین
هَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ مُوْسٰى (15)
(اے پیغمبر) کیا تمہیں موسیٰ کا واقعہ پہنچا ہے ؟
۔۔۔۔۔
هَلْ ۔۔۔ کیا(حرف استفہام )
اَتٰىكَ ۔۔۔ آئی آپ کے پاس
حَدِيْثُ ۔۔۔ بات
مُوْسٰى۔۔۔ موسی علیہ السلام

۔۔۔۔۔
اللہ کریم کا یہ سوالیہ انداز نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تسلی کے لیے ہے یعنی آپ کی رسالت اور دعوت توحید کوئی نئی چیز نہیں آپ سے پہلے بھی انبیاء علیھم السلام اللہ کی توحید کی دعوت دینے آتے رہے ہیں اور انہیں بھی اس راستے میں تکلیفوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس کے بعد موسی علیہ السلام اور فرعون کے واقعے کا صرف وہی رُخ یا پہلو بیان کیا گیا ، جس کی یہاں ضرورت محسوس کی گئی۔

إِذْ نَادَاهُ رَبُّهُ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى ﴿16)
جب ان کے پروردگار نے انہیں طوی کی مقدس وادی میں آواز دی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
إِذْ۔۔۔ جب
نَادَاهُ۔۔۔ پکارا اس کو
رَبُّهُ ۔۔۔ اس کے رب نے
بِالْوَادِ ۔۔۔ وادی
الْمُقَدَّسِ۔۔۔ مقدس
طُوًى۔۔۔ طوی
۔۔۔
قصہ موسٰی علیہ السلام
موسی علیہ السلام کا واقعہ قرآن مجید کی بہت سی سورتوں میں بیان کیا گیا ہے جس کی کچھ تفصیل اس طرح سے ہے۔
مصر کا بادشاہ فرعون نہایت ظالم وجابرتھا جو طاقت اور اقتدار کے نشے میں اپنے آپ کو خدا کہتا تھا۔ اس نے بنی اسرائیل کو اپنا غلام بنا لیا تھا۔ اس کے درباری نجومیوں نے اسے خبر دی کہ بہت جلد بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہوگا جو تیری ہلاکت کی وجہ بنے گا۔ فرعون نے حکم دیا: “ بنی اسرائیل میں جس کے گھر بھی بیٹا پیدا ہو اسے قتل کر دیا جائے۔” ان حالات میں موسی علیہ السلام کی پیدائش ہوئی۔ ان کی والدہ نے انہیں قتل سے بچانے کے لیے الله کے حکم سے ایک صندوق میں ڈال کر دریائے نیل میں بہا دیا اور ان کی بہن سے کہا: “دیکھتی رہو صندوق کہاں جاتا ہے؟” صندوق بہتا ہوا فرعون کے محل میں اس کی بیوی آسیہ تک پہنچ گیا۔ اس نے کھولا تو ایک خوبصورت بچے کو دیکھ کر فرعون کی مخالفت کے باوجود اسے اپنا بیٹا بنا لیا۔ موسی علیہ السلام کی بہن کی حکمت سے بچے نے اپنی ماں کے دودھ پر پرورش پائی۔ موسی علیہ السلام اسی فرعون بادشاہ کے محل میں ناز و نعمت کے ساتھ جوان ہوئے۔
ایک دن ایسا ہوا کہ آپ شہر گئے جہاں دو آدمی لڑ پڑے ، جن میں سے ایک حضرت موسی کی قوم سے تھا اور دوسرا فرعونی تھا۔ بنی اسرائیلی شخص نے آپ کو مدد کے لیے بلایا۔ موسی علیہ السلام نے پہلے تو فرعونی کو زبان سے منع کیا ، جب وہ نہیں مانا تو اسے ایک مکا مارا، وہ وہیں گر کر مر گیا۔ دوسرے دن پھر گھر سے نکلے تو وہی بنی اسرائیلی کسی دوسرے فرعونی کے ساتھ جھگڑ رہا تھا۔ اس نے دوبارہ آپ کو مدد کے لیے بلایا ۔ آپ کو سخت غصہ آیا کہ یہ شخص فساد پھیلا رہا ہے، جب آپ اس کی طرف بڑھے تو اس نے شور مچا دیا۔ موسی علیہ السلام ایک بنی اسرائیلی ہمدرد کی مدد سے مصر سے نکلے اور مدین چلے گئے۔
وہاں ایک کنویں پر دو لڑکیاں اپنی بکریوں کو روکے کھڑی تھیں جبکہ دوسرے لوگ پانی پلا رہے تھے۔ موسی علیہ السلام نے ان سے پوچھا کہ وہ اپنی بکریوں کو پانی کیوں نہیں پلا رہیں؟ انہوں نے جواب دیا ہم عورتیں ہیں، جب یہ مرد اپنے جانوروں کو پانی پلا کر چلے جائیں گے پھر ہماری باری آئے گی۔ موسی علیہ السلام نے آگے بڑھ کر ان کی بکریوں کو پانی پلا دیا۔ لڑکیوں نے واپس جا کر اپنے والد شعیب علیہ السلام کو سارا واقعہ سنایا، انہوں نے اپنی لڑکی بھیج کر آپ کو بلوایا۔ موسی علیہ السلام سے سارا واقعہ سن کر انہیں تسلی دی اور اپنی ایک بیٹی کا نکاح ان سے اس شرط پر کر دیا کہ وہ آٹھ سال ان کے پاس رہیں اور اگر چاہیں تو دس سال رہیں۔
موسی علیہ السلام نے مدت پوری کی اور یہ سوچ کر کہ آٹھ دس سال میں لوگ قتل کا واقعہ بھول گئے ہوں گے، شعیب علیہ السلام سے اجازت لے کر وطن واپس روانہ ہو گئے۔ رات کا وقت تھا اور سخت سردی تھی۔ آپ اپنے اہل و عیال کے ہمراہ طور پہاڑ کے قریب پہنچے تو راستہ بھول گئے۔ اہل خانہ کو وہاں ٹھہرا کر کہا سامنے آگ نظر آ رہی ہے۔ میں وہاں سے آگ لے کر آتا ہوں یا پھر ان سے راستہ پوچھ کر آتا ہوں۔ وہاں پہنچے تو دیکھا وہ آگ نہیں تھی بلکہ الله تعالی کا نور یا تجلی تھی جس نے ایک درخت کو گھیرا ہوا تھا۔ جب قریب پہنچے تو اس سے آواز آئی: “ اے موسی! بیشک میں ہی اللہ ہوں۔ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو میری عبادت کیا کرو۔ اور میری یاد کے لئے نماز پڑھا کرو۔ پھر الله تعالی نے فرمایا موسی تمہارے ہاتھ میں کیا ہے؟ جواب دیا عصا یعنی لاٹھی ہے۔ فرمایا اس کو زمین پر ڈال دو۔ آپ نے لاٹھی کو زمین پر پھینکا تو وہ سانپ بن گیا۔ موسی علیہ السلام گھبرا کر بھاگے ، فرمایا اس کو پکڑ لو، یہ دوبارہ لکڑی بن جائے گا۔ پھر فرمایا: اپنے دائیں ہاتھ کو بغل میں دبا کر نکالو۔ آپ نے ایسا ہی کیا، آپ کا وہ ہاتھ چاند کی طرح چمکنے لگا، پھر دوبارہ بغل میں دبا کر نکالا، تو پہلے جیسا ہو گیا۔ اس موقعے پر موسی علیہ السلام کو نبوت اور یہی دو عظیم الشان معجزے عطا کیے گئے۔
إِذْ نَادَاهُ رَبُّهُ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى ۔۔۔ میں اسی واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔
 

