حسن رضوی

  1. عمراعظم

    ٹھہرے پانی کو وہی ریت ’پرانی دےدے۔۔۔حسن رضوی

    ٹھہرے پانی کو وہی ریت ’پرانی دےدے میرے مولا میرے دریا کو روانی دےدے آج کے دن کریں تجدیدِ وفا دھرتی سے پھر وہی صبح وہی شام سہانی دےدے تیری مٹی سے مرا بھی تو خمیر ’اٹھا ہے میری دھرتی تو مجھے میری کہانی دےدے وہ محبت جسے ہم بھول چکے برسوں سے ’اس کی خوشبو ہی بطور اک نشانی دےدے تپتے صحراؤں پہ...
  2. عمراعظم

    تیرے بعد جانے یہ کیا ہواہرے آسماں کو ترس گئے (حسن رضوی)

    تیرے بعد یہ کیا ہوا ہرے آسماں کو ترس گئے گھِرے ہم بھنور میں اس طرح کھلے بادباں کو ترس گئے مرے شہر کے جو چراغ تھے ’انہیں آندھیوں نے بجھا دیا چلی ایسی اب کے ہوائے دل کہ مکیں مکاں کو ترس گئے یہ عجیب خوف و ہراس ہےکوئی دور ہے کوئی پاس ہے وہ جو آشیاں کے تھے پاسباں وہی آشیاں کو ترس گئے جنہیں پیار پر...
  3. پ

    غزل - پیار کرنے والوں کا بس یہی فسانہ ہے -حسن رضوی

    پیار کرنے والوں کا بس یہی فسانہ ہے اک دیا تو روشن ہے اک دیا جلانا ہے ان کو بھول جائیں ہم دیکھ بھی نہ پائیں ہم یہ بھی کیسے ممکن ہے ایسا کس نے مانا ہے بارشوں کے موسم میں ہم کو یاد آتے ہیں وہ جو اب نہیں ملتے ان کو یہ بتانا ہے بس انہی پہ مرتے ہیں جن سے پیارکرتے ہیں پیار کرنے والوں کو...
  4. پ

    نظم - نئی رت - حسن رضوی

    نئی رت وہ جو بکھرے بکھرے تھے قافلے وہ جو دربدر کے تھے فاصلے انہی قافلوں کے غبار میں انہی فاصلوں کے خمار میں کئی جلتے بجھتے چراغ تھے نئے زخم تھے نئے داغ تھے نہ شبوں میں دل کو قرار تھا نہ دنوں کا چہرہ بہار تھا نہ تھیں چاند، چاند وہ صورتیں سبھی ماند ماند سی مورتیں جو تھیں گرد ہی میں...
  5. پ

    نظم - بہت سے دکھ ہیں - حسن رضوی

    بہت سے دکھ ھیں انہی دکھوں میں تمہارا دکھ بھی چھپا ھوا ھے حسن رضوی
  6. فرخ منظور

    کبھی کتابوں میں پھول رکھنا، کبھی درختوں پہ نام لکھنا - حسن رضوی

    کبھی کتابوں میں پھول رکھنا، کبھی درختوں پہ نام لکھنا ہمیں بھی ہے یاد آج تک وہ نظر سے حرفِ سلام لکھنا وہ چاند چہرے وہ بہکی باتیں، سلگتے دن تھے، سلگتی راتیں وہ چھوٹے چھوٹے سے کاغذوں پر محبتوں کے پیام لکھنا گلاب چہروں سے دل لگانا وہ چپکے چپکے نظر ملانا وہ آرزؤں کے خواب بننا وہ قصہء ناتمام...
Top