زیدی

  1. طارق شاہ

    محسن زیدی ::::::کوئی پیکر ہے، نہ خوشبو ہے، نہ آواز ہے وہ :::::: Mohsin Zaidi

    غزل کوئی پیکر ہے، نہ خوشبُو ہے، نہ آواز ہے وہ ہاتھ لگتا ہی نہیں، ایسا کوئی راز ہے وہ ایک صُورت ہے جو مِٹتی ہے، بَنا کرتی ہے کبھی انجام ہے میرا ،کبھی آغاز ہے وہ اُس کو دُنیا سے مِری طرح ضَرر کیوں پُہنچے میں زمانے کا مُخالِف ہُوں، جہاں ساز ہے وہ لوگ اُس کے ہی اِشاروں پہ اُڑے پِھرتے ہیں بال...
  2. طارق شاہ

    باؔقر زیدی ::::: خالقِ حُسنِ کائنات ہے وہ::::: Baquer Zaidi

    نظم اللہ جمیلُ و یحبُ الجمال (اللہ حَسِین ہے اور حُسن سے محبّت کرتا ہے) خالقِ حُسنِ کائنات ہے وہ خالقِ کُلِّ ممکنات ہے وہ خالقِ کائناتِ حُسن ہی حُسن اُس کی ذات و صِفات حُسن ہی حُسن حُسن سے مُنکشف نمودِ خُدا حُسن ہی حُسن ہے وجودِ خُدا سر بَسر حُسنِ نُورِ ذات ہے وہ صاحبِ مظہَرِ صِفات ہے وہ...
  3. طارق شاہ

    باؔقر زیدی ::::: اب تو ایسی کوئی گھڑی آئے! ::::: Baquer Zaidi

    غزل اب تو ایسی کوئی گھڑی آئے! حُسن کو خود سُپردگی آئے اب ہَمَیں دے گی کیامزہ یہ شراب ہم تو آنکھوں سے اُس کی، پی آئے دُشمنوں سے بھی راہ و رسم بڑھیں دوستوں میں جو کچھ کمی آئے دِل کے آنگن میں کُچھ اندھیرا ہے کسی مُکھڑے کی روشنی آئے اِس طرح آرہا ہے دِل کا مکیں...
  4. طارق شاہ

    باقر زیدی ::::: ذکر اُس کا اگر پیکرِ اشعار میں آوے ::::: Baquer Zaidi

    باقر زیدی غزل ذکر اُس کا اگر پیکرِ اشعار میں آوے کیا کیا نہ مزہ لذّتِ گُفتار میں آوے مطلُوبِ نظر چشمِ طلبگار میں آوے سُورج کی طرح رَوزن دِیوار میں آوے رکھّا ہے قدم حضرتِ غالب کی زمیں پر کُچھ اور بُلندی مِرے افکار میں آوے سچ پُوچھو تو مجھ کو بھی وہی وجہ سکوں ہے وہ چین، جو تجھ کو مِرے...
  5. طارق شاہ

    باقر زیدی :::: زخمِ دل جب ہرا سا لگتا ہے -- Baquer Zaidi

    غزلِ باقر زیدی زخمِ دِل جب ہرا سا لگتا ہے وہ ستمگر، بَھلا سا لگتا ہے کل کہیں جانِ جاں نہ بن جائے اجنبی ، آشنا سا لگتا ہے کیا کریں اُس کی بے رُخی کا گِلہ شہر بھر بے وفا سا لگتا ہے اُس کے لہجے کا زہر تو دیکھو آدمی دِل جلا سا لگتا ہے وہ رگِ جاں سے بھی قریب سہی پاس رہ کر، جُدا سا...
  6. طارق شاہ

    باقر زیدی :::: دل پہ کرتے ہیں دماغوں پہ اثر کرتے ہیں - Baqar Zaidi

    غزل (2) باقرزیدی دل پہ کرتے ہیں دماغوں پہ اثر کرتے ہیں ہم عجب لوگ ہیں ذہنوں میں سفر کرتے ہیں جب سراپے پہ کہیں اُن کی نظر کرتے ہیں میر صاحب کی طرح عمْربسر کرتے ہیں بندشیں ہم کو کسی حال گوارا ہی نہیں ہم تو وہ لوگ ہیں دِیوار کو در کرتے ہیں وقت کی تیز خرامی ہمیں کیا روکے گی! جُنبشِ کلک سے...
  7. طارق شاہ

    باقر زیدی :::: بالا نشینِ مسندِ دربار ہم نہ تھے Baqar Zaidi

    غزل (1) باقرزیدی بالا نشینِ مسندِ دربار ہم نہ تھے شاہوں کی سلطنت کے وفادار ہم نہ تھے نقدِ سُخن تھے حرفِ سُبکبار ہم نہ تھے غالب کے قدرداں تھے طرفدار ہم نہ تھے ایسا نہیں ہُوا کہ سرِ دار ہم نہ تھے مانا کہ اُس قبیلے کے سردار ہم نہ تھے وہ حُبِ ذات جس نے ڈبویا ہے قوم کو اُس لشکرِ اَنا کے...
  8. طارق شاہ

    باقر زیدی -- یہ آشنا کا ہے، نہ کسی اجنبی کا ہے

    غزلِ باقرزیدی یہ آشنا کا ہے، نہ کسی اجنبی کا ہے جو دل میں گھر بناتا ہے، دل تو اُسی کا ہے میرے ہُنر کا ہے، نہ مِری شاعری کا ہے غزلوں سے میری، شہرمیں چرچا اُسی کا ہے بدلے حَسِیں، تو عشق کی دنیا بدل گئی جو دل کسی کا ہوتا تھا، اب ہر کسی کا ہے کیوں ڈھونڈتے ہیں لوگ کسی اور راہ کو سیدھا تو ایک...
  9. طارق شاہ

    باقر زیدی --- جب نظر حُسن رَسا ہوتی ہے

    غزل باقر زیدی جب نظر حُسن رَسا ہوتی ہے ہر قدم لغزشِ پا ہوتی ہے اُس کے ملبوسِ بدن کی خوشبو کِس قدر ہوش رُبا ہوتی ہے خود کو خود سے ہی چُھپا رکھنے میں کیا ستمگر سی ادا ہوتی ہے سُرخ پھُولوں پہ ہو شبنم جیسے عارضوں پر وہ حیا ہوتی ہے اب کہاں وہ نگہِ مہر کہ جو دونوں عالم سے سوا ہوتی ہے...
Top