ام اویس

محفلین
اذْهَبْ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغَىٰ ﴿17)
کہ : فرعون کے پاس چلے جاؤ، اس نے بہت سرکشی اختیار کر رکھی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
اذْهَبْ ۔۔۔ جاؤ
إِلَىٰ۔۔۔ طرف
فِرْعَوْنَ ۔۔۔ فرعون
إِنَّهُ ۔۔۔ بے شک وہ
طَغَىٰ۔۔۔ سرکش
۔۔۔۔۔
اللہ تعالی نے موسی علیہ السلام کو نبوت سے سرفراز فرمایا، پھر انہیں حکم دیا کہ مصر کے بادشاہ فرعون کے پاس جا کر اسے توحید کی دعوت دیں کیونکہ وہ سرکش ہوگیا ہے۔ چنانچہ موسٰی علیہ السلام فرعون کو دعوتِ حق دینے کے لیے مصر روانہ ہوگئے۔

فَقُلْ هَلْ لَّكَ اِلٰٓى اَنْ تَ۔زَكّٰى (18)
اور اس سے کہو کہ کیا تمہیں یہ خواہش ہے کہ تم سنور جاؤ ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فَقُلْ ۔۔۔ پس کہہ
هَلْ ۔۔ کیا
لَّكَ ۔۔۔ تیرے لیے
اِلٰٓى ۔۔۔ طرف
اَنْ ۔۔۔ یہ کہ
تَزَكّٰى۔۔۔ تو پاک ہو
۔۔۔۔
اللہ تعالی نے موسی علیہ السلام کو حکم دیا کہ فرعون سے جا کر کہوکہ کیا تو چاہتا ہے، تو جسمانی اور روحانی برائی اور خباثت سے پاک صاف ہو جائے اور تیرا برا اخلاق اچھائی میں بدل جائے۔

وَاَهْدِيَكَ اِلٰى رَبِّكَ فَتَخْشٰى (19)
اور یہ کہ میں تمہیں تمہارے پروردگار کا راستہ دکھاؤں تو تمہارے دل میں خوف پیدا ہوجائے ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وَاَهْدِيَكَ ۔۔۔ اور میں دکھاؤں تجھے
اِلٰى ۔۔۔ طرف
رَبِّكَ۔۔۔ تیرا رب
فَتَخْشٰى۔۔۔ پس تو ڈرے
۔۔۔۔۔
اور میں تیرے رب کی طرف تیری راہنمائی کروں تاکہ تو اس کو جان لے اور پہچان کر اس سے ڈرے اور اسی ڈر کی وجہ سے اپنی اصلاح کر لے۔ اس لئے کہ اللہ کا خوف اسی دل میں پیدا ہوتا ہے جو ہدایت پر چلنے والا ہوتا ہے۔
موسی علیہ السلام اللہ کا یہ پیغام لے کر فرعون کے پاس پہنچے۔ اسے دعوتِ توحید دی اور اللہ کے رب العالمین ہونے کی حقیقت سے باخبر کیا۔ یہ سن کر اس نے موسی علیہ السلام سے ان کی نبوت کی نشانی اور ثبوت مانگا۔
 

ام اویس

محفلین
فَاَرٰىهُ الْاٰيَةَ الْكُبْرٰى (20)
چنانچہ اس نے(موسیٰ علیہ السلام نے ) اس کو بڑی زبردست نشانی دکھائی
۔۔۔۔۔۔۔
فَاَرٰىهُ ۔۔۔ پس اس کو دکھائی
الْاٰيَةَ ۔۔۔ نشانی
الْكُبْرٰى۔۔۔ بڑی
۔۔۔۔
موسی علیہ السلام نے اسے ایک بڑی نشانی دکھائی۔ مفسرین کے متفقہ قول کے مطابق وہ نشانی یہ تھی کہ آپ نے اپنا عصا یعنی لاٹھی زمین پر پھینک دی۔ وہ ایک بہت بڑا اژدھا یعنی سانپ بن گیا۔ فرعون اور اس کے درباری ڈر کر بھاگ گئے لیکن اس کے باوجود وہ ایمان نہ لایا۔

فَكَذَّبَ وَعَصٰى (21)
پھر بھی اس نے (انہیں) جھٹلایا، اور کہنا نہیں مانا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فَكَذَّبَ ۔۔۔ پس جھٹلایا اس نے
وَعَصٰى۔۔۔ اور نہ مانا
۔۔۔۔۔
فرعون نے موسی علیہ السلام کے معجزے پر ایمان لانے کی بجائے اس کا انکار کیا اور اسے جھٹلا دیا۔ اللہ تعالی کے حکم کی نافرمانی کرتے ہوئے لوگوں کو دھوکا دینے کے لیے کہنے لگا یہ یعنی موسی (علیہ السلام) تو بہت بڑا جادوگر ہے۔ میں بھی اپنے جادوگروں کو بلاتا ہوں وہ آکر اس کے جادو کا توڑ کریں گے اور اس سے مقابلہ کرکے اسے شکست دے دیں گے۔

ثُمَّ اَدْبَرَ يَسْعٰى (22)
پھر دوڑ دھوپ کرنے کے لیے پلٹا۔
۔۔۔
ثُمَّ ۔۔۔ پھر
اَدْبَرَ ۔۔۔ وہ پِھرا
يَسْعٰى۔۔۔ وہ کوشش کرتا ہے
۔۔۔۔
فَحَشَرَ فَنَادٰى (23)
پھر سب کو اکٹھا کیا اور آواز لگائی۔
۔۔۔۔
فَحَشَرَ ۔۔۔ پس جمع کیا
فَنَادٰى۔۔۔ پس آواز لگائی
۔۔۔۔
فَقَالَ اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى (24)
اور کہا کہ : میں تمہارا اعلی درجے کا پروردگار ہوں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فَقَالَ ۔۔۔پس کہا
اَنَا ۔۔۔ میں
رَبُّكُمُ ۔۔۔ تمہارا رب
الْاَعْلٰى۔۔۔ اعلی
۔۔۔۔۔
وہاں سے جانے کے بعد فرعون موسی علیہ السلام کے خلاف سازشیں کرنے اور فساد پھیلانے لگا، اس نے لوگوں کو جمع کیا اور ان کے سامنے تقریر کی اور کہا میں ہی تمہارا حاکمِ اعلی ہوں، میرے سوا کوئی اور اتنی طاقت اور شان و شوکت کا مالک نہیں۔
چنانچہ اس کے جادوگروں سے موسی علیہ السلام کا مقابلہ ہوا۔ جادوگروں نے رسیاں ڈالیں جو جادو سے سانپ بن گئیں۔ جب موسی علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے عصا یعنی لاٹھی کو زمین پر ڈالا تو وہ بہت بڑا اژدھا بن کر ان سارے سانپوں کو کھا گیا۔ جادوگر یہ دیکھ کر اللہ کی وحدانیت اور موسی علیہ السلام کی رسالت پر ایمان لے آئے لیکن فرعون پھر بھی نہ مانا۔
 

ام اویس

محفلین
فَاَخَذَهُ اللّٰهُ نَكَالَ الْاٰخِرَةِ وَالْاُوْلٰى (25)
نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے اسے آخرت اور دنیا کے عذاب میں پکڑ لیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فَاَخَذَهُ ۔۔۔ پس پکڑا اس کو
اللّٰهُ ۔۔۔ الله
نَكَالَ۔۔۔ عبرت
الْاٰخِرَةِ۔۔۔ آخری
وَالْاُوْلٰى۔۔۔ پہلا
۔۔۔۔۔
نکال ایسے عذاب کو کہا جاتا ہے جسے دیکھ کر سب سہم جائیں۔ نکالِ آخرت فرعون کے لیے آخرت کا عذاب ہے اور نکال اولی دنیا کا عذاب ہے۔
موسی علیہ السلام بنی اسرائیل کوجب مصر سے لے کر چلے تو الله کے حکم سے دریا میں بارہ راستے بن گئے۔فرعون نے بھی بنی اسرائیل کے پیچھے دریا کے راستوں پر لشکر ڈال دیا۔ لیکن الله جل جلالہ نے اس کو عذاب کی گرفت میں لے لیا اور دنیا میں یہ عبرت ناک سزا دی کہ فرعون اور اس کے لشکر کو دریائے قلزم میں غرق کر دیا اور اس کی لاش کو باہر پھینک دیا تاکہ لوگوں کے لیے عبرت کی وجہ بن جائے ۔ فرعون کی لاش آج تک مصر میں محفوظ ہے۔

اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّمَنْ يَّخْشٰى (26)
حقیقت یہ ہے کہ اس واقعے میں اس شخص کے لیے بڑی عبرت ہے جو اللہ کا خوف دل میں رکھتا ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اِنَّ ۔۔۔ بے شک
فِيْ۔۔۔ میں
ذٰلِكَ۔۔۔ یہ
لَعِبْرَةً ۔۔۔ البتہ عبرت
لِّمَنْ ۔۔۔ اس کے لیے
يَّخْشٰى۔۔۔ وہ ڈرتا ہے
۔۔۔۔۔
اس قصے میں متقین کے لیے بڑی عبرت و نصیحت ہے۔ انبیاء علیھم السلام کی دعوت بالکل سچی ہوتی ہے۔ اس کا انکار اور مخالفت کرنے سے دنیا و اُخرت دونوں برباد ہو جاتی ہیں۔ انکا مقابلہ کرنے والے کا انجام بہت برا ہوتا ہے وہ سزا سے نہیں بچ سکتے۔
اے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم آپ پریشان نہ ہوں آپ کے مخالفین کا بھی آخر کار یہی انجام ہوگا۔ آپ تسلی رکھیں الله سبحانہ وتعالی ان کو تباہ و برباد کر دے گا۔
 

ام اویس

محفلین
ربط آیات: 27 تا 33
گزشتہ آیات میں موسی علیہ السلام و فرعون کا قصہ بطورِ تسلی و عبرت بیان کرنے کے بعد ان آیات سے پھر اصل مضمون کا ذکر شروع ہوتا ہے یعنی دلائل قدرت سے یہ ثابت کرنا کہ قیامت ضرور قائم ہو گی اور منکرین کے اس شبہ کا جواب؛ جو کہتے ہیں کہ ہم مرنے کے بعد کیسے زندہ ہوں گے؟

ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَاۗءُ ۭ بَنٰىهَا (27)
(انسانو!) کیا تمہیں پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے یا آسمان کو ؟ اس کو اللہ نے بنایا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ءَاَنْتُمْ ۔۔۔ کیا تم
اَشَدُّ ۔۔۔ سخت
خَلْقًا ۔۔۔ تخلیق
اَمِ ۔۔۔ یا
السَّمَاۗءُ ۭ ۔۔۔ آسمان
بَنٰىهَا۔۔۔ اس نے بنایا اس کو
۔۔۔۔۔
قیامت اور جزا و سزا کا انکار کرنے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ کافر کسی مُردہ کے زندہ ہونے کو بہت مشکل سمجھتے ہیں۔ ﷲ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ جب تم مانتے ہو کہ آسمان ﷲ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے تو پھر اِنسان کو دوبارہ پیدا کرنا اُس کے لئے کیا مشکل ہے؟
تم ذرا اپنی عقل سے سوچ کر بتاؤ کہ تمہیں پہلی یا دوسری بار پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے یا اتنے بڑے آسمان کو پہلی بار بنانا زیادہ مشکل ہے، جس قادر مطلق نے اتنا عظیم الشان آسمان بغیر ستونوں کے پیدا کیا، اس کے لیے اس چھوٹے سے انسان کو دوبارہ زندہ کرنا بالکل بھی مشکل نہیں ۔ الله تعالی انسان کو دوبارہ پیدا کرنے پر پوری قدرت رکھتا ہے کیونکہ اسی انسان کو وہ پہلے بھی پیدا کر چکا ہے۔ اس بات کا انکار سوائے ضد کے کچھ بھی نہیں۔

رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوّٰىهَا (28)
اس کی بلندی اٹھائی ہوئی ہے، پھر اسے ٹھیک کیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رَفَعَ ۔۔۔ بلند کیا
سَمْكَهَا ۔۔۔ اس کی بلندی
فَسَوّٰىهَا۔۔۔ پس برابر کیا
۔۔۔۔
ان آیات میں آسمان کو تخلیق کرنے کی کیفیت کا بیان ہے کہ الله سبحانہ و تعالی نے کس طرح کسی ستون اور دیوار کے سہارے کے بغیر آسمان کی چھت کو بہت بلند کر کے اس کو بالکل برابر کر دیا۔ ایسا درست اور ہموار بنایا کہ اس میں کہیں کوئی اونچ نیچ یا کوئی جوڑ اور پیوند نہیں ہے۔ پھر آسمان کو سورج ، چاند اور ستارے وغیرہ مختلف چیزوں سے سجا دیا۔
 

ام اویس

محفلین
وَاَغْطَشَ لَيْلَهَا وَاَخْرَجَ ضُحٰىهَا (29)
اور اس کی رات کو اندھیری بنایا ہے، اور اس کے دن کی دھوپ باہر نکال دی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وَاَغْطَشَ ۔۔۔اس نے تاریک بنایا
لَيْلَهَا ۔۔۔ اس کی رات
وَاَخْرَجَ۔۔۔ اور نکالا
ضُحٰىهَا۔۔۔ اس کی روشنی
۔۔۔۔۔
مقصد یہ ہے کہ الله تعالی نے اس آسمان میں سورج پیدا کیا ہے۔ جب تک وہ اہل زمین کے سامنے رہتا ہے تو ان کے لیے دھوپ کا وقت اور دن ہوتا ہے اور جب وہ غروب ہوجاتا ہے اور چھپ جاتا ہے تو یہ ان کے لیے رات کا وقت ہوتا ہے۔ دن کو روشن بنایا تاکہ رزق تلاش کر سکو اور رات کو تاریک بنایا تاکہ آرام کر سکو۔
سوال: وَاَغْطَشَ لَيْلَهَا وَاَخْرَجَ ضُحٰىهَا۔ میں رات اور دن کو آسمان کی طرف کیوں منسوب کیا گیا؟
جواب: سورج غروب ہونے سے رات آتی ہے اور سورج طلوع ہونے سے دن نکلتا ہے ۔ سورج کا تعلق آسمان سے ہے اس لیے رات اور دن کی نسبت بھی آسمان کی طرف کر دی۔
رات کے لیے ڈھانکنے کا لفظ اس معنی میں استعمال کیا گیا ہے سورج غروب ہونے کے بعد رات کی تاریکی اس طرح زمین پر چھا جاتی ہے جیسے اوپر سے اس پر پردہ ڈال کر ڈھانک دیا گیا ہو ۔
 

ام اویس

محفلین
وَالْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِكَ دَحٰىهَا (30)
اور زمین کو اس کے بعد بچھا دیا ہے۔

اَخْرَجَ مِنْهَا مَاۗءَهَا وَمَرْعٰىهَا (31)
اس میں سے اس کا پانی اور اس کا چارہ نکالا ہے۔

وَالْجِبَالَ اَرْسٰىهَا (32)
اور پہاڑوں کو گاڑھ دیا ہے۔

مَتَاعًا لَّكُمْ وَلِاَنْعَامِكُمْ (33)
تاکہ تمہیں اور تمہارے مویشیوں کو فائدہ پہنچائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وَالْاَرْضَ ۔۔۔ اور زمین
بَعْدَ۔۔۔ بعد
ذٰلِكَ۔۔۔ اس کے
دَحٰىهَا۔۔۔اس نے پھیلایا اسے، اسے وسعت دی ، اس کے مقر سے الگ کیا
۔۔۔۔۔
اَخْرَجَ ۔۔۔ اس نے نکالا
مِنْهَا۔۔۔ اس سے
مَاۗءَهَا۔۔۔ اس کا پانی
وَمَرْعٰىهَا۔۔۔ اور اس کا چارہ
۔۔۔۔
وَالْجِبَالَ ۔۔۔ اور پہاڑ
اَرْسٰىهَا۔۔۔ ثبات دیا ، جمایا ان کو
۔۔۔
مَتَاعًا۔۔۔ منافع
لَّكُمْ ۔۔۔ تمہارے لیے
وَلِاَنْعَامِكُمْ۔۔۔ اور تمہارے چوپایوں کے لیے
۔۔۔۔
الله تعالی نے آسمان کو پیدا کرنے کے بعد زمین کو بچھایا۔ پھر زمین میں پانی کے چشمے پیدا کر دئیے، گھاس اور چارہ پیدا کردیا۔ چارے سے مراد اس جگہ صرف جانوروں کا چارہ نہیں ہے بلکہ تمام نباتات مراد ہیں جو انسان اور حیوان دونوں کی غذا کے کام آتے ہیں ۔ پھر اس پر مضبوط پہاڑ بنا دئیے تاکہ زمین ادھر ادھر ڈولتی نہ رہے۔ یہ سب کچھ تمہارے اور تمہارے جانوروں کے نفع کے لیے کیا۔ جو ذات ان چیزوں کو پیدا کر سکتی ہے یقین کرلو کہ وہ تمہیں بھی دوبارہ زندہ کر سکتی ہے۔
سوال: ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ آسمان کو پہلے بنایا گیا زمین کو بعد میں جبکہ قرآن مجید کی دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین کو پہلے اور آسمان کو بعد میں پیدا کیا گیا۔ بظاہر آیات میں اختلاف ہے؟
جواب: کوئی اختلاف نہیں۔
زمین اور آسمان دونوں کو اکٹھا بنایا گیا۔
۱- جہاں یہ بیان ہے کہ زمین پہلے پیدا کی گئی آسمان بعد میں اس سے مراد کہ زمین کے مادے کو پہلے پیدا کیا گیا پھر آسمان کے مادے کو پیدا کیا گیا۔ لیکن جب بچھانے کا وقت آیا تو پہلے آسمان کو پھیلایا گیا پھر زمین کو جیسا کہ یہاں ذکر کیا گیا ہے۔
۲- لوگوں کو سمجھانے کے لیے الله تعالی نے قرآن مجید میں یہ انداز اختیار کیا ہے کہ جہاں اللہ تعالی کی قدرت اور اختیار کو ظاہر کرنا ہو وہاں آسمانوں کا ذکر پہلے ہے اور زمین کا بعد میں۔ جہاں لوگوں کو اپنی نعمتوں کا احساس دلانا ہو، جو انہیں زمین پر حاصل ہو رہی ہیں وہاں زمین کا ذکر آسمانوں سے پہلے ہے۔
فائدہ: حضرت تھانوی رحمہ الله نے بیان القرآن میں فرمایا جس کا مفہوم یہ ہے کہ پہلے زمین کا مادہ بنا اورابھی اس کی موجودہ شکل نہیں بنی تھی کہ آسمان کا مادہ بنایا گیا، جو دخان یعنی دھویں کی شکل میں تھا، اس کے بعد زمین کو موجودہ شکل میں پھیلا دیا اور اس پر پہاڑ، درخت وغیرہ پیدا کیے گئے پھر آسمان کے مادے سے سات آسمان بنا دئیے گئے۔
 

ام اویس

محفلین
ربط آیات:34 تا 41
دلائلِ قدرت بیان کرنے کے بعد الله تعالی نے موت کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کو ثابت کیا اور اب ان آیات سے دوبارہ زندہ ہونے کے بعد کے واقعات اور قیامت کے دن کی شدت کا بیان ہے۔ اعمال کے سامنے آجانے اور اہل جنت و اہل جہنم دونوں کے ٹھکانے کا ذکر کرکے آخر میں ان دونوں کی خاص خاص نشانیاں بتائی گئی ہیں۔

فَاِذَا جَاۗءَتِ الطَّاۗمَّةُ الْكُبْرٰى (34)
پھر جب وہ سب سے بڑا ہنگامہ برپا ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فَاِذَا ۔۔۔ پس جب
جَاۗءَتِ ۔۔۔ آئے گی
الطَّاۗمَّةُ ۔۔۔ مصیبت
الْكُبْرٰى۔۔۔ بڑی
۔۔۔۔۔
جس وقت سب سے بڑی مصیبت یعنی قیامت آ جائے گی۔ طامہ ایسی بڑی مصیبت اور آفت کو کہتے ہیں جو سمندر کے پانی کی طرح سب پر چھا جائے۔ اس کے ساتھ الکبری یعنی بہت بڑی کا لفظ قیامت کی مزید ہولناکی اور تاکید کو ظاہر کرنے کے لیے ہے۔ قیامت ایسی بڑی مصیبت ہوگی جو ہر طرف چھا جائے گی اور کوئی اس سے بچ نہیں پائے گا۔

يَوْمَ يَتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ مَا سَعٰى (35)
جس دن انسان اپنا سارا کیا دھرا یاد کرے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
يَوْمَ ۔۔۔ دن
يَتَذَكَّرُ ۔۔۔ یاد کرے گا
الْاِنْسَانُ ۔۔۔ انسان
مَا سَعٰى۔۔۔ جو کوشش کی
۔۔۔۔
اس دن ہر شخص اپنے اعمال کو یاد کرے گا جن کو بہت مدت گزر جانے کے بعد بھول چکا ہوگا۔ یعنی جب انسان دیکھ لے گا کہ وہی محاسبہ کا دن آ گیا ہے جس کی اسے دنیا میں خبر دی جا رہی تھی ، تواس سے پہلے کہ اس کا نامہ اعمال اس کے ہاتھ میں دیا جائے، اسے ایک ایک کر کے اپنے سارے کام یاد آنے لگیں گے ، جو وہ دنیا میں کرتا رہا تھا ۔ بعض لوگوں کو یہ تجربہ اس دنیا میں بھی ہوتا ہے کہ اگر کسی وقت وہ کسی ایسے خطرے سے دوچار ہو جائیں، جس میں موت ان کو بالکل قریب کھڑی نظر آنے لگے تو اپنی پوری زندگی کے سارے اچھے برے اعمال نظروں کے سامنے آ جاتے ہیں ۔
یا پھر یہ کہ جب نامۂ اعمال اس کے سامنے لایا جائے گا تو اسے دیکھتے ہی انسان کو اپنے تمام اعمال یاد آ جائیں گے۔

وَبُرِّزَتِ الْجَحِيْمُ لِمَنْ يَّرٰى (36)
اور دوزخ ہر دیکھنے والے کے سامنے ظاہر کردی جائے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وَبُرِّزَتِ ۔۔۔ اور ظاہر کی جائے گی
الْجَحِيْمُ۔۔۔ دوزخ
لِمَنْ۔۔۔اس شخص کے لیے
يَّرٰى۔۔۔دیکھتا ہے
۔۔۔۔
مؤمن اور کافر سب جہنم کو دیکھ لیں گے۔ مومن اس سے بچائے جانے پر اللہ کا شکر ادا کریں گے اور کافر شدید حسرت و افسوس میں مبتلا ہوں گے۔
اگلی آیات میں اہل جنت اور اہل جہنم کی خاص علامتیں بتائی گئی ہیں۔ ان نشانیوں کو دیکھ کر انسان دنیا میں بھی پہچان سکتا ہے کہ اس کا ٹھکانا جنت ہو گا یا جہنم۔ البتہ جن لوگوں کے حق میں کسی قسم کی سفارش یا شفاعت قبول ہوگئی وہ الله جل شانہ کی رحمت سے جہنم سے نکال کر جنت میں ڈال دئیے جائیں گے۔ (جیسا کہ بعض روایات اور آیات میں آیا ہے)
 

ام اویس

محفلین
فَاَمَّا مَنْ طَغٰى (37)
تو وہ جس نے سرکشی کی تھی۔

وَاٰثَرَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا (38)
اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فَاَمَّا۔۔۔ پس لیکن
مَنْ۔۔۔ جو
طَغٰى۔۔۔ سرکشی کی
وَاٰثَرَ ۔۔۔ اور ترجیح دی
الْحَيٰوةَ ۔۔۔ زندگی
الدُّنْيَا۔۔۔ دنیا
۔۔۔۔
پہلے اہلِ جہنم کی دو خاص نشانیاں بتائی گئی ہیں۔
۱- طغیان یعنی سرکشی: الله اور اس کے رسول کے حکم کی فرمانبرداری کرنے کی بجائے جانتے بوجھتے انکار کرنا۔
۲- دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دینا۔ یعنی جب شریعت کسی ایسے کام کا حکم دے جسے کرنے کے لیے دنیا میں مشکل اور سختی برداشت کرنی پڑے اس کو چھوڑ دینا۔ جس کام میں دنیاوی لذت اور خوشی ملتی ہو اسے کر لینا اور آخرت میں اس کام کی سزا اور عذاب کو نظر انداز کردینا۔

فَاِنَّ الْجَحِيْمَ ھِيَ الْمَاْوٰى (39)
تو دوزخ ہی اس کا ٹھکانا ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔۔
فَاِنَّ ۔۔۔ پس بے شک
الْجَحِيْمَ ۔۔۔ دوزخ
ھِيَ ۔۔۔ وہی
الْمَاْوٰى۔۔۔ ٹھکانہ
۔۔۔۔
جو شخص دنیا میں ان دونوں کاموں میں مبتلا ہوجائے اس کے لیے فرمایا: فَان الجحیم ھی المأوٰی (یعنی جہنم ہی اس کا ٹھکانہ ہے) ۔
 

ام اویس

محفلین
وَاَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰى(40)
لیکن وہ جو اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا ہونے کا خوف رکھتا تھا اور اپنے نفس کو بری خواہشات سے روکتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وَاَمَّا ۔۔۔ اور لیکن
مَنْ ۔۔۔ جو
خَافَ ۔۔۔ ڈر گیا
مَقَامَ۔۔۔ کھڑا ہونا
رَبِّهٖ ۔۔۔ اس کا رب
وَنَهَى۔۔۔ اور روکا اس نے
النَّفْسَ ۔۔۔ نفس
عَنِ۔۔۔ سے
الْهَوٰى۔۔۔ خواہش
۔۔۔۔۔۔
اہل جنت کی دو علامات:
۱- وہ شخص جنتی ہے جسے ہر وقت ، ہر کام کے دوران یہ خوف ہو کہ ایک دن الله تعالی کے سامنے مجھے اس کام کا حساب دینا ہے۔
۲- اور وہ شخص جو اپنے نفس پر اس طرح قابو پا لے کہ ناجائز اور حرام کام کرنا تو دور کی بات اس کی خواہش سے بھی خود کو روک لے۔
دونوں شرائط کا تعلق ایک ہی بات سے ہے جسے الله کے سامنے ہر کام کا جواب اور حساب دینے کا خوف ہوگا وہ اپنے نفس کو ناجائز خواہشات سے یقینا روک کر رکھے گا۔ کیونکہ درحقیقت الله کا خوف ہی انسان کو اتباع ھوا یعنی خواہشات کی پیروی سے روک سکتا ہے۔

فَاِنَّ الْجَنَّةَ ھِيَ الْمَاْوٰى (41)
تو جنت ہی اس کا ٹھکانا ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فَاِنَّ ۔۔۔ پس بے شک
الْجَنَّةَ۔۔۔ جنت
ھِيَ۔۔۔ وہ
الْمَاْوٰى۔۔۔ ٹھکانا، واپس لوٹنے کی جگہ
۔۔۔۔۔
جس میں یہ دونوں خصوصیات پیدا ہو جائیں اس کو یہ خوش خبری ہے۔ فانّ الجنة ھی المأوٰی ( پس بے شک جنت اس کا ٹھکانہ ہے)
فائدہ: نفس کی خواہشات روکنے کے تین درجے ہیں۔
۱- پہلا یہ کہ وہ غلط عقائد سے محفوظ رہے۔
۲- کسی گناہ یا الله کی نافرمانی کا ارادہ کرے پھر اسے یاد آ جائے کہ مجھے اس بات کا الله کے سامنے جواب دینا ہے۔ اس وجہ سے وہ گناہ کو چھوڑ دے۔
اس درجے کی تکمیل اس سے ہوتی ہے کہ وہ شبھات کو بھی چھوڑ دے، یعنی جس کام میں معمولی سا بھی شبہ ہو اسے چھوڑ کر یقینی حکم کو اختیار کرے اورہر کام میں اپنے آپ کو ریا کاری سے بچانے کی کوشش کرے۔
۳-خواہش نفس کو روکنے کا تیسرا اور اعلی ترین درجہ یہ ہے کہ کثرت سے الله کا ذکر، مجاہدہ اور ریاضت کرکے اپنے نفس کو پاک کرلے۔ ایسا شخص الله کا ولی بن جاتا ہے۔
 

ام اویس

محفلین
يَسْئَلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَيَّانَ مُرْسٰهَا (42)
یہ لوگ تم سے قیامت کی گھڑی کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ وہ کب قائم ہوگی ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
يَسْئَلُوْنَكَ ۔۔۔ وہ سوال کرتے ہیں آپ سے
عَنِ۔۔۔ سے
السَّاعَةِ ۔۔۔ قیامت
اَيَّانَ۔۔۔ کس وقت
مُرْسٰهَا۔۔۔واقع ہونا اس کا
۔۔۔
جب کافروں کے سامنے قیامت کے ہولناک حالات اور جزا و سزا کا ذکر کیا جاتا ہے تو وہ فوراً سوال کرتے ہیں کہ جب قیامت کا آنا لازم ہے تو پھر اس کا کوئی مقرر وقت بھی ہوگا، ہمیں بتاؤ کہ قیامت کب آئے گی؟ یہ سوال بیوقوفوں والا ہے اور یہ ایسا سوال ہے جیسے بیمار اپنی بیماری کے علاج کے لیے طبیب کے پاس جائے۔ طبیب اس سے کہے تمہیں خطرناک بیماری ہے اس کا علاج کرواؤ اور مریض علاج کروانے کی بجائے اپنے ڈاکٹر سے پوچھنے لگے مجھے بتاؤ میں کب مروں گا؟ حالانکہ اس کو علاج پر توجہ دینی چاہیے۔

فِيْمَ اَنْتَ مِنْ ذِكْرٰىهَا (43)
تمہارا یہ بات بیان کرنے میں کیا کام ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فِيْمَ ۔۔۔ کس میں
اَنْتَ۔۔۔ آپ
مِنْ۔۔۔ سے
ذِكْرٰىهَا۔۔۔ اس کا ذکر
۔۔۔۔
کفار اور مشرکینِ مکہ چونکہ بار بار نبی کریم صلی الله علیہ وآلہ وسلم سے قیامت کے احوال اور اس کے واقع ہونے کے وقت کے متعلق سوال کرتے تھے اسی لیے نبی کریم صلی الله علیہ وآلہ وسلم بھی جبرائیل علیہ السلام سے بار بار قیامت کے بارے میں پوچھنے لگے ۔ الله تعالی نے فرمایا: آپ کس چیز میں پڑے ہوئے ہیں؟ آپ بار بار قیامت کے وقت کے متعلق سوال نہ کریں کیونکہ مصلحت کی وجہ سے ہم نے اس کا وقت چھپا رکھا ہے کسی کو اس کی خبر نہیں دی۔ وقت سے پہلے ان کو خبر دے بھی دی جائے تب بھی یہ نہیں مانیں گے بلکہ قیامت کو دور سمجھ کر گناہوں اور نافرمانی میں مشغول ہو جائیں گے۔

اِلٰى رَبِّكَ مُنْتَهٰهَا (44)
اس کا علم تو تمہارے پروردگار پر ختم ہے۔
۔۔۔۔
اِلٰى ۔۔۔ طرف
رَبِّكَ ۔۔۔ تیرا رب
مُنْتَهٰهَا۔۔۔ اس کی انتہا
۔۔۔۔
قیامت کے علم کی انتہاء صرف الله جل جلالہ کے پاس ہے۔ صرف وہ ہی جانتا ہے کہ کب قیامت واقع ہو گی اور اس نے قیامت کے برپا ہونے کا علم کسی کو نہیں دیا۔
 
Top